پاکستان کی تاریخ میں 5 جولائی 1977ء کا دن ایک ایسا سنگِ میل ہے جس نے ریاست کی سیاسی اور آئینی سمت کو گہرے انداز میں متاثر کیا۔ جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کر کے ملک پر نہ صرف تیسرا بلکہ طویل ترین مارشل لا مسلط کیا، بلکہ اگلے ایک دہائی کے دوران اس ریاست کو ایک بالکل مختلف سانچے میں ڈھال دیا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح کے جمہوری اور آئینی پاکستان کے تصور کو اس مارشل لا کے دوران ایک ایسے مذہبی اور انتظامی ڈھانچے سے بدل دیا گیا جو تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی ملکی نظام کا حصہ ہے۔

جنرل ضیاء کے اس منصوبے کی کامیابی کو سمجھنے کے لیے قیامِ پاکستان کے وقت موجود دو بنیادی دھاروں کو سمجھنا ضروری ہے۔ 1940ء کی قراردادِ لاہور سے لے کر 11 اگست 1947ء کو قانون ساز اسمبلی سے قائدِ اعظم کے خطاب تک، تحریکِ پاکستان کا بنیادی مقصد مسلم اکثریتی علاقوں کے لیے سیاسی و آئینی حقوق کا حصول تھا۔ تاہم 1945 اور 1946 کے انتخابات کے دوران جہاں لیگ کی اعلیٰ قیادت سیاسی مطالبات پر زور دے رہی تھی، وہیں پنجاب اور خیبر پختونخوا جیسے علاقوں میں 'مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ' جیسے مذہبی نعرے عام استعمال ہوئے۔ اس سے تحریک کے اندر دو گروہ بن گئے: ایک وہ جو جموریت اور آئینی ضمانتوں پر یقین رکھتا تھا اور دوسرا وہ جو ریاست کو مذہبی سانچے میں دیکھنے کا خواہاں تھا۔

ابتدائی آئینی کشمکش اور مذہبی گروہوں کا اثر و رسوخ

قیامِ پاکستان کے فوراً بعد مذہبی جماعتوں نے، جنہوں نے ماضی میں تحریکِ پاکستان کی مخالفت کی تھی، اپنے مؤقف میں تبدیلی لاتے ہوئے پاکستان کو ایک مذہبی ریاست بنانے کے مطالبات شروع کر دیے۔ مولانا مودودی جیسے علماء نے پاکستان منتقل ہو کر اپنی تحریروں میں ترمیم کی اور سرکاری تحویل میں کام کرنے والے اداروں اور ریڈیو کے ذریعے اپنے افکار کی اشاعت شروع کی، اگرچہ بعد میں کشمیر کی جنگ کے معاملے پر ان کا حکومت سے اختلاف پیدا ہوا۔ فروری 1948ء میں علماء نے حکومت کو ایک چارٹر پیش کیا، اور مارچ 1949ء میں منظور ہونے والی 'قراردادِ مقاصد' نے، جس میں حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے سپرد کی گئی، مذہبی گروہوں کو ایک قانونی و سیاسی بنیاد فراہم کر دی۔ اس وقت اسمبلی کے ایک کانگریسی رکن نے متنبہ بھی کیا تھا کہ یہ قرارداد کسی ایسے مہم جو کے لیے راستہ ہموار کر سکتی ہے جو خود کو خدا کا مقرر کردہ نمائندہ قرار دے دے۔

1953ء میں احمدی تحریک کے خلاف ہونے والے ہنگاموں کو تو فوجی انتظامیہ نے امن و امان کے نام پر کنٹرول کر لیا، لیکن 1956ء کے آئین میں ریاست کا نام 'اسلامی جمہوریہ پاکستان' رکھنا اور صدر کے لیے مسلمان ہونے کی شرط عائد کرنا بنیادی پیش رفت ثابت ہوئی۔ ایوب خان کے دور میں اگرچہ 1962ء کے آئین سے ابتدائی طور پر 'اسلامی' کا لفظ ہٹایا گیا اور اوقاف کے ذریعے مساجد کو تحویل میں لیا گیا، لیکن 1965ء کے صدارتی انتخابات میں فاطمہ جناح کی حمایت کے لیے بننے والے سیاسی اتحاد میں مذہبی جماعتیں دوبارہ سیاسی دھارے میں مضبوط ہو کر ابھریں۔

بھٹو دور کی مراعات اور ضیاء الحق کے اقدامات

ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت نے آگے چل کر ضیاء الحق کے لیے ایک وسیع پلیٹ فارم تیار کیا۔ 1973ء کے آئین میں اسلام کو مملکت کا سرکاری مذہب قرار دیا گیا اور اسلامی نظریاتی کونسل کو وسیع اختیارات دیے گئے۔ 1974ء میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد ہوا، اور اسی سال ستمبر میں پارلیمنٹ نے ترمیم کے ذریعے احمدیوں کو غير مسلم قرار دیا۔ 1977ء میں اپوزیشن کی 'نظامِ مصطفیٰ' تحریک کے بعد بھٹو حکومت نے شراب کی فروخت پر پابندی اور جمعہ کی ہفتہ وار چھٹی جیسے فیصلوں کا اعلان کیا، لیکن یہ اقدامات انہیں فوجی تاخت سے نہ بچا سکے۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے 1978ء سے 1985ء کے درمیان یکے بعد دیگرے ایسے اقدامات کیے جنھوں نے ملکی قانون اور نظامِ حکومت کو یکسر بدل دیا۔ وفاقی شرعی عدالت کا قیام عمل میں لایا گیا، زکوۃ و عشر کی سرکاری سطح پر وصولی شروع کی گئی، اور تعزیراتِ پاکستان میں ترمیم کر کے توہینِ رسالت اور توہینِ قرآن کے لیے شدید سزائیں نافذ کی گئیں۔ اس کے علاوہ، پارلیمنٹ کا نام تبدیل کر کے 'مجلسِ شوریٰ' رکھا گیا، غیر حزبی بنیادوں پر انتخابات کرائے گئے، اور قراردادِ مقاصد کو آئین کا باقاعدہ اور متحرک حصہ بنا دیا گیا۔ تعلیمی نصاب میں مذہبی مواد میں نمایاں اضافہ کیا گیا اور دینی مدارس کو سرپرستی فراہم کی گئی۔

آئینی اثرات اور نظام کی بقا

جنرل ضیاء کے نفاذ کردہ ان فیصلوں کی بقا کا بڑا سبب یہ رہا کہ ان کی وفات کے بعد آنے والی سیاسی حکومتیں ان آئینی و قانونی ترامیم کو منسوخ کرنے میں ناکام رہیں۔ مذہبی حلقوں کے شدید ردِعمل اور سیاسی نقصان کے خوف سے مرکزی سیاسی جماعتوں نے ان قوانین کو چیلنج کرنے سے گریز کیا۔ دوسری جانب، عدلیہ نے بھی منتخب پارلیمان کی خاموش توثیق کا سہارا لیتے ہوئے ان ترامیم پر ہاتھ ڈالنے سے معذرت کی۔ اس صورتِ حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ضیاء الحق کا نام آئین کی دفعہ 270-A سے نکالنے میں 22 سال، پانچ عام انتخابات اور اپریل 2010ء تک کا وقت لگا۔

اس دور میں افغان جنگ نے بھی جنرل ضیاء کے اقتدار اور بیانیے کو بین الاقوامی اور داخلی سطح پر مضبوط کیا۔ آج پاکستان جس آئینی و سماجی بندوبست کے تحت کام کر رہا ہے، اس کے خدوخال 1977ء کے اس مارشل لا اور اس سے جڑے تاریخی واقعات کی ہی دین ہیں۔