پاکستان کی سیاسی تاریخ میں وقتاً فوقتاً ایسی تحریکیں جنم لیتی رہی ہیں جو وقت کی طاقتور برادریوں کو چیلنج کرتی ہیں اور انصاف و قانون کی بالادستی کا وعدہ کر کے عوامی تصورات پر چھا جاتی ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف بھی ایک ایسی ہی تحریک کے طور پر ابھری۔ اس کا بنیادی نعرہ ایک ایسا پاکستان تھا جہاں معاشی، سماجی اور سیاسی انصاف کا بول بالا ہو۔ اس بیانیے نے ملک کے کروڑوں شہریوں اور بالخصوص نوجوانوں کو متحرک کیا اور ایک وقت کے لیے ایسا لگا جیسے ملکی سیاست کا رخ بدل چکا ہے۔
تاہم، چند ہی سالوں کے اندر وہ سیاسی جوش و خروش تنظیمی انتشار میں بدلتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ آج تحریکِ انصاف مستقبل کی حکمتِ عملی مرتب کرنے کے بجائے الجھن، قیادت کی غیر موجودگی اور ادارہ جاتی ابتری سے نبرد آزما ہے۔ عام طور پر اس کا ملبہ ریاستی سختیوں اور سیاسی انجینئرنگ پر ڈالا جاتا ہے، لیکن اگر بنظرِ غائر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس بحران کی جڑیں جماعت کے اندرونی ساختاری نقائص اور ادارہ جاتی کمزوریوں میں بھی پیوست ہیں۔
شخصیت پرستی اور ادارہ جاتی خلا
عمران خان کی کرشماتی شخصیت نے تحریکِ انصاف کو ایک بڑی عوامی مقبولیت تو بخشی، مگر وہ اسے ایک منظم اور پائیدار سیاسی جماعت میں ڈھالنے میں ناکام رہے۔ یہ پارٹی نظریاتی اور ساختاری بنیادوں پر استوار ہونے کے بجائے صرف جذبات، نعرے بازی اور فردِ واحد کی شخصیت کے گرد گھومتی رہی۔ جماعت کے اندر جمہوریت کے فروغ، قیادت کی مرحلہ وار منتقلی کے واضح طریقہ کار اور احتساب کے شفاف نظام پر کوئی مسلسل کام نہیں کیا گیا۔ اس کا نتیجہ آج ایک ایسی پارٹی کی صورت میں سامنے ہے جس کے پاس ووٹرز کا بڑا حصہ تو موجود ہے لیکن ایک واضح تنظیمی ڈھانچہ اور حکمتِ عملی موجود نہیں ہے۔
یہ مسئلہ صرف ایک فرد یا جماعت تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان کی مجموعی سیاسی ثقافت کی عکاسی کرتا ہے۔ ملکی سیاست میں افراد سے وفاداری کو اصولوں اور عمل پر ترجیح دی جاتی ہے۔ سیاسی جماعتیں نظام کے بجائے رہنماؤں کی ذات پر بنتی ہیں، اور کسی بانی کے بعد بھی جماعت کا ادارہ جاتی طور پر قائم رہنا ہمارے ہاں ایک ناآشنا تصور ہے۔ تحریکِ انصاف کا موجودہ بحران اسی روایتی سیاسی کلچر کا شاخسانہ ہے جہاں جذبات کو حکمتِ عملی اور تصادم کو مفاہمت پر فوقیت دی جاتی ہے۔
دوسری صف کی قیادت اور مستقبل کا چیلنج
عمران خان کی گرفتاری اور اعلیٰ قیادت کے بکھرنے کے بعد جو خلا پیدا ہوا، اس نے دوسری صف کی قیادت کی ساختاراتی کمزوری کو نمایاں کر دیا۔ تحریکِ انصاف اپنی سیاسی پیش رفت کے دوران ایسا نظریاتی کیڈر یا سیاسی فکر تیار کرنے میں ناکام رہی جو بحران کے وقت جماعت کی رہنمائی کر سکتا۔ عمران خان کے گرد موجود قیادت نے بھی شاذ و نادر ہی کوئی متبادل سیاسی سوچ پیش کی یا ادارے بنانے میں دلچسپی دکھائی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج جو آوازیں سامنے آتی ہیں ان میں غصہ اور مقاومت تو نظر آتی ہے مگر سیاسی بصیرت اور واضح سمت کا فقدان ہے۔
اس تمام تر تنظیمی ابتری کے باوجود، اس بیانیے کی جڑیں عوام میں اب بھی موجود ہیں۔ انصاف کی خواہش اور اشرافیہ کے نظام کے خلاف عوامی غصہ ختم نہیں ہوا۔ تاہم، اگر اس سیاسی سوچ کو کسی پائیدار تنظیمی اور ادارہ جاتی سانچے میں نہ ڈھالا جائے تو یہ جذبات یا تو انتشار کا شکار ہو جاتے ہیں یا وقت کے ساتھ ساتھ مایوسی میں بدل جاتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں تحریکیں اٹھتی اور بیٹھتی رہی ہیں، لیکن جب تک سیاسی جماعتیں اپنے بانیوں سے آگے بڑھ کر ادارہ جاتی استحکام، اندرونی جمہوریت اور طویل المدتی حکمتِ عملی کو نہیں اپنائیں گی، سیاسی و جمہوری سفر اسی طرح کے بحرانوں کا شکار رہے گا۔





تبصرے