افغانستان کے تاریخی شہر ہرات کی تنگ گلیوں میں قائم مٹی سے بنی ایک کمرے کی چھوٹی ورکشاپس کے اندر آج بھی صدیاں پرانی ایک روایت پوری آب و تاب کے ساتھ سانس لے رہی ہے۔ یہ ہرات کی روایتی شیشہ سازی ہے، جہاں کاریگر ایک ہی مٹی کی بھٹی کے سامنے بیٹھ کر آگ اور ہوا کے باہمی امتزاج سے سرخ گرم پگھلے ہوئے شیشے کو دلکش اور نفیس شکلوں میں ڈھالتے ہیں۔

ہرات میں شیشہ سازی کی تکنیک اس قدر قدیم ہے کہ اس کے بنیادی اصول قدیم کیلیائی تحریروں (cuneiform tablets) میں ملنے والے طریقوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔ 1960ء کی دہائی تک پہنچتے پہنچتے یہ صنعت سمٹ کر چند چھوٹی فیکٹریوں تک محدود ہو چکی تھی، جن میں سے ایک ورکشاپ ایسا خاندان چلا رہا تھا جو مسلسل دو سو سال سے شیشہ سازی کے اس شعبے سے منسلک تھا۔

صحرائی پودے اور چمک پیدا کرنے کی روایتی حکمت

اس روایتی ہنر کا سب سے منفرد پہلو شیشے کو چمکدار بنانے (Glaze) کا قدیم طریقہ تھا، جو استالف کی روایتی برتن سازی سے بھی ملتا جلتا ہے۔ ماضی میں کاریگر ندی نالوں کے پیندے سے حاصل ہونے والے سفید کوارٹز اور صحرائی پودے ’عشکار‘ کی راکھ کو ملا کر شیشے پر قدرتی چمک لاتے تھے۔ عشکار کو ایک گڑھے میں جمع کر کے جلایا جاتا اور راکھ کو رات بھر ٹھنڈا ہونے دیا جاتا تھا۔ شمال افغانستان کے خانا بدوش لوگ اس راکھ سے صابن بناتے تھے اور اس کا کچھ حصہ شیشہ گروں کو فروخت کر دیتے تھے۔ قدیم کاریگر عشکار کی کوالٹی کا اندازہ اس کی راکھ کو چکھ کر لگاتے تھے؛ ان کا ماننا تھا کہ راکھ کا ذائقہ جتنا میٹھا ہوگا، شیشے کی چمک اور معیار اتنا ہی اعلیٰ ہوگا۔ تاہم موجودہ دور میں اس روایتی طریقے کی جگہ جدید کیمیائی گلیز نے لے لی ہے۔

شیشے کو شکل دینے کا عمل مکمل طور پر دستی مہارت پر مبنی ہے۔ کاریگر لوہے کی لمبی پائپ کے ذریعے پگھلے ہوئے شیشے میں ہوا کی پھونک مار کر اسے بلبلے کی شکل دیتے ہیں جسے 'پریسن' کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسے اسٹیل کی ہموار سلیب (Marver) پر گھما کر ٹھنڈا کیا جاتا ہے اور مختلف پیالیوں، گلاسوں اور برتنوں کی شکل میں ڈھالا جاتا ہے۔

ہرات کا یہ دستی شیشہ آج کے صنعتی اور فیکٹری دور میں بھی اپنی مخصوص ساخت، بلبلوں کی خوبصورتی اور انفرادیت کی وجہ سے الگ پہچان رکھتا ہے۔ خاص طور پر یورپ کی بین الاقوامی مارکیٹ میں ہاتھ سے بنے اس افغان شیشے کی مسلسل مانگ نے اس نایاب ثقافتی ورثے کو مکمل ختم ہونے سے بچا رکھا ہے اور مقامی کاریگروں کے روزگار کا ایک اہم سہارا بنا ہوا ہے۔