شمالی وزیرستان کے سرحدی گاؤں شیگہ زلوئل خیل کی سات سالہ آئنہ وزیر جب گلی میں بیٹ سے گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھا رہی تھی تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ ویڈیو اس معصوم بچی اور اس کے خاندان کے لیے مشکلات کا نیا باب کھول دے گی۔ پشاور زلمی کے سی ای او جاوید آفریدی نے آئنہ کی استعداد دیکھ کر اسے زلمی ویمنز لیگ میں شامل کرنے، کھیل کا سامان اور تربیت فراہم کرنے کی پیشکش کی، لیکن خوشی کے یہ لمحات بہت مختصر ثابت ہوئے۔ وائرل ویڈیو مقامی شدت پسندوں کی نظر چڑھ گئی جنہوں نے ویڈیو بنانے والے مقامی استاد زفران وزیر کو اغوا کر کے مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا اور عمومی معافی مانگنے پر مجبور کیا۔ شدت پسندوں نے خاندان کو واضح دھمکی دی کہ آئنہ گاؤں سے باہر نہیں جائے گی اور نہ ہی کسی پیشکش کو قبول کرے گی۔
بھیس بدل کر کھیلنے سے شہر بدر ہونے تک
وزیرستان اور دیگر قبائلی اضلاع کی بیٹیوں کے لیے کھیل کی دنیا میں قدم رکھنا ہمیشہ سے آبلہ پا سفر رہا ہے۔ 28 سالہ اسکوائش کھلاڑی نورینہ شمس، جن کا تعلق دیر سے ہے، کہتی ہیں کہ آئنہ کی ویڈیو دیکھ کر انہیں اپنا ماضی یاد آ گیا۔ نورینہ کے مطابق آئنہ کے پاس بھی ان کی طرح ایسا باپ نہیں جو اس کے لیے دنیا سے لڑ سکے۔ قبائلی سماج میں خواتین کے عوامی منظرنامے پر آنے کو ہی نامناسب سمجھا جاتا ہے۔ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی 35 سالہ بین الاقوامی اسکوائش کھلاڑی ماریہ طورپیکئی کو بھی اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے بال کٹوانے پڑے، لڑکوں کے کپڑے پہننے پڑے اور اپنا نام ’چنگیز خان‘ رکھنا پڑا۔
اسی طرح سابق نمبر ون اسکوائش کھلاڑی سعدیہ گل، 2022 میں پاکستان کی تیز ترین سپرنٹر بننے والی تمین خان اور کرکٹر سلمیٰ فیض کو بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور کرک سے پشاور منتقل ہونا پڑا تاکہ وہ مسلسل عوامی تنقید اور سماجی دباؤ سے بچ سکیں۔ چھ بھائیوں کی اکلوتی بہن سلمیٰ فیض بتاتی ہیں کہ اگر گھر کے مرد رکاوٹ نہ بنیں تو چاچے، مامے اور پڑوسی لڑکیوں کے آنے جانے کے منٹ گننے لگتے ہیں۔ کوچز، لباس اور کھیلنے کی جگہوں پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور والدین کو ورغلایا جاتا ہے۔ سلمیٰ نے بھائی کی مخالفت کے باوجود کرکٹ نہیں چھوڑی اور بالآخر قومی ٹیم میں جگہ بنائی، وہ اس وقت شہید بے نظیر بھٹو ویمنز یونیورسٹی پشاور میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔
ریاستی بے حسی اور خود روزگار کے ادارے
جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی 36 سالہ صحافی رضیہ محسود کے مطابق عام لوگ ایک طرف شدت پسندوں کے خوف اور دوسری طرف بارودی سرنگوں، ڈرونز اور فوجی آپریشنز کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں اور شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔ دوسری جانب 27 سالہ مذہبی رہنما مفتی اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ بچپن میں کرکٹ کھیلنے پر اعتراض نہیں لیکن بالغ ہونے کے بعد پینٹ شرٹ پہن کر عوامی جگہوں پر بھاگنا پشتون روایات اور اسلامی قدروں کے خلاف ہے۔ اس پر ماریہ طورپیکئی کا موقوف ہے کہ جب بھی کوئی لڑکی بلا یا گیند تھامتی ہے تو اسلام کو خطرہ لاحق کر دیا جاتا ہے، جبکہ خطے میں منشیات، کم عمری کی شادی، بچہ بازی اور ایچ آئی وی جیسے حقیقی مسائل پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔
ان تمام تر مشکلات کے باوجود یہ کھلاڑی اب نئی نسل کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔ سلمیٰ فیض نے قبائلی علاقوں کی کھلاڑی لڑکیوں کے لیے اپنے گھر کے دروازے کھول رکھے ہیں اور جگہ کم پڑنے پر ہاسٹل کا بندوبست کرتی ہیں۔ نورینہ شمس اپنا فاؤنڈیشن چلا رہی ہیں جو ماہانہ وظائف اور سپورٹس کٹ فراہم کرتا ہے، جبکہ ماریہ طورپیکئی نے اسلام آباد کے قریب چھ ایکڑ زمین پر سپورٹس سکول بنانے کی تجویز دی ہے، مگر گزشتہ دو سال سے یہ فائل سرکاری دفتروں کی سرخ فیتی کا شکار ہے۔ ریاستی سرپرستی اور تحفظ کے بغیر قبائلی اضلاع کی نایاب صلاحیتیں یونہی گمنامی کے اندھیروں میں ضائع ہوتی رہیں گی۔





تبصرے