پاکستان کا جنوبی ساحلی منظرنامہ ایک ایسی قدرتی شادابی اور جغرافیائی تنوع کا حامل ہے جس کی مثال خطے میں کم ہی ملتی ہے۔ کراچی کے مصروف ساحلوں کلفٹن اور ہاکس بے سے شروع ہونے والی یہ ساحلی پٹی بلوچستان کے صحراؤں، عجیب و غریب پہاڑی سلسلوں اور کھلے سمندر سے ہوتی ہوئی گوادر تک پھیلتی ہے۔ مکران کوسٹل ہائی وے (این-10) پر سفر کرتے ہوئے مسافر کو نہ صرف سنہری ریت کے ٹیلے ملتے ہیں بلکہ ہوا کے کٹاؤ سے بنے قدرتی مجسمے اور نایاب جنگلی حیات بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔
کراچی کی سرحد حب چوکی کو عبور کر کے جب بلوچستان کی حدود میں داخل ہوتے ہیں تو پہلا اہم موڑ گدانی کا ساحل ہے، جسے ناکارہ بحری جہازوں کی گودی اور 'جہازوں کے قبرستان' کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہاں سے آگے اوتھل کے مقام پر این-25 قومی شاہراہ سے الگ ہو کر مکران کوسٹل ہائی وے کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔ اس شاہراہ کے اطراف جہاں ایرانی سرحد سے آنے والے پیٹرول، گھی اور بسکٹس کی دکانیں نظر آتی ہیں، وہیں قریب ہی مٹی کے آتش فشاں واقع ہیں۔
چندر گپ کے مٹی کے آتش فشاں اور ہنگول نیشنل پارک
شاہراہ سے ہٹ کر ریتلے میدان میں 300 فٹ سے زائد بلندی پر چندر گپ کے مقدس مٹی کے آتش فشاں موجود ہیں۔ ان آتش فشاں پہاڑوں کے دہانے سے مٹی کے بلبلے نکلتے ہیں، اور ہر سال اپریل کے مہینے میں ہندو زائرین ہنگلاج ماتا مندر (نانی مندر) سے 21 کلومیٹر کا پیدل سفر طے کر کے یہاں مذہبی رسومات کے لیے آتے ہیں۔
چندر گپ سے آگے کندھ ملیر کی خاموش ماہی گیر بستی سے گزرتے ہی 1,650 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلا 'ہنگول نیشنل پارک' شروع ہو جاتا ہے۔ یہ علاقہ کیچ کے میدانی علاقوں سے لے کر آواران کی بلند چوٹیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ گولڈن بیچ پر طلوعِ آفتاب کے وقت سمندر کی لہروں میں ڈولفن مچھلیوں کے جھنڈ ابھرتے ہیں، جبکہ ہنگول ندی پر بنے پل کو عبور کرتے ہی بوزی پاس کا درہ آ جاتا ہے۔
سُپٹ بندر کی نیلی روشنائیاں اور قدرتی مجسمے
بوزی پاس کے قریب دلدلی راستوں سے 12 کلومیٹر اندر کی طرف سفر کر کے سُپٹ بندر کا ساحل آتا ہے۔ سُپٹ بندر دنیا کے ان چند نایاب ساحلوں میں شامل ہے جہاں رات کے وقت 'بائیو لیومینسینس' (Bioluminescence) نامی قدرتی کیمیائی عمل کے باعث سمندر کی لہریں نیلی روشنی سے جگمگا اٹھتی ہیں۔
اس خطے میں ہوا اور موسم کی قدرتی تراش خراش سے بنے پہاڑی سلسلے موجود ہیں، جن میں 'پچری' کا مریخ جیسا منظرنامہ اور 'پرنسس آف ہوپ' (امید کی شہزادی) اور ابوالہول (Sphinx) جیسے قدرتی مجسمے خاص طور پر سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ ہنگول کے ان پہاڑوں کے درمیان مارخور اور آئی بیکس جیسے نایاب جنگلی جانور بھی آزادانہ گھومتے نظر آتے ہیں۔
پسنی کی کونجیں اور گوادر کا کوہِ باطل
اورماڑہ سے آگے بڑھتے ہی شاہراہ ایک بار پھر وسیع ریتلے میدانوں میں داخل ہوتی ہے۔ پسنی کے ساحل پر سائبیریا سے ہجرت کر کے آنے والے پرندے، بالخصوص کونجیں، سردیوں کے ایام میں ساحلی پانیوں میں پڑاؤ ڈالتی ہیں۔ ماہی گیروں کی ان بستیوں میں روایتی بلوچی ثقافت اور سمندر پر منحصر سادہ زندگی کے اثرات نمایاں ہیں۔
سفر کا اختتامی نقطہ گوادر کا شہر ہے، جہاں کوہِ باطل کی چوٹی سے طلوعِ آفتاب کے وقت گہرے پانی کی بندرگاہ اور سمندری لہروں کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ کراچی سے گوادر تک کا یہ راستہ یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کا ساحلی خطہ قدرتی خوبصورتی، سیاحت اور جغرافیائی اہمیت کا ایک انتہائی وسیع خزانہ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔





تبصرے