سطحِ سمندر سے تقریباً 4,300 میٹر کی بلندی پر واقع کرومبر جھیل پاکستان کے دور افتادہ اور خوبصورت ترین قدرتی اثاثوں میں شمار ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کی وادیِ بروغل اور گلگت بلتستان کی وادیِ اشکومن کے سنگم پر موجود یہ جھیل نہ صرف پاکستان کی دوسری بلکہ دنیا کی 31 ویں بلند ترین متحرک جھیل ہے۔ اس نیلی جھیل تک پہنچنے کا سفر محض ایک سیاحتی سیر نہیں بلکہ ہندوکش کے بلند و بالا پہاڑی سلسلے، کٹھن راستوں اور وادی کے رہنے والوں کی سادہ مگر پرخلوص زندگی کو قریب سے دیکھنے کا نام ہے۔

چترال تک رسائی کا اہم ترین ذریعہ لواری ٹنل ہے، جو دیر اور چترال کے اضلاع کو آپس میں ملاتی ہے۔ ماضی میں شدید سردیوں کے دوران چترال کا بقیہ ملک سے رابطہ منقطع ہو جاتا تھا اور خوراک کی نقل و حمل کے لیے افغانستان کا راستہ استعمال کرنا پڑتا تھا۔ سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس ٹنل کی تعمیر کا اعلان ہوا تھا، تاہم دہائیوں کے التوا کے بعد پرپیز مشرف کے دور میں اس منصوبے پر باقاعدہ کام شروع ہوا۔ لواری ٹنل کو عبور کرنے کے بعد دروش اور دریائے چترال کے ساتھ سفر کرتے ہوئے چترال شہر کا آغاز ہوتا ہے، جہاں کی تاریخی شاہی مسجد سابق مہترِ چترال شجاع الملک نے پشاور کی سنہری مسجد کی طرز پر تعمیر کروائی تھی۔

تقریباً پانچ لاکھ کی آبادی پر مشتمل ضلع چترال 1947 میں پاکستان سے الحاق کر چکا تھا، جبکہ برطانوی راج کے دوران یہ علاقہ گلگت بلتستان کے ضلع غذر کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ چترال سے بروغل وادی کا فاصلہ تقریباً 250 کلومیٹر ہے، جہاں تک پہنچنے کے لیے ماستوج کے سنگلاخ راستوں اور وادیِ یارخون سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ سفر انتہائی تھکا دینے والا اور کچا ہے، جہاں جیپیں پتھریلی ڈگر پر ہچکولے کھاتی ہوئی آگے بڑھتی ہیں۔

واخی ثقافت، یاک اور وادیِ بروغل کی معیشت

وادیِ بروغل میں داخل ہوتے ہی جغرافیائی منظرنامہ اور مقامی زندگی یکسر بدل جاتی ہے۔ افغانستان کی واخان راہداری سے متصل اس وادی کی سرحدیں ایک طرف گلگت بلتستان اور دوسری طرف افغانستان سے ملتی ہیں۔ بروغل سے لے کر اپر ہنزہ کی گوپال وادی تک کے مقامی لوگ 'واخی' زبان بولتے ہیں۔ واخی ایک شفاہی زبان ہے جس کا کوئی تحریری رسم الخط نہیں، اسی لیے باہر سے آنے والوں کے لیے اسے سمجھنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

اس خطے کے لوگوں کا گزر بسر اور معیشت بنیادی طور پر یاک (ہمالیائی گائے) کی پرورش پر منحصر ہے۔ شدید سردیوں کے موسم میں جب وادی میں 5 سے 6 فٹ تک برف باری ہوتی ہے اور تمام زمینی راستے بند ہو جاتے ہیں، تو مقامی آبادی برف باری سے قبل اپنے یاک چترال کے بازاروں میں بیچ کر پورے موسمِ سرما کے لیے راشن اور ضروریاتِ زندگی کا سامان خریدتی ہے۔ جیپ کا آخری اسٹاپ گھریل گاؤں ہے، جس کے بعد کرومبر جھیل تک پہنچنے کے لیے 24 کلومیٹر کا پیدل سفر شروع ہوتا ہے۔

لشکرگز اور لیلیٰ رباط سے کرومبر جھیل کا ٹریک

گھریل سے آگے سفر صرف پیدل یا یاک اور گھوڑوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ راستے میں لشکرگز، شوار شیر اور لیلیٰ رباط جیسے چھوٹے دیہات اور کیمپ سائیٹس آتی ہیں۔ شوار شیر 15 سے 16 گھرانوں پر مشتمل آخری انسانی آبادی ہے، جہاں کے مقامی بزرگ مسافروں کی تواذن یاک کے دودھ سے بنی دہی اور لسی سے کرتے ہیں۔ شمالی علاقوں کی روایت کے مطابق یہاں کی مہمان نوازی بے مثال ہے۔ مقامی طالب علم اور پورٹر، جیسے اسلام آباد میں زیرِ تعلیم نوجوان سیف اللہ، سیاحتی سیزن کے دوران مسافروں کی رہنمائی کر کے اپنے خاندان کی مالی معاونت کرتے ہیں۔

لشکرگز اور لیلیٰ رباط کی وسیع و عریض چراہ گاہوں سے گزرتے ہوئے موسم منٹوں میں بدلتا ہے۔ شدید ہواؤں، تیز بارش اور یکدم گرتے ہوئے درجہ حرارت کو عبور کرنے کے بعد جب مسافر کرومبر جھیل کے کنارے پہنچتا ہے تو چاروں طرف پھیلی خاموشی، برف پوش چوٹیاں اور جھیل کا گہرا نیلا پانی تمام تھکاوٹ بھلا دیتا ہے۔ یہ جھیل قدرت کا ایک ایسا انمول تحفہ ہے جو ہندوکش کے اس دور افتادہ کونے میں خاموشی سے اپنے جلوے بکھیر رہا ہے۔