تازہ خبریں
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا اہم آپریشن، 10 دہشت گرد ہلاکحکومت پاک ایران گیس پائپ لائن پر ٹرمپ سے ہم پر عائد پابندی ہٹانے کا کہے: راجہ ناصر عباسنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حملے کی شدید مذمت، 3 پاکستانیوں کی شہادت پر تعزیتملک بھر میں پیٹرول کی قیمت میں 1.70 روپے فی لیٹر کمی کا اعلاناسٹیٹ بینک آف پاکستان کا شرح سود میں کمی کا امکان
LIVE
Bitcoin rises above $80,000 as soft dollar, debasement fears boost momentumDocumentary NAZA on 'mass killing of Palestinian civilians' vying for Golden Lion at Venice Film Festival

سیاست

مزید تازہ خبریں

Pakistani lawyers in black suits holding case files outside a High Court building while media reporters record footage.2007ء کی وکلاء تحریک اور آج کا پاکستان: آئینی بحران کے باوجود عوامی تحرک غائب کیوں؟

2007ء سے 2009ء کے دوران پاکستان میں چلنے والی وکلاء تحریک نے ناصرف ججوں کی بحالی بلکہ آمریت کے خاتمے اور جمہوری نظام کی واپسی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ تاہم آج آئینی تحفظات اور عدلیہ کی آزادی پر بحث کے باوجود ماضی جیسا کوئی عوامی تحرک نظر نہیں آتا۔ میڈیا پر پابندیوں، بار ایسوسی ایشنز کی سیاسی دھڑے بندیوں اور عدالتی نظام میں عوامی اصلاحات کی عدم موجودگی کے باعث عام شہریوں کا اعتماد مجروح ہوا ہے۔ اس تجزیے میں ان اسباب کا احاطہ کیا گیا ہے جن کی وجہ سے آج اجتماعی آئینی مزاحمت غائب ہے اور سیاسی قیادت پر کیا ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں۔

Three Pakistani women in traditional attire reviewing legal files and the 1973 Constitution of Pakistan on an official desk.1973ء کے آئین کی ’بانی مائیں‘: پاکستان کی دستوری تاریخ کا خاموش مگر درخشاں باب

پاکستان کا 1973ء کا آئین جمہوری طور پر منتخب پارلیمان سے منظور ہونے والی پہلی متفقہ دستوری دستاویز تھا، مگر اس کی تدوین میں خواتین کے اہم کردار کو تاریخی طور پر شاذ و نادر ہی اجاگر کیا جاتا ہے۔ اس تاریخی دستاویز پر دستخط کرنے والے منتخب نمائندوں میں تین خواتین—بیگم نسیم جہاں، ڈاکٹر اشرف عباسی اور جینیفر جہانزیب موسیٰ قاضی شامل تھیں۔ انہوں نے ایوان میں کم تعداد کے باوجود آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت، قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے مخصوص نشستیں، اسلامی نظریاتی کونسل میں نمائندگی اور ملک میں بلدیاتی نظام کی بنیاد رکھوائی۔

Journalist workspace with handwritten notes, a political family tree chart, and parliamentary reports on a desk overlooking Islamabad.موروثی سیاست اور ’نیپو بیبیز‘: پاکستان سمیت دنیا بھر میں سیاسی خاندانوں کا تسلط اور جمہوریت کے لیے درپیش چیلنجز

پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں سیاسی اقتدار کی باگ ڈور روایتی خاندانوں اور موروثی قیادت کے ہاتھوں میں چلی آ رہی ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا، لاطینی امریکہ اور مغرب تک پھیلے اس رجحان میں سابق حکمرانوں کی اولاد، شریکِ حیات یا رشتہ دار اپنے خاندانی نام کی بدولت اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔ اگرچہ تحریکِ انصاف کے ابھار سے پاکستان میں اس روایت پر دباؤ پڑا، مگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی صورت میں موروثی سیاست اب بھی مضبوط ہے۔ ماہرین کے مطابق موروثی سیاست نہ صرف میرٹ اور جمہوری اداروں کو کمزور کرتی ہے بلکہ معاشی اصلاحات اور ابھرتے ہوئے شہری وسطی طبقے کی توقعات کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہے۔

Pakistani police personnel arresting women political activists during an anti-dictatorship rally.پاکستان میں جمہوریت اور آمریت کا تصادم: مارشل لا کی تاریخ اور عوام کا مزاحمتی سفر

پاکستان کی 75 سالہ سیاسی تاریخ غیر آئینی اقدامات، فوجی تسلط اور جمہوری اداروں کے درمیان ایک مسلسل کشمکش پر محیط ہے۔ ایوب خان کے 'ترقیاتی عشرے' سے لے کر جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار تک، غیر منتخب اداروں نے اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے عدالتوں اور کٹھ پتلی سیاست دانوں کو استعمال کیا۔ اس کے باوجود، عوام کی سیاسی بیداری اور جمہوری قوتوں کی مزاحمت نے ہر دور میں آمریت کا مقابلہ کیا۔ 1970 کے انتخابات، بیگم نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو کی جدوجہد، اور ایم آر ڈی کی تحریک اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں گہری ہیں اور عوام ہمیشہ منتخب نمائندگی کو ہی فوقیت دیتے ہیں۔