تازہ خبریں
خلا میں امریکی ہتھیاروں کی تنصیب: عالمی سیکیورٹی، 1967 کا معاہدہ اور خطرناک عسکری دوڑ کا آغازڈیجیٹل محاذ پر عسکریت پسندی: پاکستان میں آن لائن شدت پسندی کا پھیلاؤ، جدید ہتھکنڈے اور سدِ بابکوہاٹ پولیس لائنز مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران دھماکہ: ہلاکتیں، سیکیورٹی صورتحال اور درپیش چیلنجزپاکستان میں 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے کی افواہیں: سٹیٹ بینک کی وضاحت اور فیصلے کے پیچھے معاشی وجوہاتبلوچستان میں لیتھیم کی دریافت، غیر ملکی سرمایہ کاری اور عسکریت پسندوں کے حملے: اصل تنازع کیا ہے؟ناسا کو بادلوں کی تصاویر کی ضرورت کیوں؟ خلا سے زمین کے جائزے میں عام شہری کیسے مدد کر سکتے ہیںڈونلڈ ٹرمپ کا اے آئی کمپنیوں کے خلاف 'سازش' کا الزام؛ چین کے جاسوس چیف اور اقوامِ متحدہ کے شدید تحفظاتمصنوعی ذہانت کی تیز رفتار دوڑ کو روکنا کیوں مشکل ہو گیا؟ امریکی کمپنیاں، سیاسی دباؤ اور چین سے مقابلے کی مکمل کہانیاوپن اے آئی کے ایجنٹ کا ہگنگ فیس پر حملہ: کیا ’کِل سوئچ‘ بے قابو مصنوعی ذہانت کو روکنے کا حل ہے؟سڑکوں پر بدلتا منظرنامہ: الیکٹرک سکوٹی نے پاکستانی خواتین کو سفری اور معاشی آزادی کیسے دی؟پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا بدلتا روپ: من گھڑت الزامات، قانون کا استعمال اور اکثریت کا بڑھتا خوفتعزیراتِ ہند سے تعزیراتِ پاکستان تک: توہینِ مذہب کے قوانین کا ارتقا اور سیاسی و سماجی اثراتتین دہائیوں میں کیسز کی تسلسل سے آمد اور سیاسی استعمال: توہین کے قوانین کی سختیاں اور بڑھتے سوالاتمقامی حکومتیں: صوبائی دارالحکومتوں میں اٹکی ہوئی جمہوریت اور اختیارات کی نچلی سطح پر عدم منتقلیمرکز اور حاشیے کی کشمکش: استعماری طرزِ حکمرانی جو پاکستان کو پیچھے دھکیل رہا ہےہرات کا روایتی شیشہ: مٹی کی بھٹیوں، صحرائی پودے اور پھونک سے ڈھلتے صدیوں پرانے شاہکارپاک ایران راستوں پر رکاوٹیں: کیا 'لاپس لازولی راہداری' افغانستان کو متبادل تجارتی راستہ فراہم کر سکتی ہے؟ہرات کی 1800 سالہ قدیم شیشہ سازی کی صنعت کا آخری چراغ: ایک شیشہ گر اور دم توڑتا ورثہقوش تیپہ کینال پروجیکٹ: آمو دریا کا رخ موڑنے کا افغان منصوبہ وسطی ایشیا کے لیے نیا آبی بحران؟پاک افغان تجارت میں بڑا بریک ڈاون: 53 فیصد کمی اور سرحد پار معیشت کا خاموش بحرانباری اسٹوڈیوز: لاہور کے فلمی عروج کی ایک بکھرتی ہوئی یادکیا پنجابی سنیما پاکستان میں فلمی صنعت کی بحالی کی چابی ہے؟پردے کے پیچھے چھپا لالی وڈ کا معمار: اقبال رضوی کی ساٹھ سالہ فلمی داستانخالی ہال، مہنگے ٹکٹ اور فلموں کا قحط: پاکستانی سنیما کو درپیش بقا کا بحرانخاموش ہوتے پردے اور خالی سینما ہال: کیا پاکستانی فلمی صنعت اپنی بقا کی جنگ ہار رہی ہے؟
LIVE
US Dollar 278.44 PKREuro 317.69 PKRBritish Pound 368.77 PKRUAE Dirham 75.82 PKRSaudi Riyal 74.25 PKRKuwaiti Dinar 903.05 PKRQatari Riyal 76.49 PKRBahraini Dinar 740.53 PKROmani Rial 724.15 PKRChinese Yuan 41.00 PKRJapanese Yen 1.72 PKRIndian Rupee 2.94 PKRAfghan Afghani 4.39 PKRMalaysian Ringgit 68.41 PKRSingapore Dollar 215.27 PKRTurkish Lira 5.99 PKRCanadian Dollar 196.16 PKRAustralian Dollar 191.83 PKRSwiss Franc 344.45 PKRIslamabad 🌧 26°C Smoky hazeRawalpindi 🌧 29°C Smoky hazeLahore 🌧 30°C Smoky hazeKarachi ⛅ 27°C Partly CloudyQuetta ☀ 22°C ClearPeshawar 🌧 34°C Smoky hazeMultan 🌧 35°C Smoky hazeFaisalabad 🌧 32°C Smoky hazeGujranwala 🌧 30°C Smoky hazeSialkot 🌧 29°C Smoky hazeHyderabad ☀ 28°C ClearSukkur ☀ 34°C ClearBannu 🌧 36°C Smoky hazeDera Ismail Khan 🌧 37°C Smoky hazeAbbottabad 🌧 21°C Smoky hazeMansehra 🌧 21°C Smoky hazeChitral ☀ 16°C ClearMingora / Swat 🌧 19°C Smoky hazeKalam ☀ 8°C ClearMalam Jabba 🌧 19°C Smoky hazeNathia Gali 🌧 21°C Smoky hazeMurree 🌧 26°C Smoky hazeGilgit ☀ 19°C ClearSkardu ☀ 15°C ClearHunza ☀ 12°C ClearChilas ☀ 19°C ClearAstore ☀ 12°C ClearDir ☀ 14°C ClearKumrat Valley ☀ 8°C ClearNaran ⛅ 10°C Partly CloudyKaghan ⛅ 14°C Partly CloudyMuzaffarabad ⛅ 14°C Partly CloudyMirpur 🌧 31°C Patchy rain nearbyRawalakot 🌧 22°C Smoky haze

سیاست

مزید تازہ خبریں

Pakistani lawyers in black suits holding case files outside a High Court building while media reporters record footage.2007ء کی وکلاء تحریک اور آج کا پاکستان: آئینی بحران کے باوجود عوامی تحرک غائب کیوں؟

2007ء سے 2009ء کے دوران پاکستان میں چلنے والی وکلاء تحریک نے ناصرف ججوں کی بحالی بلکہ آمریت کے خاتمے اور جمہوری نظام کی واپسی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ تاہم آج آئینی تحفظات اور عدلیہ کی آزادی پر بحث کے باوجود ماضی جیسا کوئی عوامی تحرک نظر نہیں آتا۔ میڈیا پر پابندیوں، بار ایسوسی ایشنز کی سیاسی دھڑے بندیوں اور عدالتی نظام میں عوامی اصلاحات کی عدم موجودگی کے باعث عام شہریوں کا اعتماد مجروح ہوا ہے۔ اس تجزیے میں ان اسباب کا احاطہ کیا گیا ہے جن کی وجہ سے آج اجتماعی آئینی مزاحمت غائب ہے اور سیاسی قیادت پر کیا ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں۔

Three Pakistani women in traditional attire reviewing legal files and the 1973 Constitution of Pakistan on an official desk.1973ء کے آئین کی ’بانی مائیں‘: پاکستان کی دستوری تاریخ کا خاموش مگر درخشاں باب

پاکستان کا 1973ء کا آئین جمہوری طور پر منتخب پارلیمان سے منظور ہونے والی پہلی متفقہ دستوری دستاویز تھا، مگر اس کی تدوین میں خواتین کے اہم کردار کو تاریخی طور پر شاذ و نادر ہی اجاگر کیا جاتا ہے۔ اس تاریخی دستاویز پر دستخط کرنے والے منتخب نمائندوں میں تین خواتین—بیگم نسیم جہاں، ڈاکٹر اشرف عباسی اور جینیفر جہانزیب موسیٰ قاضی شامل تھیں۔ انہوں نے ایوان میں کم تعداد کے باوجود آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت، قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے مخصوص نشستیں، اسلامی نظریاتی کونسل میں نمائندگی اور ملک میں بلدیاتی نظام کی بنیاد رکھوائی۔

Journalist workspace with handwritten notes, a political family tree chart, and parliamentary reports on a desk overlooking Islamabad.موروثی سیاست اور ’نیپو بیبیز‘: پاکستان سمیت دنیا بھر میں سیاسی خاندانوں کا تسلط اور جمہوریت کے لیے درپیش چیلنجز

پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں سیاسی اقتدار کی باگ ڈور روایتی خاندانوں اور موروثی قیادت کے ہاتھوں میں چلی آ رہی ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا، لاطینی امریکہ اور مغرب تک پھیلے اس رجحان میں سابق حکمرانوں کی اولاد، شریکِ حیات یا رشتہ دار اپنے خاندانی نام کی بدولت اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔ اگرچہ تحریکِ انصاف کے ابھار سے پاکستان میں اس روایت پر دباؤ پڑا، مگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی صورت میں موروثی سیاست اب بھی مضبوط ہے۔ ماہرین کے مطابق موروثی سیاست نہ صرف میرٹ اور جمہوری اداروں کو کمزور کرتی ہے بلکہ معاشی اصلاحات اور ابھرتے ہوئے شہری وسطی طبقے کی توقعات کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہے۔

Pakistani police personnel arresting women political activists during an anti-dictatorship rally.پاکستان میں جمہوریت اور آمریت کا تصادم: مارشل لا کی تاریخ اور عوام کا مزاحمتی سفر

پاکستان کی 75 سالہ سیاسی تاریخ غیر آئینی اقدامات، فوجی تسلط اور جمہوری اداروں کے درمیان ایک مسلسل کشمکش پر محیط ہے۔ ایوب خان کے 'ترقیاتی عشرے' سے لے کر جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار تک، غیر منتخب اداروں نے اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے عدالتوں اور کٹھ پتلی سیاست دانوں کو استعمال کیا۔ اس کے باوجود، عوام کی سیاسی بیداری اور جمہوری قوتوں کی مزاحمت نے ہر دور میں آمریت کا مقابلہ کیا۔ 1970 کے انتخابات، بیگم نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو کی جدوجہد، اور ایم آر ڈی کی تحریک اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں گہری ہیں اور عوام ہمیشہ منتخب نمائندگی کو ہی فوقیت دیتے ہیں۔