خيبر پختونخوا کا جنوبی ضلع کوہاٹ ایک بار پھر دہشت گردی کی زد میں آ گیا، جہاں پرانا پولیس لائنز کی مسجد میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے دوران شدید دھماکہ ہوا ہے۔ پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق اس واقعے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 16 افراد کی جان چلی گئی ہے، جبکہ 30 سے زائد افراد شدید زخمی ہیں۔ جمعے کا وقت ہونے کی وجہ سے مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لیے اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی، جس کی وجہ سے جانی نقصان کا اندیشہ مزید بڑھ گیا۔
واقعے کے سیکنڈز بعد ہی جائے وقوعہ سے سامنے آنے والے مناظر میں ہر طرف دھواں اور افراتفری دیکھی گئی۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر سامنے آنے والی ویڈیوز کے مطابق دھماکے کی تیز آواز کے ساتھ ہی علاقے میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں، جس کے فوراً بعد پولیس کی اضافی نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ریسکیو ٹیموں نے فوری امدادی کارروائیاں شروع کیں اور شروعاتی طور پر 7 افراد کی شہادت اور 30 سے زائد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کی تصدیق کی۔ بعد ازاں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ سامنے آمد۔ دھماکے کی حتمی نوعیت اور اسے انجام دینے کے طریقۂ کار سے متعلق سیکیورٹی اور سرکاری حکام کی جانب سے فی الحال تحقیقات جاری ہیں اور کسی حتمی نتیجے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کوہاٹ پرانا پولیس لائنز میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے واقعے میں قیمتی جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا۔ وزیرِ اعظم نے سیکیورٹی اداروں سے واقعے کی نوعیت، اس کے اسباب اور پسِ منظر سے متعلق جامع رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ ریسکیو اور ریلیف کارروائیوں کو بلا تاخیر تیز تر کرنے کی بھی سخت ہدایت کی ہے۔
افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے خیبر پختونخوا میں حالیہ مہینوں کے دوران عسکریت پسندی کی لہر میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز، پولیس چیک پوسٹوں اور عام شہریوں کو تسلسل کے ساتھ نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبے میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز اور کارروائیاں بھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں۔
حالیہ دھماکہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت نے چند ہی روز قبل خیبر پختونخوا کے چھ مختلف ریجنز سے تعلق رکھنے والے 26 اضلاع کو عسکریت پسندی کے سنگین خطرات کے پیشِ نظر ’ہارڈ ایریا‘ قرار دیا تھا، اور کوہاٹ بھی انہی اضلاع میں شامل ہے جہاں سیکیورٹی خدشات انتہائی بلند ترین سطح پر موجود ہیں۔ پولیس لائنز جیسے حساس سیکیورٹی زون کے اندر واقع مسجد میں اس نوعیت کا حملہ اس بات کا مظہر ہے کہ عسکریت پسند سرکاری و سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔
کوہاٹ کا یہ سانحہ صوبے میں امن و امان کی بحالی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر درپیش مسلسل چیلنجز کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔ حساس ترین مقامات پر حفاظتی اقدامات اور پیشگی انٹیلی جنس معلومات کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے تاکہ فرنٹ لائن پر موجود اہلکاروں اور عام شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔





تبصرے