مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی دنیا میں کام کرنے والی سرکردہ کمپنیوں کے سربراہان بظاہر اس پیش رفت کی بے لگام رفتار کو سست کرنے کے حامی دکھائی دیتے ہیں، لیکن تجارتی مقابلے، اربوں ڈالر کے خدشات، امریکی انتظامیہ کی ہچکچاہٹ اور چین کے ساتھ جاری تکنیکی جنگ نے اس بریک پر پاؤں رکھنا ناگزیر حد تک پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈائی کی جانب سے حال ہی میں ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت اے آئی کی ترقیاتی رفتار کو وقتی طور پر سست کرنے کی تجویز سامنے آئی تاکہ اس ٹیکنالوجی کی ابھرتی ہوئی صلاحیتوں اور ان سے جنم لینے والے سیکیورٹی خدشات کا گہرا جائزہ لیا جا سکے۔ اس تجویز کو اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین، ایلون مسک اور گوگل ڈیپ مائنڈ کے ڈیمس حسابس کی کھلی حمایت بھی حاصل ہوئی۔
اس تشویش کی بنیادی وجہ حال ہی میں سامنے آنے والے وہ سنسنی خیز واقعات ہیں جن میں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے تیار کردہ خود مختار اے آئی ایجنٹس نے غیر متوقع طور پر اپنی متعین حدوں سے باہر نکل کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور مختلف ویب سائٹس اور پلیٹ فارمز پر خود سے حملے کر دیے۔ ان سسٹمز نے آپس میں رابطہ قائم کرنے، اپنے درمیان درجہ بندی (ہائرارکی) طے کرنے، دھوکہ دہی کرنے اور اپنے کارناموں کے نشانات تک مٹانے کی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی اینتھروپک اور اوپن اے آئی سے مستعفی ہونے والے سابق سیکیورٹی ماہر جیکب کوکسن نے ان کمپنیوں کے حفاظتی معیار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر "انسانوں کی زندگیوں پر جوا کھیلنے" کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔
سیکیورٹی خدشات کے باوجود، کمپنیوں کے درمیان جاری شدید مسابقت اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باعث کوئی بھی ادارہ اکیلے رفتار کم کرنے کا رزق نہیں لے سکتا۔ اس وقت اینتھروپک، اوپن اے آئی یا گوگل کی جانب سے رفتار سست کرنے کے کسی معاہدے پر رسمی پیش رفت نہیں ہوئی، اور ان کی جانب سے اپنایا گیا واحد ٹھوس قدم صرف یہ ہے کہ وہ سیکیورٹی پروٹوکولز کا جائزہ لینے کے لیے آزاد اندرونی مبصرین کی خدمات لے رہے ہیں۔
پی آر اسٹنٹ، مالیاتی مفادات اور امریکی سیاست
تجارتی اور تکنیکی انڈسٹری میں ڈاریو اموڈائی کی اس تجویز کو بلا چون و چرا قبول نہیں کیا گیا۔ اے آئی انڈسٹری کی اہم شخصیت اور سرمایہ کار برائن روئمل کے مطابق، اینتھروپک کا یہ بیان اصل میں کمپنی کے متوقع آئی پی او (شیئرز کی عمومی فروخت) سے قبل ایک کاروباری چال ہے۔ ان کے بقول کمپنی خود کو دنیا کی واحد "ذمہ دار اور محفوظ کمپنی" ظاہر کر کے مارکیٹ سے زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ سمیٹنا چاہتی ہے۔ پرائیویٹ ایکویٹی سے وابستہ دیگر ماہرین نے بھی کمپنی پر ’ریگولیٹری کیپچر‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ سرکاری قوانین کے ذریعے مارکیٹ پر اپنی برتری قائم رکھنا چاہتی ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق اے آئی مشیر ڈیوڈ سیکس کا کہنا تھا کہ رفتار سست کرنے کی خواہش کے پیچھے کوئی خالص انسانی ہمدردی نہیں ہے، بلکہ اگر کمپنیوں کے ماڈلز کسی بڑے سائبر حملے کا سبب بنتے ہیں تو ان پر بھاری قانونی کارروائی اور مالی تاوان کا شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اے آئی انڈسٹری کی ان تنبیہات کو "منفی قوتیں" قرار دے کر خارج کر دیا ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن کے مطابق کئی ریپبلکن رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اے آئی پر قوانین یا پابندیاں عائد کرنے سے امریکہ میں جدت رک جائے گی اور چین اس دوڑ میں فتح حاصل کر لے گا۔
چین کا عنصر اور اوپن سورس کا بنیادی چیلنج
ڈاریو اموڈائی کا موقف ہے کہ رفتار سست کرنے کے کسی بھی سیکیورٹی معاہدے کو صرف جمہوری ممالک تک محدود رکھا جائے اور چین کو اس میں شامل نہ کیا جائے۔ تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ چین کی تیز رفتار پیش رفت ہی اے آئی کی رفتار روکنے یا نہ روکنے کا سب سے بڑا عالمی چیلنج ہے۔ ستمبر کے آخر میں چینی صدر شی جنپنگ کے دورہ واشنگٹن کے موقع پر امریکی حکام اے آئی سیکیورٹی پر بات چیت کا ارادہ تو رکھتے ہیں، لیکن چین امریکہ کے یکطرفہ سیکیورٹی فریم ورک کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔
سب سے اہم تکنیکی فرق دونوں ممالک کے نقطہ نظر میں ہے۔ امریکی کمپنیاں اپنے اے آئی ماڈلز کو بند یا "کلوزڈ" رکھتی ہیں، جبکہ چین "اوپن" اے آئی سسٹمز کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے جن کے کوڈز اور پیرامیٹرز کو دنیا بھر میں کوئی بھی صارف بلا معاوضہ تبدیل کر سکتا ہے۔ اوپن سورس ماڈلز کو کنٹرول کرنا اور ان کا غلط استعمال روکنا انتہائی دشوار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اینتھروپک کے سربراہ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ اگر امریکی کمپنیوں کو رفتار سست کرنے کی اجازت دینی ہے تو پہلے چین کو جدید ترین چپس کی برآمد پر مزید سخت پابندیاں عائد کی جائیں اور مغربی ٹیکنالوجی کے چوری ہونے کے راستے یکسر بند کیے جائیں۔





تبصرے