اسلام آباد کی ستمبر کی شامیں عموماً بوجھل نہیں ہوا کرتی تھیں، لیکن 2001 کے اس ستمبر نے خطے کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ میلوڈی مارکیٹ کی ایک عمارت میں قائم ایک قومی روزنامے کے میگزین سیکشن سے فارغ ہو کر جب میں گھر کی طرف روانہ ہوا تو گلیوں میں ایک سنسنی خیز خبر کی گونج تھی کہ امریکہ پر حملہ ہو گیا ہے۔ گھر پہنچ کر ٹی وی آن کرتے ہی دوسری پرواز کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکراتے اور پھر چند ہی لمحات میں ان بلند و بالا عمارتوں کو راکھ کا ڈھیر بنتے دیکھا۔

اگلی صبح جب روزنامے کے ایگزیکٹو ایڈیٹر عرفان صدیقی مرحوم سے اداریے سے متعلق بات ہوئی تو وہ شدید فکر مند تھے اور ان کا کہنا تھا کہ معلوم نہیں اس واقعے کے بعد پاکستان پر کیا افتاد پڑنے والی ہے۔ انہی لمحات میں، جب ابھی ٹوئن ٹاورز پر دوسرا طیارہ نہیں ٹکرایا تھا، قریبی دفتر میں موجود سینئر صحافی حامد میر کے پاس اسامہ بن لادن کا ایک پیغام رساں پہنچتا ہے اور ٹی وی آن کرنے کا کہتا ہے۔ کچھ ہی دیر میں سی این این کی سکرین پر دھوئیں کے بادل بلند ہو رہے تھے اور اس خبر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

اس سانحے کو 25 سال گزر چکے ہیں۔ ان 25 برسوں میں وہ خدشات سچ ثابت ہوئے جو اس وقت ظاہر کیے جا رہے تھے۔ 11 ستمبر سے پہلے پاکستان کی تمام تر دفاعی توجہ کا مرکز مشرقی سرحد تھی، مگر اس واقعے کے بعد افغانستان کی صورتحال، طالبان اور بلوچ علیحدگی پسند گروپ ملک کی سلامتی کے لیے نئے چیلنجز بن کر ابھرے۔ امریکہ پر حملہ کرنے والے 19 خودکش ہائی جیکروں میں سے کوئی بھی پاکستانی شہری نہیں تھا، مگر ان کا ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد پاکستان کے بلوچ خاندان سے تعلق رکھتا تھا، جس کے والد 1950 کی دہائی میں کویت منتقل ہو کر امامت سے وابستہ ہو گئے تھے۔ اسامہ بن لادن کو مارے گئے 15 سال ہو چکے ہیں، لیکن خالد شیخ محمد کو اتنی طویل مدت گزرنے کے بعد بھی سزا نہیں سنائی جا سکی۔

خالد شیخ محمد کی پیدائش کے مقام کے بارے میں آرا مختلف ہیں، تاہم اس نے اپنا بچپن کویت میں گزارا جہاں وہ اخوان المسلمین کی فکر سے متاثر ہوا۔ 1984 سے 1986 کے دوران اس نے امریکہ کی نارتھ کیرولینا یونیورسٹی سے مکینیکل انجینیئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور پھر سوویت یونین کے خلاف جنگ میں حصہ لینے افغانستان چلا گیا۔ وہاں عبداللہ عزام کے کیمپ میں تربیت کے دوران اس کی ملاقات اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری اور انڈونیشیا کی عسکریت پسند تنظیم جماعتِ اسلامیہ کے بعد میں بننے والے سربراہ رضوان اسام الدین المعروف حمبلی سے ہوئی۔

افغانستان میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد وہ پشاور منتقل ہو گیا اور افغان رہنما عبدالرسول سیاف کی یونیورسٹی 'دعوۃ الجہاد' میں انجینیئرنگ پڑھانے لگا، جہاں پناہ گزینوں کو عسکریت پسندی کی طرف راغب کیا جاتا تھا۔ 1992 میں پشاور میں قیام کے دوران ہی اس نے اپنے نیوجرسی میں مقیم بھانجے رمزی یوسف کو رقم بھیجی، جس کا مقصد ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے زیرِ زمین گیراج میں 26 فروری 1993 کو بم دھماکہ کرنا تھا۔ خالد شیخ کے ایک دوسرے بھانجے عمار البلوچی نے فروری 2003 میں عافیہ صدیقی سے شادی کی، جن پر ہائی جیکروں کو مالی امداد فراہم کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

نیویارک حملے کے بعد رمزی یوسف کراچی پہنچا اور خالد شیخ محمد سے ملا۔ بعد میں خالد شیخ نے کچھ عرصہ قطر کی وزارتِ پانی و بجلی میں بطور انجینیئر کام کیا، لیکن 1994 کے اوائل میں وہ رمزی یوسف کے ساتھ فلپائن کے دارالحکومت منیلا منتقل ہو گیا، جہاں انہوں نے 'بوجنکا منصوبے' کی منصوبہ بندی کی۔ اس خوفناک پلان کے تحت بحرالکاہل کے اوپر سے گزرنے والے 12 امریکی مسافر طیاروں کو تباہ کرنا اور فلپائن دورے پر آنے والے پاپائے روم جان پال اور امریکی صدر بل کلنٹن کو قتل کرنا شامل تھا۔ رمزی یوسف نے ایک فلپائنی ایئرلائن کے طیارے میں دھماکہ کر کے ٹیسٹ بھی کیا جس میں ایک جاپانی تاجر مارا گیا، تاہم یہ پورا منصوبہ اس وقت بے نقاب ہو گیا جب ان کے اپارٹمنٹ میں بم بناتے ہوئے ناگہانی آگ بھڑک اٹھی۔

فلپائنی حکام جب اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک مکمل بم فیکٹری موجود تھی۔ خالد شیخ کویت فرار ہو گیا جبکہ رمزی یوسف پاکستان آ گیا جہاں اسے اگلے ہی ماہ گرفتار کر لیا گیا۔ 1996 میں امریکی عدالت نے خالد شیخ محمد پر خفیہ طور پر فردِ جرم عائد کی، تاہم وہ امریکہ کی گرفت سے بچ کر افغانستان میں تورا بورا پہنچ گیا اور اسامہ بن لادن کے سامنے مسافر طیاروں کو اغوا کر کے سی آئی اے ہیڈ کوارٹر سے ٹکرانے کا نیا پلان پیش کیا۔ پہلے تو اسامہ نے اس تجاویز کو مسترد کیا، لیکن بعد میں اس شرط پر منظوری دی کہ خالد شیخ باقاعدہ القاعدہ میں شمولیت اختیار کرے گا۔

منصوبے کی منظوری کے بعد خالد شیخ نے قندھار میں ڈیرے ڈالے، القاعدہ کے میڈیا سیل کی سربراہی سنبھالی اور ملائیشیا، انڈونیشیا اور انڈیا کا سفر کر کے جماعتِ اسلامیہ کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں کا جال بچھایا، جس کے نتیجے میں بعد میں جکارتہ کے میریٹ ہوٹل اور آسٹریلوی سفارت خانے پر حملے کیے گئے۔ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کی نگرانی اس نے کراچی کے ایک انٹرنیٹ کیفے میں بیٹھ کر کی، اور بعد ازاں القاعدہ کے ملٹری چیف محمد عاطف کی موت کے بعد انتھراکس پر مبنی بائیولوجیکل ہتھیاروں کی تیاری کا شعبہ سنبھالا۔ جنوری 2002 میں امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل کا اعتراف بھی اس نے امریکی حکام کے سامنے کیا۔

کراچی سے راولپنڈی: گرفتاری کا خفیہ ڈراما

امریکی صحافی پیٹر برگن اپنی کتاب 'مین ہنٹ' میں بتاتے ہیں کہ ستمبر 2002 میں خالد شیخ محمد اور رمزی بن الشبا نے کراچی کے ایک محفوظ ٹھکانے سے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیا تھا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد بن الشبا کراچی سے پکڑا گیا جس کے پاس سے اسامہ بن لادن کے خاندان کے پاسپورٹ ملے۔ خالد شیخ کراچی ہی میں بیٹھ کر تورا بورا میں محصور اسامہ بن لادن کو رقم بھیجتا رہا، بالی بم دھماکوں کی فنڈنگ کی اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کی۔

تاہم، اس کی تمام سرگرمیاں یکم مارچ 2003 کی رات اس وقت ختم ہو گئیں جب راولپنڈی کے ایک گھر سے اسے رات تین بجے گرفتار کر لیا گیا۔ اس گرفتاری کی مخبری اسی گھر کے اندر موجود ایک شخص نے غسل خانے سے پیغام بھیج کر کی تھی۔ گرفتاری کے وقت اس کے پاس سے اسامہ بن لادن کے تین خطوط، القاعدہ کے 129 اراکین کی فہرستیں اور ان کی ماہانہ تنخواہوں کی تفصیلی دستاویزات برآمد ہوئیں۔

تفتیش کے دوران امریکیوں کا خیال تھا کہ خالد شیخ کی گرفتاری سے وہ فوری طور پر اسامہ بن لادن تک پہنچ جائیں گے، مگر وہ غلط ثابت ہوئے۔ بگرام ایئرپورٹ اور پھر پولینڈ میں سی آئی اے کے بلیک سائیٹس پر شدید ترین تشدد اور 183 مرتبہ واٹر بورڈنگ کے باوجود خالد شیخ نے اسامہ بن لادن کے اصل پیغام رساں 'ابو احمد الکویتی' کا پتہ نہیں بتایا۔ اس نے اور بعد میں مردان سے گرفتار ہونے والے ابو فراج اللیبی نے سی آئی اے کو مسلسل گمراہ کن معلومات فراہم کیں، جس کے باعث امریکی خفیہ ایجنسیوں کو ایبٹ آباد تک پہنچنے میں مزید سات سال کا عرصہ لگا۔

تشدد، گوانتانامو بے اور امریکی قانون کا الجھاؤ

گرفتاری کے بعد ساڑھے تین سال تک دنیا کے خفیہ حراستی مراکز میں رکھنے کے بعد 2006 میں خالد شیخ محمد کو گوانتانامو بے منتقل کر دیا گیا۔ 2008 میں ملٹری کمیشن اور پھر 5 مئی 2012 کو اسے گوانتانامو بے کی فوجی عدالت میں پیش کر کے قتل، طیارہ اغوا اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت سزائے موت کی کارروائی شروع کی گئی۔

مگر 25 سال گزرنے کے باوجود اس مقدمے کے حتمی منطقی انجام تک نہ پہنچنے کی بنیادی وجہ امریکی قانونی نظام کی وہ شرط ہے جس کے تحت تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے اعترافات کو عدالت میں قابلِ قبول نہیں سمجھا جاتا۔ سی آئی اے کے پرتشدد طریقوں نے اس پورے مقدمے کو قانونی پیچیدگیوں کی نذر کر دیا۔

سال 2024 میں ایک ممکنہ پلی بارگین معاہدہ سامنے آیا تھا جس کے تحت خالد شیخ اور اس کے ساتھی جرم قبول کرتے اور بدلے میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جاتا، لیکن امریکی وزیر دفاع لائڈ آسٹن اور پھر عدالت نے اس ڈیل کو منسوخ کر دیا۔ اب اس تاریخی مقدمے کے باقاعدہ ٹرائل کے لیے فوجی عدالت نے 5 جون 2028 کی تاریخ مقرر کی ہے۔ یوں امریکی قانون خود اپنے بنائے گئے طریقۂ کار کے باعث دنیا کے سب سے بڑے حملے کے ماسٹر مائنڈ کو سزا دینے میں ناکام چلا آ رہا ہے۔