11 ستمبر 2001 کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں میناروں سے طیارے ٹکرائے تو اس حملے میں 2,977 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ امریکی حکومت نے حملوں کے نو دن بعد ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ (وار آن ٹیرر) کا باقاعدہ اعلان کیا، مگر اس المیے کی گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ معلومات کی موجودگی کے باوجود اداروں کے درمیان رابطوں اور ہم آہنگی کی شدید کمی نے ایک بہت بڑا انٹیلی جنس بحران جنم دیا۔ امریکی کاؤنٹر ٹیررازم فورس اور سی آئی اے سالہا سال سے اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے نیٹ ورک پر نظر رکھے ہوئے تھے اور ان کے پاس ایک مخصوص ٹاسک فورس بھی کام کر رہی تھی، مگر معلومات کا درست تجزیہ اور بروقت تبادلہ نہ ہونا امریکی تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی ناکامی کا سبب بنا۔

بعد میں آنے والی ’نائن الیون کمیشن رپورٹ‘ نے بھی اس حقیقت پر مہر ثبت کی کہ یہ سانحہ دراصل حکومت اور خفیہ اداروں کی سوچ، پالیسی، صلاحیتوں اور انتظام کاری میں ناکامی کا نتیجہ تھا۔ اس وقت سی آئی اے اور ایف بی آئی دونوں کے پاس الگ الگ ایسی معلومات موجود تھیں جو اگر بروقت اور مربوط انداز میں ایک دوسرے سے شیئر کر لی جاتیں تو اس سازش کو ناکام بنایا جا سکتا تھا۔ اس تلخ تجربے کے بعد ہی مغرب نے اپنے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کے طریقہ کار کی ازسرِ نو ساخت پر توجہ دی۔

اطلاعات کی ترسیل میں ناکامی اور انٹیلی جنس نظام کی ازسرِ نو ساخت

اس المیے کے بعد امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے انٹیلی جنس اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا انداز یکسر بدل گیا۔ امریکہ میں 18 مختلف سیکیورٹی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے لیے ’نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر‘ قائم کیا گیا اور ’ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس‘ کا عہدہ تخلیق کیا گیا۔ اسی طرح برطانیہ میں ایم آئی 5 اور پولیس کاؤنٹر ٹیررازم کے پرانے روایتی اختلافات کو ختم کر کے لندن میں ایک جدید 'کاؤنٹر ٹیررازم آپریشنز سینٹر' بنایا گیا، جہاں ایم آئی 5 کے افسران، پولیس، امریکی ایف بی آئی کے نمائندے اور جی سی ایچ کیو کے زبان دانی کے ماہرین ایک ہی جگہ بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان 'فائیو آئز' نامی اتحاد نے معلومات کی ترسیل کو پہلے سے کہیں زیادہ تیز کر دیا ہے۔

تاہم، انٹیلی جنس کے ڈھانچے میں ان انقلابی تبدیلیوں کے باوجود بعد کے سالوں میں بھی سٹریٹیجک تخمینوں اور تجزیوں کی سنگین ناکامیاں سامنے آتی رہیں۔ سنہ 2003 میں عراق پر امریکی قیادت میں حملے سے قبل، برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی 6 نے سیاسی دباؤ میں آ کر ایسی غیر مصدقہ معلومات حکومت کے سپرد کیں جس میں عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (WMDs) کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ بعد میں یہ معلومات مکمل طور پر غلط ثابت ہوئیں کیونکہ 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد ہی وہ ہتھیار تباہ کر دیے گئے تھے۔ سر رچرڈ شریف، جو عراق میں ڈویژنل کمانڈر رہ چکے ہیں، کے مطابق یہ بات واضح تھی کہ ہم ایک سٹریٹیجک ناکامی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ بعد ازاں 'بٹلر ریویو' نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ایم آئی 6 کا تجزیہ بنیادی طور پر غیر مصدقہ ذرائع پر مبنی تھا۔

اس عراق جنگ کی ناکامی کے بعد ایم آئی 6 نے اپنے اندر خام انٹیلی جنس کا تجزیہ کرنے والے نظام کو مکمل طور پر تبدیل کیا۔ آج ایجنٹ بھیج کر معلومات اکٹھی کرنے والی ٹیموں اور ان معلومات کی پڑتال اور تصدیق کرنے والی رپورٹنگ ٹیموں کو ایک دوسرے سے بالکل الگ رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح برطانیہ کے اندرونی سیکیورٹی ادارے ایم آئی 5 کے پاس ہزاروں افراد کی فہرستیں موجود ہونے کے باوجود 2005 کے لندن 7/7 بم دھماکوں اور 2017 کے مانچسٹر ایرینا حملے کو نہ روکا جا سکا۔ 2007 سے 2013 تک ایم آئی 5 کے سربراہ رہنے والے لارڈ جوزف ایونز کے مطابق، ادارہ روزانہ کی بنیاد پر 20,000 سے زائد مشکوک افراد کی فہرست میں سے ترجیحات کا تعین کرنے کے دشوار گزار مرحلے سے گزرتا ہے، اور ہر بار بروقت سراغ لگانا ممکن نہیں ہو پاتا۔

سنگین سیاسی فیصلے اور انسانی حقوق کی پامالیاں

نائن الیون کے فوراً بعد ایک اور بڑے حملے کا خوف اس قدر شدید تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے انسانی حقوق کے مسلمہ اصولوں کو بھی یکسر نظر انداز کر دیا۔ افغانستان اور پاکستان سمیت مختلف علاقوں سے محض معمولی شک کی بنیاد پر لوگوں کو حراست میں لیا گیا اور کیوبا میں امریکی بحری اڈے 'گوانتانامو بے' کی قید میں بغیر کسی مقدمے کے بند کر دیا گیا۔ قیدیوں پر تشدد اور غیر انسانی سلوک کے ان واقعات نے عالمی سطح پر امریکی اخلاقی جواز کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہ پالیسی کسی نہ نہ کسی شکل میں بعد میں بھی جاری رہی، جیسا کہ 2025 میں امریکہ نے 200 سے زائد افراد کو ڈی پورٹ کر کے ایل سلواڈور کے متنازع قید خانے بھیجا۔

برطانیہ کے حوالے سے بھی 2004 کا وہ واقعہ اہم ہے جب ایم آئی 6 کی معاونت سے لیبیا کے اسلام پسند رہنما عبدالحکیم بلحاج اور ان کی اہلیہ کو تھائی لینڈ سے اغوا کر کے قذافی حکومت کے حوالے کیا گیا جہاں انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد میں 2018 میں برطانوی اٹارنی جنرل نے پارلیمنٹ میں اس واقعے پر باقاعدہ معافی مانگی، جس کے بعد اب انٹیلی جنس اداروں کے اندر قانونی ماہرین کی تعداد اور قانونی جانچ پڑتال میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔

اسی نوعیت کی تزویراتی غلط فہمی اس وقت بھی دیکھنے میں آئی جب رواں سال سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کا فیصلہ کیا۔ خلیجی اتحادیوں کی جانب سے بارہا خبردار کیا گیا تھا کہ ایران جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔ اس واضح تنبیہ کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کے پاس کوئی مؤثر جوابی حکمت عملی نہیں تھی، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی مارکیٹ شدید بحران کا شکار ہوئی۔

غیر ریاستی عناصر سے ریاستی خطرات تک: روس اور چین کا ابھار

پچھلی دو دہائیوں کے دوران مغربی ممالک کا تمام تر فوکس اور وسائل کاؤنٹر ٹیررازم اور غیر ریاستی جنگجوؤں پر مرکوز رہے۔ 2014 سے 2020 تک ایم آئی 6 کے سربراہ رہنے والے سر ایلکس ینگر نے تسلیم کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف رہنے کے باعث مغرب نے چین کے ایک عسکری اور سٹریٹیجک طاقت کے طور پر ابھرنے کے خطرے کو نظر انداز کر دیا۔ اسی طرح روس نے بھی خاموشی سے اپنے ہتھیاروں کی جدید کاری اور ہائپر سونک میزائل ٹیکنالوجی پر کام کیا اور 2022 میں یوکرین پر مکمل حملہ کر دیا۔

سیکیورٹی انٹیلی جنس فرم 'سیبیلائن' کے چیف اینالسٹ سیم اولسن کے مطابق، مغرب کی بنیادی غلطی صرف یہ نہیں تھی کہ وہ کاؤنٹر ٹیررازم میں الجھا رہا، بلکہ انہوں نے چین کے ابھار کو بھی غلط سمجھا اور یہ فرض کر لیا کہ معاشی مربوطی سے وہاں سیاسی تبدیلی آئے گی۔ آج کے دور میں چین، روس، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک سے معلومات کا حصول انتہائی مشکل اور پرخطر کام ہے۔ بالخصوص چہرے، آنکھوں اور چلنے کے انداز کو پہچاننے والی بائیو میٹرک ٹیکنالوجی کے باعث جاسوسوں کی بھیس بدل کر سرحدیں پار کرنے کی صلاحیت محدود ہو چکی ہے۔

سیم اولسن کے مطابق، اس وقت سب سے بڑا مسئلہ انٹیلی جنس جمع کرنے کا نہیں بلکہ اس کے سٹریٹیجک تجزیے اور تعبیر کا ہے۔ چین کی طاقت اب صرف بحری جہازوں اور میزائلوں تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ سیمی کنڈکٹرز، نایاب معدنیات، بیٹریز، بندرگاہوں، ٹیلی مواصلات اور صنعتی صلاحیتوں میں پھیل چکی ہے۔ جب تک ان تمام عناصر کو جوڑ کر صحیح تعبیر نہیں کی جائے گی، سٹریٹیجک فیصلے ناکام ہوتے رہیں گے۔

بالکل اسی طرح جیسے نائن الیون والے دن تمام تر معلومات موجود ہونے کے باوجود تصویر مکمل نہیں کی جا سکی تھی، موجودہ عالمی تناظر میں بھی خامیوں کا سلسلہ قائم ہے۔ 2022 میں روس کا یوکرین پر حملہ ہو یا 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملہ، انٹیلی جنس کی ناکامیاں اب بھی رونما ہو رہی ہیں۔ افغانستان میں 20 سالہ لاحاصل جنگ اور طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے لے کر عراق کی جنگ میں شمولیت تک، نائن الیون کے بعد اٹھائے گئے سٹریٹیجک اقدامات کے سوالات اب بھی تاریخ کے دامن میں جواب طلب ہیں۔