انٹرنیشنل
[DEV-FRONTEND-DATASET] Temporary category for local frontend design testing.
مزید خبریں

موروثی سیاست اور ’نیپو بیبیز‘: پاکستان سمیت دنیا بھر میں سیاسی خاندانوں کا تسلط اور جمہوریت کے لیے درپیش چیلنجز
پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں سیاسی اقتدار کی باگ ڈور روایتی خاندانوں اور موروثی قیادت کے ہاتھوں میں چلی آ رہی ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا، لاطینی امریکہ اور مغرب تک پھیلے اس رجحان میں سابق حکمرانوں کی اولاد، شریکِ حیات یا رشتہ دار اپنے خاندانی نام کی بدولت اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔ اگرچہ تحریکِ انصاف کے ابھار سے پاکستان میں اس روایت پر دباؤ پڑا، مگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی صورت میں موروثی سیاست اب بھی مضبوط ہے۔ ماہرین کے مطابق موروثی سیاست نہ صرف میرٹ اور جمہوری اداروں کو کمزور کرتی ہے بلکہ معاشی اصلاحات اور ابھرتے ہوئے شہری وسطی طبقے کی توقعات کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہے۔

قوش تیپہ کینال پروجیکٹ: آمو دریا کا رخ موڑنے کا افغان منصوبہ وسطی ایشیا کے لیے نیا آبی بحران؟
افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے آمو دریا پر تعمیر کی جانے والی 115 میل طویل ’قوش تیپہ کینال‘ کے منصوبے نے وسطی ایشیا میں پانی کے تحفظ اور علاقائی معیشت پر گہرے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ تقریباً 684 ملین ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والی یہ نہر سالانہ 10 ارب کیوبک میٹر پانی کا رخ موڑے گی، جس سے ازبکستان اور ترکمانستان میں پانی کے بہاؤ میں 15 فیصد تک کمی کا اندیشہ ہے۔ اگرچہ طالبان حکومت اسے بنجر زمینوں کی آبادکاری اور روزگار کے حصول کے لیے ناگزیر قرار دے رہی ہے، تاہم مناسب عالمی معاہدوں کی عدم موجودگی اور ناقص تعمیراتی معیارات کے سبب یہ منصوبہ خطے کی جیو پالیٹکس میں نئی کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔

کابل پر اقتدار کے پانچ سال: عسکری فتح سے حکمرانی کے امتحان تک
افغانستان میں طالبان کی حکومت کو پانچ سال مکمل ہونے پر ایک طرف فتح کے جشن اور پریڈز کا اہتمام کیا گیا ہے، تو دوسری جانب عام شہریوں کی زندگیوں میں بڑھتی معاشی و سماجی مشکلات نئی بحث کو جنم دے رہی ہیں۔ جنگ میں کمی کے باوجود خواتین پر سخت پابندیوں، تعلیمی نظام کے زوال اور معاشی تنہائی نے ملک کے مستقبل پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

دوستانہ تعلقات سے 'کھلی جنگ' تک: پاک افغان بارڈر پر اسٹریٹجک ناطہ کیسے ٹوٹا؟
پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات ماضی کی اسٹریٹجک قربت سے نکل کر ایک شدید سیکیورٹی اور سفارتی بحران میں داخل ہو چکے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے افغان سرزمین سے ہونے والے مسلسل حملے، باجوڑ کا حالیہ واقعہ اور سرحدی بندشیں اس بگاڑ کی بنیادی وجہ ہیں۔ اگرچہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان عسکری طاقت میں واضح فرق ہے، لیکن دشوار گزار جغرافیہ اور غیر روایتی جنگ نے معاملے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دونوں ممالک کے لیے اب پرانے تعلقات کے بجائے سخت ریاستی مفادات کی بنیاد پر نئے قواعد طے کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔

ٹیکنالوجی کی نئی سرد جنگ: کیا امریکا اور چین کی اے آئی مسابقت دنیا کو بلاک بندی پر مجبور کر رہی ہے؟
امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی مسابقت اب عالمی سپلائی چین اور تزویراتی اتحادوں پر قبضے کی جنگ بن چکی ہے۔ واشنگٹن کا نیا فریم ورک 'پاکس سلیکا' (Pax Silica) اور چین کا 'ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن' دنیا کو دو الگ الگ ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظاموں میں تقسیم کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ قازقستان جیسے ممالک، جو دونوں طاقتوں کے ساتھ متوازن روابط قائم رکھنا چاہتے ہیں، اب امریکی دباؤ کی زد میں ہیں۔ اس عالمی کشمکش میں پاکستان سمیت ترقی پذیر ریاستوں کے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ بیرونی انحصار ختم کیے بغیر توازن برقرار رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔

سلک روڈ کی دھنیں: یویو ما نے موسیقی کے ذریعے تہذیبوں کو قریب لانے کا خواب کیسے دیکھا؟
یویو ما کا سلک روڈ منصوبہ موسیقی کے ذریعے مختلف تہذیبوں کو سمجھنے اور قریب لانے کی ایک منفرد کوشش ہے۔ مختلف ممالک کے سازوں اور موسیقی کی روایات کو یکجا کرتے ہوئے اس منصوبے نے قدیم سلک روڈ کے ثقافتی رابطوں کو جدید دنیا میں ایک نئی شکل دی، جس میں پاکستان کا ٹرک آرٹ اور گندھارا فن بھی اس وسیع ثقافتی تناظر کا حصہ بنتے ہیں۔
مزید تازہ خبریں
صاف توانائی کا نیا مسئلہ: بجلی پیدا ہورہی ہے، مگر گرڈ اسے سنبھال کیوں نہیں پا رہے؟دنیا میں شمسی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار تیزی سے بڑھ رہی ہے، مگر کئی ممالک کے موجودہ گرڈ اس اضافی بجلی کو سنبھالنے اور صارفین تک پہنچانے کے لیے تیار نہیں۔ چین، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان میں قابلِ تجدید توانائی کا ایک بڑا حصہ اسی وجہ سے ضائع ہورہا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ صاف توانائی کے ساتھ ٹرانسمیشن لائنوں، بیٹری اسٹوریج اور جدید گرڈ میں سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔

