مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور اہم معدنیات کی عالمی دوڑ میں امریکا اور چین کا مقابلہ اب محض ٹیکنالوجی کی تیاری تک محدود نہیں رہا بلکہ جغرافیائی سیاسی بلاک بندی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ واشنگٹن اپنے اتحادیوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ دونوں کیمپوں میں یکساں موجودگی کے بجائے ایک واضح انتخاب کریں، جس سے درمیانی راستہ اختیار کرنے والے ممالک کے لیے سنگین سفارتی چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں۔
سابقہ سوویت یونین اور امریکا کے درمیان ماضی کی سرد جنگ کا بنیادی محور ایٹمی ہتھیار اور عسکری طاقت تھی، لیکن اکیسویں صدی کا نیا عالمی محاذ خام سلیکان، جدید چپس اور مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز پر استوار ہو رہا ہے۔ امریکا اور چین کے درمیان تکنیکی برتری کی یہ دوڑ اب محض اس سوال تک محدود نہیں رہی کہ کون سا سافٹ ویئر یا اے آئی ماڈل زیادہ تیز اور کارآمد ہے، بلکہ یہ لڑائی عالمی سپلائی چین، نایاب معدنیات اور تزویراتی اتحادوں کی تشکیل تک پھیل چکی ہے۔ واشنگٹن اور بیجنگ اب دنیا کے دیگر ممالک پر زور دے رہے ہیں کہ وہ خاموشی سے تماشائی بننے یا دونوں طرف سے فائدہ اٹھانے کی پالیسی ترک کر کے اپنا قبلہ درست کریں۔
امریکا نے گزشتہ سال 'پاکس سلیکا' (Pax Silica) کے نام سے ایک عالمی اقدام کا آغاز کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، سیمی کنڈکٹرز کی تیاری اور اس کے لیے درکار اہم معدنیات کی سپلائی چین کو مضبوط بنانا ہے۔ اس فریم ورک کا اصل ہدف ٹیکنالوجی کے حساس شعبوں میں چین پر عالمی انحصار کو کم سے کم کرنا ہے۔ جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا جیسے تقریباً دو درجن ممالک پہلے ہی اس امریکی گٹھ جوڑ کا حصہ بن چکے ہیں۔ تاہم، اس تمام تر نظام میں وسطی ایشیا کی ایک اہم ریاست قازقستان کی شمولیت نے واشنگٹن کے ایوانوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
قازقستان اہم معدنی ذخائر کا حامل ملک ہے اور امریکا اسے اپنی نئی تکنیکی سپلائی چین کا ایک لازمی جزو سمجھتا ہے۔ لیکن جب قازقستان نے امریکی فریم ورک کا حصہ ہوتے ہوئے چین کے پیش کردہ متبادل اے آئی فریم ورک میں بھی شمولیت اختیار کی، تو واشنگٹن کا موقف سخت ہو گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ایک تیار کردہ مسودہ دستاویز کے مطابق، جنہوں نے جون میں امریکی 'اے آئی آپرچونٹی اسٹیٹمنٹ' (AI Opportunity Statement) پر دستخط کیے تھے، انہیں واشنگٹن یہ واضح انتباہ دینے جا رہا ہے کہ دو متضاد اور متحارب ٹیکنالوجی نظاموں میں بیک وقت شمولیت ممکن نہیں ہے۔ امریکی حکام کا موقف ہے کہ جو ملک ایسے متبادل اقدامات کا حصہ بنتا ہے جو امریکی مقاصد سے ٹکراتے ہوں، اس کی شراکت داری ناقابلِ اعتبار ہو جاتی ہے۔
پاکس سلیکا اور بیجنگ کے متبادل اتحاد کی دستک
دوسری جانب، چین نے بھی اس امریکی پیش رفت کا بھرپور جواب دیا ہے۔ جولائی میں چینی صدر شی جن پنگ نے 'ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن' کے قیام کا اعلان کیا، جس کے ذریعے بیجنگ اپنے اے آئی ماڈلز، تعاون کی تکنیکی پالیسیوں اور نسبتاً کھلے ماڈلز کو عالمی سطح پر پھیلا رہا ہے۔ چینی کمپنیوں کے اوپن ویٹ (Open-weight) ماڈلز نے امریکی کمپنیوں کی ملکیتی بالادستی کو سخت چیلنج دیا ہے۔ اوپن ویٹ ماڈلز وہ تکنیکی سسٹمز ہیں جن کے بنیادی وزن اور کوڈز ڈویلپرز کے لیے نسبتاً کھلے انداز میں دستیاب ہوتے ہیں تاکہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق ان میں ترمیم کر سکیں۔ نتیجتاً، عالمی مقابلہ اب محض ایک امریکی یا چینی پروڈکٹ کا نہیں، بلکہ دو مختلف نظریاتی اور تکنیکی نظاموں کے انتخاب کا بن چکا ہے۔
مصنوعی ذہانت کو چلانے کے لیے محض بہترین کوڈنگ کافی نہیں ہوتی۔ طاقتور ترین اے آئی ماڈلز کے پیچھے کھربوں پروسیسنگ کرنے والی جدید چپس، ان چپس کو چلانے کے لیے درکار وسیع ڈیٹا سینٹرز، اور بے تحاشا بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ سیمی کنڈکٹر چپس اور جدید ٹیکنالوجی کی تیاری میں وہ نایاب اور اہم معدنیات کلیدی حیثیت رکھتی ہیں جن پر اس وقت چین کا عالمی اجارہ داری کے قریب کنٹرول ہے۔
پچھلے برسوں کے تجارتی تنازعات کے دوران بیجنگ نے ان معدنیات کی برآمدات کو بطور دباؤ استعمال کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد واشنگٹن نے اپنے اندرونی وسائل کی ترقی کے ساتھ ساتھ غیر ملکی اتحادیوں میں متبادل ذرائع کی تلاش تیز کر دی۔ یہی وجہ ہے کہ قازقستان جیسے معدنیات سے مالا مال ممالک اس تکنیکی جنگ کا مرکز بن چکے ہیں۔ امریکا اب اے آئی کو صرف تجارتی مقابلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، عسکری نگرانی، سائبر دفاع اور صنعتی برتری کا بنیادی ستون سمجھتا ہے۔ چین کی حکمتِ عملی بھی یہی ہے کہ وہ امریکی سافٹ ویئر اور چپس پر عالمی انحصار ختم کر کے اپنا خود مختار ماحولیاتی نظام قائم کرے۔
محض الگورتھم نہیں، خام مال اور چپس پر کنٹرول کی جنگ
اس جغرافیائی سیاسی کشمکش کا سب سے حساس پہلو وہ ممالک ہیں جو دونوں طاقتوں کے ساتھ معاشی اور دفاعی روابط برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ یورپ کی متعدد ریاستیں، خلیجی ممالک، وسطی ایشیا اور ترقی پذیر معیشتیں ایک طرف امریکی چپس، ڈیٹا اور سافٹ ویئر کی محتاج ہیں تو دوسری جانب چینی سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور خام مال کی فراہمی سے الگ نہیں ہو سکتی رہیں۔
قازقستان کا عمل اس المیے کا بہترین عکاس ہے۔ ایک طرف وہ امریکا کے ساتھ تکنیکی و معاشی تعاون چاہتا ہے، تو دوسری طرف وہ چین کے ساتھ تجارت اور سرحدی شراکت داری کو قربان نہیں کر سکتا۔ واشنگٹن کے نقطہ نظر سے یہ ایک ایسا رویہ ہے جو اس کے اتحادی نظام کو کمزور کرتا ہے، جبکہ ترقی پذیر اور درمیانی طاقتیں اسے اپنی متوازن خارجہ پالیسی قرار دیتی ہیں۔ بیجنگ نے طویل عرصے سے یہ موقف اپنا رکھا ہے کہ ٹیکنالوجی کو سیاست کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے اور تجارتی روابط میں محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہیے، تاہم عملی طور پر ٹیکنالوجی اور قومی سلامتی کی سرحدیں اس حد تک مل چکی ہیں کہ غیر جانبدار رہنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
درمیانی راستے پر گامزن ممالک اور واشنگٹن کا انتباہ
امریکا اور چین کی اس تکنیکی محاذ آرائی کا اثر پاکستان جیسی معیشتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے، جو اگرچہ فی الوقت اے آئی کی اس دوڑ میں بڑا کھلاڑی نہیں ہیں، لیکن اس کے نتائج سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتیں۔ پاکستان کے چین کے ساتھ گہرے اور دیرینہ معاشی، تجارتی اور بنیادی ڈھانچے کے روابط ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکا اور یورپی ممالک کے ساتھ برآمدات، سرمایہ کاری اور تکنیکی مصنوعات کا قوی رشتہ موجود ہے۔
اگر واشنگٹن اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کو ایک بلاک منتخب کرنے پر مجبور کرتا ہے تو پاکستان کے لیے محض سیاسی بنیادوں پر کسی ایک کیمپ کا انتخاب کرنا معاشی لحاظ سے انتہائی پیچیدہ نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ اس صورت حال میں سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ بیرونی طاقتوں کے تکنیکی گٹھ جوڑ پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے، پاکستان کو اپنی داخلی صلاحیتیں استوار کرنا ہوں گی۔
عالمی بلاک بندی اور پاکستان کے لیے حکمتِ عملی کا امتحان
اے آئی، سیمی کنڈکٹرز، ڈیٹا سیکیورٹی اور اہم معدنیات کے شعبے میں قومی سطح پر قابلیت پیدا کیے بغیر، دنیا کی اس بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست میں کوئی بھی ملک آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت برقرار نہیں رکھ سکتا۔ جو اقوام ٹیکنالوجی میں خود کفیل نہیں ہوتیں، وہ اس طرح کی عالمی جنگوں میں ترجیحات طے کرنے کے بجائے دوسروں کی ترجیحات کا شکار بن جاتی ہیں۔
امریکا اور چین کے درمیان یہ محاذ آرائی اب صرف اس سوال تک محدود نہیں ہے کہ بہترین الگورتھم کس کے پاس ہے۔ اصل معرکہ اس بات پر ہے کہ سیمی کنڈکٹر چپس کون فراہم کرے گا، نایاب معدنیات کا کنٹرول کس کے ہاتھ میں ہوگا، اور مستقبل کی ڈیجیٹل دنیا کے قواعد و ضوابط کون طے کرے گا۔ دنیا بھر کے ممالک کے لیے ان سوالات کا سامنا کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔





تبصرے