افغانستان میں طالبان کی 2021 میں واپسی کو کبھی اسلام آباد میں ایک بڑی سفارتی کامرانی سمجھا گیا تھا، لیکن ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں اور سرحدی حملوں نے اس رشتے کو براہِ راست عسکری محاذ آرائی میں تبدیل کر دیا ہے۔ فروری 2026 کی فضائی کارروائیوں اور سرحدی جھڑپوں نے ثابت کر دیا ہے کہ نظریاتی یا تاریخی قربت ریاستی سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
فروری 2026 میں جب پاکستانی دفاعی حکام نے افغانستان کے اندر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائیوں کی تصدیق کی اور کابل کی جانب سے سرحدی پوسٹوں پر جوابی فائرنگ کی خبریں سامنے آئیں، تو دونوں ممالک کے تعلقات کی زوال پذیری اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی۔ پاکستان کے وزیر دفاع کی جانب سے صورتحال کو 'کھلی جنگ' کا نام دینا محض ایک سیاسی بیان نہیں تھا، بلکہ یہ اس اسٹریٹجک فریم ورک کے مکمل خاتمے کا اعلان تھا جو گزشتہ تین دہائیوں سے اسلام آباد اور افغان طالبان کے روابط کی بنیاد رہا تھا۔
یہ بگاڑ یکایک پیدا نہیں ہوا۔ 2021 میں جب امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد طالبان دوبارہ کابل کے اقتدار پر متمکن ہوئے، تو پاکستان میں فیصلہ ساز حلقوں نے اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ ماضی میں 'اسٹریٹجک ڈیپتھ' کے نظریے کے تحت یہ فرض کر لیا گیا تھا کہ طالبان کی قیادت میں ایک دوستانہ حکومت مغربی سرحد کو محفوظ بنا دے گی اور بھارت کے اثر و رسوخ کا خاتمہ کرے گی۔ تاہم، اقتدار سنبھالتے ہی طالبان نے اپنے داخلی مفادات اور خود مختاری کو ترجیح دی، جس سے اسلام آباد کے حساب کتاب میں سنگین رخنے پیدا ہوئے۔
ٹی ٹی پی کا فیکٹر اور ٹوٹتا ہوا اعتماد
اس تمام تر کشیدگی کے مرکز میں تحریک طالبان پاکستان (TTP) کا مسئلہ موجود ہے۔ 2007 میں شمال مغربی سرحدی اضلاع میں تشکیل پانے والے اس عسکری اتحاد نے سالہا سال سے پاکستانی بازاروں، مساجد، فوجی تنصیبات اور پولیس مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ سوات پر عارضی قبضے سے لے کر 2012 میں ملالہ یوسفزئی پر حملے تک، اس گروہ کی کارروائیاں پاکستان کے لیے ایک مستقل سیکیورٹی چیلنج رہی ہیں۔ اسلام آباد کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت اور جنگجو افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری طرف کابل ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے یہ دہراتا رہا ہے کہ وہ اپنی زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دے گا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 2024 کے اواخر سے ہونے والے کئی خونریز حملوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، جن کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں۔ باجوڑ میں ہونے والے ایک حالیہ حملے میں 11 سیکیورٹی اہلکار اور دو شہری جان سے گئے، جس میں ایک افغان شہری کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی اور ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی۔ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان امریکی افواج کے خلاف مل کر لڑنے کی مشترکہ تاریخ موجود ہے، جس کی وجہ سے طالبان کے لیے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنا ایک داخلی اور نظریاتی چیلنج بن جاتا ہے۔ اگر وہ ٹی ٹی پی پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو اپنے ہی پرانے ساتھیوں کی مخالفت کا خطرہ ہے، اور اگر خاموش رہتے ہیں تو اسلام آباد کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
سرحدی جھڑپیں اور ثالثی کی ناکامی
صرف بیانات اور الزامات تک محدود رہنے کے بجائے یہ تنازع اب سرحدی جھڑپوں اور تجارتی راستوں کی بندش کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ 2025 میں جب دونوں ممالک کے درمیان پرتشدد سرحدی ٹکراؤ ہوا تو ترکی، قطر اور سعودی عرب کی سفارتی کوششوں سے ایک عارضی جنگ بندی عمل میں آئی تھی۔ لیکن یہ معاہدہ زیادہ دیر نہ چل سکا، کیونکہ افغان سرزمین سے ہونے والی عسکری کارروائیوں اور سرحدی کراسنگز پر بار بار پیدا ہونے والی کشیدگی نے اس عارضی امن کو تہس نہس کر دیا۔
اس صورتحال کے نتیجے میں نہ صرف سیکیورٹی کے حالات بگڑے بلکہ چمن، تورخم اور دیگر سرحدی راستوں سے ہونے والی دوطرفہ تجارت اور عام شہریوں کی نقل و حرکت بھی شدید متاثر ہوئی، جس کا براہِ راست اثر مقامی معیشت اور سرحدی آبادیوں پر پڑا۔
عسکری نابرابری اور زمینی حقائق
اگر عسکری صلاحیت کا موازنہ کیا جائے تو دونوں فریقین میں ایک واضح خلیج موجود ہے۔ پاکستان کے پاس 6 لاکھ سے زائد فعال فوجی، 400 سے زائد جدید جنگی طیارے اور بکتر بند گاڑیاں موجود ہیں، جبکہ طالبان کی فورسز کی تعداد تقریباً 1 لاکھ 72 ہزار کے قریب ہے اور ان کی فضائی صلاحیت انتہائی محدود اور غیر واضح ہے۔ تاہم، عسکری برتری کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کوئی بھی ممکنہ تصادم مختصر یا آسان ہوگا۔
افغانستان کا دشوار گزار پہاڑی جغرافیہ، طویل غیر محفوظ سرحد اور طالبان کا دہائیوں پر محیط غیر روایتی گوریلا جنگ کا تجربہ کسی بھی عسکری مہم کو طویل اور پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے افغانستان کے اندر بلا تعطل کارروائیاں کرنا شہری ہلاکتوں اور سفارتی ردعمل کا خطرہ بڑھاتا ہے، جبکہ صرف اپنی سرحد کے اندر دفاعی حکمتِ عملی اپنانے سے ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔
نظریاتی وابستگی سے ریاستی مفاد تک
پاکستان اور طالبان کے موجودہ تعلقات سے سب سے بڑا سبق یہ سامنے آیا ہے کہ مذہبی یا تاریخی قربت کبھی بھی مستقل ریاستی مفادات کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ طالبان حکومت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اسلام آباد کی ہدایات پر چلنے کے بجائے اپنے قومی اور سیاسی احکامات پر عمل پیرا ہے۔
اب دونوں ریاستوں کے لیے لازم ہے کہ وہ ماضی کی فرسودہ توقعات اور نظریاتی مفروضوں سے باہر نکلیں۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک ایسے کابل کے ساتھ سرحد، سلامتی اور تجارت پر مبنی نئے اور واضح اصول طے کرے جو اس کی مرضی کے مطابق نہیں بلکہ اپنی الگ سیاسی سمت میں سفر کر رہا ہے۔





تبصرے