دنیا کے بڑے شہروں میں موسم کا رویہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ غیر متوقع ہوتا جارہا ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق 112 بڑے شہروں میں سے بیشتر میں بارش اور خشکی کے رجحانات واضح طور پر بدل چکے ہیں، جبکہ کراچی اور فیصل آباد ان شہروں میں شامل ہیں جہاں موسمی خطرات کے ساتھ سماجی کمزوری بھی نمایاں ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کو عموماً بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، شدید گرمی یا پگھلتے گلیشیئرز سے جوڑا جاتا ہے، لیکن دنیا کے شہروں کے لیے اس بحران کی ایک زیادہ پیچیدہ شکل سامنے آرہی ہے۔ موسم بعض مقامات پر صرف گرم نہیں ہورہا بلکہ اس کے رویے میں ایسی تبدیلی آرہی ہے جس میں خشک سالی اور شدید بارش ایک دوسرے کے بعد نمودار ہوسکتی ہیں۔
اسی کیفیت کو ماہرین Climate Whiplash کہتے ہیں۔ اس سے مراد ایسے موسمی حالات ہیں جن میں کوئی علاقہ شدید خشکی سے نکل کر نسبتاً کم عرصے میں غیر معمولی نمی یا شدید بارش کی طرف چلا جائے، یا اس کے برعکس۔ نئی تحقیق میں دنیا کے 112 بڑے شہروں کا جائزہ لیا گیا تو 95 فیصد شہروں میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران کسی نہ کسی سمت میں نمایاں موسمی تبدیلی دیکھی گئی۔
تحقیق میں Climate Flip کی اصطلاح بھی استعمال کی گئی ہے۔ اس سے مراد کسی شہر کے موسمی رجحان کا ایک سمت سے دوسری سمت منتقل ہونا ہے۔ گزشتہ 20 برس کے دوران 24 شہروں میں ایسی نمایاں تبدیلی سامنے آئی۔ قاہرہ، میڈرڈ اور ریاض ان شہروں میں شامل تھے جہاں خشک حالات کی طرف رجحان بڑھا، جبکہ بھارت کے لکھنؤ اور سورت اور نائجیریا کے کانو میں خشک سے زیادہ مرطوب حالات کی طرف تبدیلی دیکھی گئی۔
یہ تبدیلی شہری منصوبہ بندی کے لیے اس لیے اہم ہے کہ شہر عموماً اپنے پانی کے ذخائر، نکاسیٔ آب، سیوریج اور بنیادی ڈھانچے کو ایک مخصوص موسمی پیٹرن کو سامنے رکھ کر تیار کرتے ہیں۔ اگر موسم ہی تیزی سے اپنی نوعیت بدلنے لگے تو کئی دہائیوں پرانے منصوبے موجودہ خطرات کے مقابلے میں ناکافی ثابت ہوسکتے ہیں۔
ایک ہی شہر میں سیلاب بھی، خشک سالی بھی
تحقیق میں 17 ایسے شہر بھی سامنے آئے جہاں شدید خشک اور شدید مرطوب حالات دونوں میں اضافہ ہوا۔ چین کا ہانگژو، انڈونیشیا کا جکارتا اور امریکا کا ڈلاس ان شہروں میں شامل تھے، جبکہ بغداد، بینکاک، میلبورن اور نیروبی بھی اسی رجحان کا سامنا کررہے ہیں۔
ایسے شہروں کے لیے چیلنج صرف یہ نہیں کہ انہیں خشک سالی سے نمٹنا ہے یا سیلاب سے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دونوں خطرات ایک ہی موسمی نظام کا حصہ بن سکتے ہیں۔ پانی بچانے کے لیے بنائے گئے انتظامات کے فوراً بعد شدید بارش کا دباؤ آسکتا ہے، جبکہ خشک سالی کے بعد ہونے والی چند شدید بارشیں پانی کی طویل مدتی کمی کا مسئلہ بھی حل نہیں کرتیں۔
بظاہر یہ بات عجیب لگ سکتی ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ایک ہی وقت میں خشک سالی اور شدید بارش دونوں کو بڑھا سکتا ہے، لیکن اس کی ایک بنیادی وجہ فضا میں موجود نمی کا رویہ ہے۔ گرم ہوا زیادہ آبی بخارات اپنے اندر رکھ سکتی ہے۔ شدید گرمی میں زمین اور پودوں سے نمی زیادہ تیزی سے خارج ہوسکتی ہے، جس سے خشک حالات سخت ہوجاتے ہیں، جبکہ جب بارش کے لیے سازگار حالات پیدا ہوں تو فضا میں موجود اضافی نمی کم وقت میں شدید بارش کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔
اس طرح گرم ہوتی دنیا میں مسئلہ صرف درجہ حرارت کا نہیں بلکہ پانی کے قدرتی چکر کے زیادہ غیر متوازن ہونے کا بھی ہے۔
دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی اب شہروں میں رہتی ہے اور بڑے شہری مراکز پہلے ہی پانی، رہائش، صحت، نکاسیٔ آب اور بنیادی سہولتوں کے دباؤ میں ہیں۔ شدید موسمی واقعات ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ بارش کا ایک غیر معمولی سلسلہ سڑکوں، گھروں اور سیوریج کے نظام کو متاثر کرسکتا ہے، جبکہ طویل خشک سالی پانی کے ذخائر، زراعت اور خوراک کی فراہمی پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔
اگر شدید بارش کے دوران سیوریج کا نظام ناکام ہوجائے تو آلودہ پانی بیماریوں کا ذریعہ بن سکتا ہے، جبکہ خشک سالی کے دوران صاف پانی کی کمی صحت کے مسائل کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ یوں موسمیاتی تبدیلی کا شہری اثر صرف موسم کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پانی، صحت، خوراک، رہائش اور معیشت کو ایک ساتھ متاثر کرسکتا ہے۔
کراچی اور فیصل آباد کے لیے کیا مطلب ہے؟
پاکستان کے لیے تحقیق کے نتائج خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ کراچی زیادہ خطرے والے شہروں میں شامل تھا اور یہاں شدید مرطوب حالات کی طرف رجحان دیکھا گیا۔ شہر کے کمزور علاقوں میں شدید بارش کا اثر صرف سڑکوں پر پانی جمع ہونے تک محدود نہیں رہتا بلکہ ناقص نکاسیٔ آب، سیوریج اور کمزور شہری انفرااسٹرکچر ایک دوسرے کے مسائل کو بڑھا سکتے ہیں۔
فیصل آباد ان شہروں میں شامل تھا جہاں موسمی خطرات کے ساتھ سماجی کمزوری بھی نمایاں پائی گئی۔ اس شہر کے لیے بدلتے موسمی حالات کا تعلق صرف شہری زندگی سے نہیں بلکہ زرعی سرگرمیوں سے بھی ہے، کیونکہ پانی اور موسم دونوں مقامی معیشت پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔
جنوبی ایشیا کے کئی دوسرے شہر بھی زیادہ مرطوب حالات کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کا شکار ہیں۔ ممبئی، لاہور اور کابل ان شہروں میں شامل تھے جہاں گزشتہ چار دہائیوں میں اس سمت میں تبدیلی دیکھی گئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سال لازماً زیادہ بارش ہوگی، بلکہ شدید مرطوب مہینوں اور غیر معمولی بارش کے واقعات کے رجحان میں تبدیلی زیادہ اہم ہے۔
دنیا کے دوسرے حصوں میں صورتحال مختلف ہے۔ تحقیق کے مطابق یورپ کے متعدد شہر، جزیرۂ عرب کے پہلے سے خشک علاقے اور امریکا کے کئی مقامات زیادہ خشک حالات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پیرس، لاس اینجلس، کیپ ٹاؤن اور ریو ڈی جنیرو ان شہروں میں شامل تھے جہاں گزشتہ 40 برس میں خشکی کا رجحان نمایاں رہا۔
یہ فرق ایک بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے: موسمیاتی تبدیلی ہر شہر کو ایک ہی انداز میں متاثر نہیں کرے گی۔ کسی شہر کو زیادہ بارش کا سامنا ہوسکتا ہے، کسی کو خشک سالی کا اور کسی کو دونوں انتہاؤں کا۔
اوسط موسم سے آگے دیکھنے کی ضرورت
تحقیق میں نیروبی کی مثال خاص طور پر اہم ہے، جہاں خشک سالی کے کئی ادوار کے بعد شدید بارشوں نے سیلاب، مویشیوں کے نقصان، شہری انفرااسٹرکچر کی تباہی اور آلودہ پانی جیسے مسائل پیدا کیے۔ اس طرح ایک بحران سے نمٹنے کے لیے کیا گیا انتظام اگلے بحران کے سامنے ناکافی ثابت ہوسکتا ہے۔
اسی لیے شہری منصوبہ بندی کے پرانے طریقے پر نظرثانی کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ کسی شہر کو صرف اس بنیاد پر تیار نہیں کیا جاسکتا کہ وہاں عام طور پر کتنی بارش ہوتی ہے یا اوسط درجہ حرارت کیا رہتا ہے۔ اصل خطرہ بعض اوقات انہی چند غیر معمولی واقعات میں چھپا ہوتا ہے جو پورے شہر کے نظام کو ایک ساتھ متاثر کردیں۔
محققین نے 1983 سے 2023 تک کے ماہانہ بارش اور تبخیر کے اعداد و شمار کا جائزہ SPEI نامی اشاریے کے ذریعے لیا۔ اس میں بارش کے ساتھ بخارات بننے کے اثر کو بھی شامل کیا جاتا ہے تاکہ خشک اور مرطوب حالات کی شدت کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔ چار دہائیوں کے اعداد و شمار کو دو 21 سالہ ادوار میں تقسیم کرکے دیکھا گیا کہ مختلف شہروں میں شدید خشک یا مرطوب حالات کس طرح تبدیل ہوئے۔
یہ تحقیق پاکستان جیسے ملک کے لیے بھی ایک اہم انتباہ ہے۔ کراچی، لاہور اور فیصل آباد جیسے بڑے شہری مراکز پہلے ہی آبادی، پانی اور بنیادی ڈھانچے کے دباؤ سے دوچار ہیں۔ اگر ایک ہی شہر کو کبھی پانی کی شدید کمی اور کبھی اچانک بہت زیادہ پانی کا سامنا ہونے لگے تو صرف ایک خطرے پر مبنی منصوبہ بندی کافی نہیں رہے گی۔
اس کا مطلب بہتر نکاسیٔ آب، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام، مضبوط سیوریج، شہری سبزہ، ابتدائی وارننگ سسٹم اور کمزور آبادیوں کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا چیلنج اب صرف یہ نہیں کہ دنیا کتنی گرم ہورہی ہے۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ موسم کتنی تیزی سے اپنی انتہا بدل رہا ہے اور ہمارے شہر اس تبدیلی کے ساتھ کتنی تیزی سے خود کو ڈھال سکتے ہیں۔





تبصرے