زمین بظاہر خاموش اور مستحکم دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کی اوپری تہہ مسلسل حرکت میں ہے۔ جب ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت سے چٹانوں میں جمع دباؤ کسی فالٹ پر اچانک خارج ہوتا ہے تو زلزلہ پیدا ہوتا ہے، جس کے اثرات زمین کے ہلنے سے کہیں آگے تک جا سکتے ہیں۔

زمین ہمارے قدموں کے نیچے جتنی پرسکون دکھائی دیتی ہے، حقیقت میں اتنی پرسکون نہیں۔ اس کی اوپری تہہ کئی بڑی ٹیکٹونک پلیٹوں میں تقسیم ہے جو انتہائی آہستہ رفتار سے حرکت کرتی رہتی ہیں۔ زیادہ تر وقت یہ حرکت انسان محسوس نہیں کرپاتا، لیکن جہاں چٹانی پلیٹیں ایک دوسرے کے مقابل پھنس جاتی ہیں وہاں دباؤ جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ آخرکار جب یہ دباؤ چٹانوں کی رگڑ سے زیادہ ہوجاتا ہے تو فالٹ کے دونوں جانب موجود چٹانیں اچانک سرک جاتی ہیں۔ اسی لمحے جمع شدہ توانائی زلزلائی لہروں کی صورت میں باہر نکلتی ہے اور زمین ہلنے لگتی ہے۔

دنیا کے زیادہ تر بڑے زلزلے ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحدوں کے قریب آتے ہیں، جہاں پلیٹیں ایک دوسرے سے ٹکراتی، ایک دوسرے کے نیچے جاتی یا ساتھ ساتھ سرکتی ہیں۔ بحرالکاہل کے گرد موجود ’’رنگ آف فائر‘‘ اسی وجہ سے دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ تاہم ہر زلزلہ پلیٹوں کی سرحد پر نہیں آتا؛ پلیٹوں کے اندر موجود فالٹس پر بھی دباؤ جمع ہوکر اچانک حرکت پیدا کرسکتا ہے۔

فالٹ دراصل زمین کی پرت میں موجود ایسی دراڑ یا کمزور سطح ہے جہاں چٹانیں ایک دوسرے کے مقابل حرکت کرسکتی ہیں۔ یہ حرکت مختلف انداز میں ہوسکتی ہے۔ اگر چٹانیں ایک دوسرے کے مقابل افقی سمت میں سرکیں تو اسے اسٹرائیک سلپ فالٹ کہا جاتا ہے، جیسا کہ کیلیفورنیا کا سان اینڈریاس فالٹ۔ اگر حرکت اوپر یا نیچے کی سمت ہو تو یہ ڈِپ سلپ فالٹ ہوسکتا ہے، جس میں نارمل اور ریورس فالٹ شامل ہیں۔ بعض جگہ حرکت افقی اور عمودی دونوں سمتوں میں ہوتی ہے جسے اوبلیک فالٹ کہا جاتا ہے۔

زلزلے کے وقت فالٹ پر موجود چٹانوں کے اچانک سرکنے سے توانائی لہروں کی شکل میں زمین کے اندر اور سطح پر پھیلتی ہے۔ انہی Seismic Waves کی وجہ سے عمارتیں، سڑکیں اور زمین ہلتی ہے۔ زلزلے کا سائز Magnitude سے بیان کیا جاتا ہے، جبکہ کسی مخصوص مقام پر محسوس ہونے والی ہلچل یا نقصان کی شدت مختلف ہوسکتی ہے۔ اسی لیے ایک ہی زلزلے کا اثر دو مختلف علاقوں میں ایک جیسا نہیں ہوتا۔

عام طور پر جسے لوگ ’’ریکٹر اسکیل‘‘ کہتے ہیں، جدید بڑے زلزلوں کے لیے سائنس دان زیادہ تر Moment Magnitude (Mw) استعمال کرتے ہیں۔ میگنیٹیوڈ میں ہر ایک مکمل عدد کے اضافے کا مطلب زلزلائی لہروں کے amplitude میں تقریباً دس گنا اضافہ اور خارج ہونے والی توانائی میں تقریباً 32 گنا اضافہ ہے۔ اس لیے 8 شدت کا زلزلہ محض 7 شدت کے زلزلے سے تھوڑا سا بڑا نہیں ہوتا بلکہ توانائی کے لحاظ سے بہت زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔

اب تک ریکارڈ کیا گیا سب سے طاقتور زلزلہ 22 مئی 1960 کو جنوبی چلی میں آیا تھا۔ اس کی میگنیٹیوڈ 9.5 تھی اور اسے والڈیویا زلزلہ کہا جاتا ہے۔ اس زلزلے نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی اور بحرالکاہل میں سونامی پیدا کیا جس کے اثرات چلی سے بہت دور دوسرے ساحلی علاقوں تک پہنچے۔ میگنیٹیوڈ 10 کا کوئی زلزلہ اب تک ریکارڈ نہیں ہوا۔

سونامی کا تعلق بھی بعض بڑے زلزلوں سے ہوسکتا ہے، لیکن ہر زلزلہ سونامی نہیں بناتا۔ عام طور پر خطرناک سونامی اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سمندر کے نیچے آنے والا زلزلہ سمندری تہہ کے ایک بڑے حصے کو اچانک عمودی طور پر حرکت دے اور پانی کی بڑی مقدار بے گھر ہوجائے۔ اسی لیے زیرِ سمندر آنے والے ایسے زلزلے، خصوصاً subduction zones میں، ساحلی علاقوں کے لیے خاص خطرہ بن سکتے ہیں۔

زلزلہ ختم ہوجانے کے بعد خطرہ ہمیشہ ختم نہیں ہوتا۔ بڑے زلزلے کے بعد اسی علاقے میں آنے والے نسبتاً چھوٹے جھٹکوں کو Aftershocks کہا جاتا ہے۔ یہ دنوں، ہفتوں، مہینوں اور بعض بڑے زلزلوں کے بعد برسوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔ کبھی بڑے زلزلے سے پہلے بھی چھوٹے جھٹکے آتے ہیں جنہیں Foreshocks کہا جاتا ہے، لیکن کسی چھوٹے زلزلے کو اس وقت تک foreshock نہیں کہا جاسکتا جب تک بعد میں اس سے بڑا زلزلہ نہ آجائے۔

زلزلے کی تباہی صرف زمین کے ہلنے تک محدود نہیں۔ شدید جھٹکے عمارتوں کو گرا سکتے ہیں، زمین میں دراڑیں اور سطحی تبدیلیاں پیدا کرسکتے ہیں، مٹی کے تودے گر سکتے ہیں، بعض علاقوں میں liquefaction ہوسکتی ہے، آگ اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ سمندر کے نیچے آنے والا مناسب نوعیت کا زلزلہ سونامی بھی پیدا کرسکتا ہے۔

اسی لیے کسی ملک کے لیے زلزلے سے نمٹنے کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ زلزلہ کیسے روکا جائے، کیونکہ اسے روکنا ممکن نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے اثرات کو کیسے کم کیا جائے۔ مضبوط اور زلزلہ برداشت کرنے والی عمارتیں، بہتر شہری منصوبہ بندی، ہنگامی ردعمل کا مؤثر نظام اور عوام کو زلزلے کے دوران اور بعد میں درست اقدامات کی تربیت بڑے پیمانے پر جانی نقصان کم کرسکتی ہے۔

زلزلے دراصل زمین کے اندر جاری ایک مسلسل عمل کا اچانک نظر آنے والا نتیجہ ہیں۔ پلیٹیں آہستہ آہستہ حرکت کرتی رہتی ہیں، فالٹس پر دباؤ جمع ہوتا رہتا ہے اور کبھی یہی جمع شدہ توانائی چند سیکنڈ میں زمین کو اس شدت سے ہلا دیتی ہے کہ ایک پورا شہر متاثر ہوسکتا ہے۔

اس لیے زلزلے کو سمجھنا صرف زمین کے ہلنے کی سائنسی وجہ جاننا نہیں۔ اصل اہمیت یہ سمجھنے میں ہے کہ خطرہ کہاں پیدا ہوسکتا ہے، اس کے اثرات کس طرح پھیل سکتے ہیں اور انسان بہتر تعمیرات اور تیاری کے ذریعے اپنے نقصان کو کس حد تک کم کرسکتا ہے۔ قدرتی عمل کو روکا نہیں جاسکتا، لیکن اس کے سامنے ہماری تیاری ضرور بہتر ہوسکتی ہے۔