بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی بھیجی ہوئی رقوم صرف گھر کے روزمرہ اخراجات پورے نہیں کرتیں بلکہ بچوں کی تعلیم، علاج، بہتر رہائش، بچت اور مستقبل کے فیصلوں پر بھی اثر ڈالتی ہیں۔ مگر بیرونِ ملک جانے کے لیے ادا کی جانے والی بھاری فیس اور بعض اوقات استحصالی نظام اس معاشی امید کو خطرے میں بھی ڈال دیتا ہے۔

ایک گھر کی آمدنی، پورے خاندان کی زندگی

نذیر سلیمان 65 برس کے تھے جب انہیں دل کے ایک بڑے آپریشن کی ضرورت پڑی۔ پاکستان میں علاج اور بعد میں ادویات کے اخراجات اس بیٹے کی بھیجی ہوئی رقم سے پورے ہوئے جو کویت میں کام کرتا تھا۔ نذیر کے لیے یہ رقم صرف بیرونِ ملک سے آنے والی آمدنی نہیں تھی، بلکہ اس نے انہیں دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے کا موقع دیا۔

ان کا خاندان پہلے تقریباً 25 ہزار روپے ماہانہ کی آمدنی پر گزارا کرتا تھا۔ بڑے بیٹے کے بیرونِ ملک جانے کے بعد گھر کی آمدنی تقریباً دگنی ہوگئی۔ پاکستان میں ایسے بے شمار خاندان ہیں جن کے لیے بیرونِ ملک سے آنے والی رقم اسی طرح کسی بیماری کا علاج، بچے کی تعلیم، گھر کی تعمیر یا مستقبل کی بچت ممکن بناتی ہے۔

ترسیلاتِ زر سے مراد بیرونِ ملک کام کرنے یا رہنے والے افراد کی جانب سے اپنے ملک میں خاندان یا دوسرے افراد کو بھیجی جانے والی رقم ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں اس رقم کا سب سے فوری اثر گھریلو زندگی پر پڑتا ہے۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے ایک مطالعے میں زیادہ ہجرت والے نو اضلاع کے 500 خاندانوں کا جائزہ لیا گیا۔ سعودی عرب سے آنے والی رقوم پر مرکوز اس مطالعے کے مطابق بیرونِ ملک خاندان کے فرد کے جانے کے بعد ہر گھرانے کو موصول ہونے والی ترسیلات کی اوسط مجموعی رقم تقریباً 10 لاکھ 50 ہزار روپے تھی۔

یہ رقم صرف کھانے پینے کے اخراجات تک محدود نہیں رہی۔ خاندانوں نے اسے خوراک، تعلیم، صحت، شادی، بچت اور جائیداد یا زرعی مشینری میں سرمایہ کاری کے لیے بھی استعمال کیا۔

کسی گھر میں یہی رقم بچے کی تعلیم جاری رکھنے کا سبب بنتی ہے، تو کسی دوسرے گھر میں والدین کے علاج یا بہتر رہائش کا ذریعہ۔ جہاں آمدنی پہلے ہی محدود ہو، وہاں مستقل طور پر آنے والی چند ہزار یا چند لاکھ روپے کی رقم خاندان کے فیصلوں کا پورا انداز بدل سکتی ہے۔

رقم کے ساتھ مستقبل کی امید بھی آتی ہے

پاکستان کے کئی علاقوں میں بیرونِ ملک ہجرت صرف ایک فرد کا فیصلہ نہیں ہوتی۔ پورا خاندان اس فیصلے میں شریک ہوتا ہے اور اکثر مستقبل کے بڑے اخراجات بھی اسی آمدنی سے جوڑ دیے جاتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم، بہن یا بیٹی کی شادی، گھر کی تعمیر اور کچھ رقم بچا لینا ایسے مقاصد ہیں جن کے لیے خاندان برسوں انتظار کرتے ہیں۔

لیکن بیرونِ ملک جانے کا سفر خود بھی سستا نہیں ہوتا۔ بعض نوجوان ایجنٹوں یا درمیانی افراد کو بھاری رقم ادا کرتے ہیں۔ گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کی مثال میں بیرونِ ملک جانے کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے ایجنٹ کو دیے گئے، جبکہ امید یہ تھی کہ مستقبل کی آمدنی سے خاندان کی بڑی مالی ذمہ داریاں پوری کی جاسکیں گی۔

یہاں ترسیلاتِ زر کی پوری کہانی کا دوسرا رخ سامنے آتا ہے۔ بیرونِ ملک کمائی خاندان کے لیے معاشی سہارا بن سکتی ہے، لیکن اس سہارا تک پہنچنے کی قیمت بعض اوقات اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ خاندان کو پہلے قرض لینا پڑتا ہے یا اپنی محدود جمع پونجی خرچ کرنا پڑتی ہے۔

زیادہ ہجرت والے علاقوں میں بھرتی کرنے والے ایجنٹ اور درمیانی افراد بیرونِ ملک روزگار کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب فیس غیر معمولی حد تک بڑھ جائے، ملازمت کے بارے میں معلومات واضح نہ ہوں یا امیدواروں سے ناجائز رقم وصول کی جائے۔ ایسی صورت میں تارکِ وطن کی ابتدائی کمائی کا بڑا حصہ بیرونِ ملک جانے کے اخراجات پورے کرنے میں صرف ہوسکتا ہے۔

اسی لیے ترسیلاتِ زر کے فوائد کو سمجھنے کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کتنی رقم پاکستان پہنچ رہی ہے۔ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اس رقم تک پہنچنے کے لیے ایک پاکستانی خاندان نے کتنی قیمت ادا کی۔

جب ترسیلاتِ زر زندگی بدلنے لگتی ہیں

اگر بیرونِ ملک سے آنے والی رقم صرف روزمرہ اخراجات میں ختم ہونے کے بجائے تعلیم، بچت، کاروبار، زمین، گھر یا زرعی مشینری میں لگائی جائے تو اس کے اثرات زیادہ دیر تک قائم رہ سکتے ہیں۔

ایک خاندان کے لیے بہتر اسکول، دوسرے کے لیے اپنا گھر اور تیسرے کے لیے چھوٹا کاروبار شروع کرنے کی صلاحیت—یہ سب ترسیلاتِ زر کے ایسے اثرات ہیں جو قومی اعدادوشمار میں شاید نظر نہ آئیں، مگر گھر کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی پیدا کرسکتے ہیں۔

تاہم ہر خاندان کو یکساں فائدہ نہیں ملتا۔ مستحکم قانونی ملازمت کرنے والا تارکِ وطن باقاعدگی سے رقم بھیج سکتا ہے، جبکہ غیر محفوظ روزگار، کم آمدنی یا بیرونِ ملک جانے کے لیے لیا گیا قرض اس صلاحیت کو محدود کرسکتا ہے۔

پاکستان کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ ترسیلاتِ زر کو صرف بیرونِ ملک پاکستانیوں کی بھیجی ہوئی رقم سمجھنے کے بجائے ایک وسیع معاشی عمل کے طور پر دیکھا جائے۔ اگر بیرونِ ملک روزگار کے لیے بھرتی کا نظام شفاف ہو، غیر ضروری اخراجات کم ہوں، استحصالی ایجنٹوں کا کردار محدود کیا جائے اور قانونی روزگار کے راستے آسان بنائے جائیں تو تارکینِ وطن کی کمائی کا زیادہ حصہ براہِ راست خاندانوں کے معیارِ زندگی کو بہتر کرسکتا ہے۔

آخرکار ترسیلاتِ زر کی اصل کہانی اربوں روپے کے اعدادوشمار سے زیادہ ان گھروں میں نظر آتی ہے جہاں کسی والد کا علاج ممکن ہوتا ہے، کوئی بچہ اسکول میں رہتا ہے، کسی بیٹی کی شادی کا خرچ پورا ہوتا ہے یا برسوں بعد ایک خاندان کرائے کے مکان سے اپنے گھر منتقل ہوجاتا ہے۔

بیرونِ ملک کام کرنے والے ایک فرد کی کمائی اس کے اپنے گھر سے بہت آگے تک اثر ڈال سکتی ہے۔ یہی ترسیلاتِ زر کی اصل طاقت ہے۔