مشہور سیلو نواز یویو ما کے لیے موسیقی صرف فن کا اظہار نہیں بلکہ مختلف تہذیبوں کے درمیان مکالمے کا ذریعہ بھی ہے۔ قدیم سلک روڈ سے متاثر ہو کر انہوں نے دنیا بھر کے موسیقاروں کو ایک ایسے منصوبے میں اکٹھا کیا جہاں مختلف ثقافتوں کی دھنیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔
ایک کلاس روم میں بچے خاموش بیٹھے ہیں۔ سامنے یویو ما اپنی سیلو اٹھائے کبھی شیر کی چال کی نقل کرتے ہیں اور کبھی بچوں سے پوچھتے ہیں کہ موسیقی انہیں کس جانور کی یاد دلاتی ہے۔ پھر چینی ساز شینگ کی تیز آواز فضا بدل دیتی ہے۔ بچے چونک کر اس آواز کو سنتے ہیں اور موسیقی ختم ہونے پر تالیاں بجانے لگتے ہیں۔
یہ محض بچوں کو موسیقی سمجھانے کا ایک دلچسپ طریقہ نہیں۔ یہ یویو ما کے اس بڑے خیال کی جھلک بھی ہے کہ مختلف ثقافتوں کو سمجھنے کے لیے ہمیشہ مشترکہ زبان ضروری نہیں ہوتی۔ کبھی موسیقی بھی وہ کام کرسکتی ہے جو الفاظ نہیں کر پاتے۔
دنیا کے مختلف حصوں میں کئی دہائیوں تک سفر اور پرفارم کرتے ہوئے ما نے دیکھا کہ ساز، دھنیں اور موسیقی کے انداز صدیوں سے ایک خطے سے دوسرے خطے تک سفر کرتے رہے ہیں۔ ان کے لیے اس ثقافتی سفر کی سب سے دلچسپ مثال قدیم سلک روڈ بنی۔
سلک روڈ صرف ریشم کی تجارت کا راستہ نہیں تھا۔ یہ ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے مختلف علاقوں کو ملانے والے تجارتی راستوں کا وسیع نیٹ ورک تھا۔ ان راستوں سے ریشم اور دوسری اشیا کے ساتھ خیالات، مذاہب، زبانیں، فنون اور موسیقی بھی سفر کرتی رہی۔
سمرقند، بخارا، کاشغر اور دوسرے مراکز میں مختلف علاقوں کے تاجر، مسافر، مذہبی شخصیات اور فنکار ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ یہی میل جول مختلف تہذیبوں کے درمیان نئے تعلقات پیدا کرتا رہا۔
وقت کے ساتھ سمندری تجارت کے بڑھنے سے زمینی سلک روڈ کی اہمیت کم ہوگئی، لیکن اس راستے سے پیدا ہونے والے ثقافتی اثرات ختم نہیں ہوئے۔ دھنیں، ساز اور فنون نئی جگہوں پر پہنچ کر بدلتے رہے اور نئی شکلیں اختیار کرتے رہے۔
یویو ما نے اسی پرانے ثقافتی سفر کو جدید دنیا میں موسیقی کے ذریعے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی۔
موسیقی کا ایک نیا راستہ
یویو ما کی شہرت بنیادی طور پر ایک ممتاز سیلو نواز کی حیثیت سے ہوئی، لیکن وقت کے ساتھ ان کی دلچسپی روایتی کلاسیکی موسیقی سے آگے بڑھتی گئی۔ وہ مختلف معاشروں اور موسیقی کی روایات کے درمیان تعلق تلاش کرنے لگے۔
اسی سوچ کے تحت انہوں نے Silk Road Project شروع کیا۔ مقصد یہ تھا کہ قدیم سلک روڈ سے جڑی تہذیبوں کے درمیان ثقافتی روابط کو موسیقی کے ذریعے دریافت کیا جائے اور مختلف علاقوں کے فنکاروں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے۔
بعد میں یہی کوشش Silk Road Ensemble کی صورت اختیار کرگئی۔ مختلف ملکوں کے موسیقار اس کا حصہ بنے اور مختلف سازوں اور موسیقی کی روایات کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر نئی تخلیقات پیش کی گئیں۔
چینی پِیپا اور شینگ جیسے روایتی ساز سیلو اور وائلن کے ساتھ بجنے لگے۔ بعض تخلیقات میں وسطی ایشیائی لوک موسیقی، صوفیانہ روایات، کورین ڈھول اور دیگر ثقافتی اثرات بھی شامل ہوئے۔
یہاں مقصد پرانی موسیقی کو صرف محفوظ کرنا نہیں تھا بلکہ اسے موجودہ دور میں ایک نئی زندگی دینا تھا۔ یوں ماضی کی موسیقی جدید کمپوزیشن کا حصہ بنتی گئی۔
یویو ما کی اپنی زندگی بھی اس خیال سے مختلف نہیں۔ وہ 1955 میں پیرس میں پیدا ہوئے جہاں ان کے چینی والدین منتقل ہوئے تھے۔ ان کے والد موسیقار اور وائلن نواز تھے۔ ما نے بچپن میں مینڈرن اور فرانسیسی سیکھی اور سات برس کی عمر میں خاندان کے ساتھ نیویارک منتقل ہونے کے بعد انگریزی سیکھی۔
کم عمری ہی میں ان کی موسیقی کی صلاحیت نمایاں ہوگئی۔ انہوں نے ممتاز اداروں میں تعلیم حاصل کی، کم عمری میں بڑے اسٹیجز پر پرفارم کیا اور بعد میں ہارورڈ میں ہیومینیٹیز کی تعلیم بھی حاصل کی۔
اسی وسیع دلچسپی نے انہیں مختلف فنون اور ثقافتوں کے ساتھ تجربات کی طرف مائل کیا۔ امریکی دیہی موسیقی سے ارجنٹائن کے ٹینگو تک، ما نے مختلف روایات کو اپنے فنی سفر کا حصہ بنایا۔ سلک روڈ منصوبہ اسی سوچ کا ایک بڑا اظہار تھا۔
پاکستان بھی اس کہانی کا حصہ ہے
سلک روڈ کا ثقافتی تصور صرف بڑے کنسرٹ ہالز یا عالمی شہرت یافتہ موسیقاروں تک محدود نہیں۔ پاکستان کی اپنی کئی روایات بھی اس وسیع ثقافتی سفر کی مثالیں پیش کرتی ہیں۔
کراچی کا ٹرک آرٹ ان میں سے ایک ہے۔ پاکستانی ٹرکوں پر مختلف علاقوں کے رنگ، نقش و نگار، شاعری اور علامتی تصاویر ایک ہی چلتے پھرتے فن پارے میں جمع ہوجاتی ہیں۔
کراچی میں ٹرک آرٹ سے وابستہ فنکاروں کے ساتھ ایک ایسے ٹرک کا تصور بھی پیش کیا گیا جس میں پاکستان کے مختلف علاقوں کی آرائشی روایات کو ایک جگہ جمع کیا جائے۔ بلوچستان کی جڑائی، سندھ کے شیشے اور دھات کا کام اور دوسرے علاقائی عناصر اس فن پارے کا حصہ بنے۔
یہ محض ایک ٹرک کی سجاوٹ نہیں تھی بلکہ پاکستان کے اندر موجود مختلف ثقافتی روایات کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش تھی۔
گندھارا فن بھی اسی طرح تہذیبوں کے ملاپ کی تاریخی مثال ہے۔ قدیم گندھارا میں یونانی فن کے اثرات جنوبی ایشیائی اور بدھ مت کی روایات کے ساتھ ملتے ہیں۔ مختلف تہذیبوں کے میل جول سے پیدا ہونے والی یہ نئی جمالیات آج بھی اس خطے کی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
یہی وہ امتزاج ہے جسے یویو ما سلک روڈ کی اصل میراث سمجھتے ہیں: مختلف ثقافتوں کا ایک دوسرے کو ختم کرنا نہیں بلکہ ایک دوسرے سے اثر لے کر کچھ نیا تخلیق کرنا۔
موسیقی کے ذریعے اس خیال کو آج کے دور میں دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش اس لیے بھی دلچسپ ہے کہ وسطی ایشیا، افغانستان اور جنوبی ایشیا جیسے خطوں کو صرف سیاست، تجارت یا جغرافیے سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ ان معاشروں کی موسیقی، فن، مذہبی روایات اور اجتماعی یادداشت بھی ان کی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔
یویو ما کا منصوبہ کسی جنگ یا سیاسی تنازع کو براہِ راست ختم نہیں کرسکتا، لیکن یہ مختلف معاشروں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے تجربات سمجھنے کا موقع ضرور دے سکتا ہے۔
جب کوئی شخص کسی دوسرے خطے کی موسیقی سنتا ہے اور اس میں غم، خوشی، محبت یا خوف جیسے وہی جذبات محسوس کرتا ہے جو وہ خود جانتا ہے تو دوسرا معاشرہ کچھ کم اجنبی محسوس ہونے لگتا ہے۔
شاید یہی یویو ما کے سلک روڈ کے خواب کی اصل اہمیت ہے۔
قدیم سلک روڈ پر کبھی ریشم، مصالحے اور دوسری اشیا سفر کرتی تھیں۔ یویو ما نے اسی تصور کو ایک نئے معنی دینے کی کوشش کی ہے: ایسا راستہ جہاں سامان کے بجائے موسیقی سفر کرے، قافلوں کے بجائے خیالات آگے بڑھیں اور مختلف تہذیبیں ایک دوسرے کو مٹانے کے بجائے ایک دوسرے سے کچھ نیا سیکھیں۔





تبصرے