پاکستان میں کرکٹ کمنٹری محض گیند، بلے اور رنز کی تفصیل بیان کرنے کا نام نہیں رہی بلکہ اس نے کھیل کی یادوں، شخصیات اور بڑے لمحات کو نسلوں تک پہنچایا۔ عمر قریشی اور جمشید مارکر سے شروع ہونے والی یہ روایت چشتی مجاہد اور افتخار احمد جیسے مقبول ناموں تک پہنچی، پھر ٹیلی وژن کے بدلتے منظرنامے اور سابق کھلاڑیوں کی آمد نے کمنٹری کا پورا مزاج بدل دیا۔

ایک زمانہ تھا جب پاکستان میں کرکٹ دیکھنے کے لیے ٹیلی وژن کے سامنے بیٹھنا ضروری نہیں تھا۔ ریڈیو کھولا جاتا، آواز صاف کی جاتی اور پھر کمنٹیٹر کی آواز سے میدان کا نقشہ ذہن میں بننے لگتا۔ گیند کہاں پچ ہوئی، بلے باز نے کس انداز سے شاٹ کھیلا، فیلڈر کس طرف دوڑا اور گیند باؤنڈری تک پہنچی یا نہیں، یہ سب کچھ صرف آواز کے ذریعے سمجھا جاتا تھا۔ آج جب ایک ہی گیند کو کئی کیمروں، ری پلے، گرافکس اور مختلف زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے، اس دور کی کمنٹری ایک الگ فن محسوس ہوتی ہے۔ پاکستان میں اس فن نے کئی ایسی آوازیں پیدا کیں جو خود کرکٹ کی یادداشت کا حصہ بن گئیں۔

بین الاقوامی سطح پر ابتدائی کمنٹیٹرز میں زیادہ تر صحافی اور کھیل کے ماہرین شامل ہوتے تھے۔ بعد میں سابق آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹر رچی بینوڈ جیسے لوگوں نے کمنٹری کو محض منظرکشی سے آگے بڑھایا۔ اب کمنٹیٹر یہ بھی بتانے لگا تھا کہ بلے باز نے کوئی شاٹ کیوں کھیلا، کپتان نے فیلڈ اس انداز میں کیوں لگائی یا گیند باز کس کمزوری کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یوں کمنٹری کھیل کی تفصیل کے ساتھ اس کی حکمتِ عملی سمجھانے کا ذریعہ بھی بن گئی۔

پاکستان میں ریڈیو کمنٹری کی ابتدائی نمایاں آوازوں میں عمر قریشی اور جمشید مارکر کے نام آتے ہیں۔ دونوں نے 1950 کی دہائی کے آغاز میں ریڈیو پاکستان کے لیے ٹیسٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹ کی کمنٹری شروع کی۔ اس دور میں کمنٹیٹر کا کھلاڑیوں سے تعلق بھی آج کی نسبت زیادہ قریب تھا۔ عمر قریشی کے کرکٹ حلقوں میں گہرے روابط تھے اور وہ اس زمانے کی کئی اہم شخصیات سے بھی واقفیت رکھتے تھے۔ جمشید مارکر نے 1965 میں کمنٹری چھوڑ کر سفارت کاری اختیار کر لی اور بعد میں مختلف ممالک میں پاکستان کے سفیر رہے۔ ان کے جانے کے بعد عمر قریشی پاکستان کی کرکٹ کمنٹری کی نمایاں آوازوں میں شامل رہے۔

1968 میں چشتی مجاہد ریڈیو پاکستان سے کمنٹری کی دنیا میں آئے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے اور کیمبرج کے فارغ التحصیل مجاہد نے جلد ہی اپنی الگ پہچان بنائی۔ 1970 میں جب پاکستان ٹیلی وژن نے ملک میں ٹیسٹ کرکٹ کی براہِ راست نشریات شروع کیں تو وہ ابتدائی ٹی وی کمنٹیٹرز میں شامل تھے۔ عمر قریشی نے انہیں اپنے قریب رکھا اور اسی دور میں افتخار احمد بھی کمنٹری کے منظرنامے پر نمایاں ہونے لگے۔ چشتی مجاہد کا انداز نسبتاً پرسکون، برجستہ اور خشک مزاح لیے ہوئے تھا، جبکہ افتخار احمد کی آواز میں ایک خاص جوش تھا جو سنسنی خیز لمحات میں فوراً محسوس ہوتا تھا۔

1978 میں پاکستان اور بھارت کی سیریز نے افتخار احمد کی مقبولیت کو ایک نئی سطح تک پہنچا دیا۔ پاکستان کو کئی مواقع پر تیز رفتاری سے رنز درکار تھے اور ایسے لمحات میں ان کی بلند اور جذباتی آواز شائقین کی توجہ کا مرکز بن جاتی۔ چشتی مجاہد اور افتخار احمد کی جوڑی بعد میں پاکستانی کرکٹ کمنٹری کی معروف جوڑیوں میں شمار ہونے لگی۔ اسی سیریز میں اردو کمنٹری کو بھی نمایاں جگہ ملی۔ صحافی اور ناشر منیر حسین کے علاوہ سابق پاکستانی فاسٹ بولر اور کپتان فضل محمود نے بھی اردو میں کمنٹری کی۔ ابتدا میں کرکٹ کی انگریزی اصطلاحات کے لفظی اردو تراجم کچھ غیر مانوس محسوس ہوئے، مگر وقت کے ساتھ اردو کمنٹری نے اپنا ایک قدرتی انداز پیدا کر لیا، جس میں کئی معروف انگریزی اصطلاحات بھی برقرار رہیں۔

اس زمانے میں کمنٹیٹر اور کھلاڑیوں کے درمیان فاصلہ بھی بہت کم تھا۔ افتخار احمد کے عمران خان سمیت کئی پاکستانی کھلاڑیوں سے قریبی تعلقات تھے، جبکہ منیر حسین اور عمر قریشی بھی ٹیم اور کھلاڑیوں کے حلقے میں خاصا اثر رکھتے تھے۔ 1977 میں کیری پیکر کی ورلڈ سیریز کرکٹ میں شرکت کے باعث پاکستان کے بعض بڑے کھلاڑی حکومتی پابندی کی زد میں آئے تو عمر قریشی نے ان کی واپسی کے لیے کردار ادا کیا۔ اگلے برس بھارت کے خلاف ہوم سیریز میں یہ کھلاڑی دوبارہ پاکستان ٹیم کا حصہ بنے اور پاکستان نے سیریز 2-0 سے جیتی۔

1980 کی دہائی میں پاکستانی کمنٹیٹرز کی مقبولیت مزید بڑھی۔ شارجہ کے ون ڈے ٹورنامنٹس، خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے مقابلوں نے کمنٹری کی آوازوں کو لاکھوں گھروں تک پہنچا دیا۔ 1986 میں شارجہ میں جاوید میانداد کے آخری گیند پر بھارت کے خلاف چھکا لگانے کا لمحہ بھی افتخار احمد کی آواز میں محفوظ ہوا۔ یہ صرف ایک تاریخی شاٹ نہیں تھا؛ اسے بیان کرنے والی آواز بھی اس واقعے کی یاد کا حصہ بن گئی۔ 1987 کا ورلڈ کپ، جس کی میزبانی پاکستان اور بھارت نے کی، اس نسل کے مقامی کمنٹیٹرز کے عروج کا ایک اہم مرحلہ تھا۔ لیکن اسی دوران کرکٹ کی نشریات کا پورا نظام تبدیل ہونا شروع ہو چکا تھا۔

سابق ٹیسٹ کھلاڑی تیزی سے کمنٹری باکس میں جگہ بنانے لگے۔ ان کے پاس کھیلنے کا تجربہ تھا اور وہ میدان میں ہونے والی حکمتِ عملی کو اپنے تجربے کی بنیاد پر بیان کر سکتے تھے۔ دوسری طرف ٹیلی وژن کی عالمی رسائی بڑھ رہی تھی اور بین الاقوامی نشریاتی ادارے اپنی کمنٹری ٹیمیں تشکیل دے رہے تھے۔ 1993 میں پاکستان کے دورۂ ویسٹ انڈیز کے دوران اسکائی ٹی وی اور اسٹار ٹی وی کی کوریج میں بھی یہی تبدیلی نمایاں تھی۔ بین الاقوامی کمنٹری پینلز میں سابق کھلاڑیوں کی تعداد بڑھ رہی تھی اور پاکستان کی طرف سے اس نئے دور میں عمران خان جیسے سابق کپتان نمایاں ہوئے۔ کمنٹری اب مقامی ریڈیو یا قومی ٹی وی کی حد تک محدود نہیں رہی تھی بلکہ ایک عالمی نشریاتی صنعت کا حصہ بن چکی تھی۔

1990 کی دہائی کے آخر میں رمیز راجہ نے بین الاقوامی کمنٹری پینلز میں جگہ بنائی۔ ان کے بعد وسیم اکرم، عامر سہیل اور وقار یونس جیسے سابق پاکستانی کھلاڑی بھی اس میدان میں آئے۔ اس تبدیلی نے کمنٹری کا مزاج بدل دیا۔ اب سابق کھلاڑی کے میدان میں گزارے ہوئے تجربے کو کمنٹری کی بڑی خوبی سمجھا جاتا تھا۔ اس کے نتیجے میں عمر قریشی، افتخار احمد اور چشتی مجاہد جیسی پرانی آوازیں آہستہ آہستہ پس منظر میں چلی گئیں۔ 2011 میں پی ٹی وی نے چشتی مجاہد اور افتخار احمد کو ایک پوسٹ میچ پروگرام کے لیے دوبارہ مدعو کیا۔ چشتی مجاہد نے بعد میں ٹین اسپورٹس کے لیے متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے میچز کی کمنٹری بھی کی، جبکہ افتخار احمد اس مختصر واپسی کے بعد دوبارہ ریٹائر ہو گئے۔ عمر قریشی 2005 میں انتقال کر گئے اور منیر حسین 2013 میں وفات پا گئے، جبکہ حسن جلیل نے ریڈیو اور ٹی وی پر بالخصوص ڈومیسٹک کرکٹ کے دوران کمنٹری جاری رکھی۔

پرانی کمنٹری کی کشش صرف اس لیے نہیں تھی کہ اس میں کھیل کی تفصیل بیان کی جاتی تھی۔ اس میں انسان بھی نظر آتے تھے، ان کی بے ساختگی، مزاح اور کبھی کبھار پیدا ہونے والی عجیب صورت حال بھی سننے والوں تک پہنچتی تھی۔ لالا امرناتھ کے ایک انٹرویو میں وقفہ ختم ہونے کے باوجود گفتگو جاری رہی اور افتخار احمد کئی بار شکریہ ادا کر کے اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہے، مگر امرناتھ اپنی بات مکمل کیے بغیر رکنے پر تیار نہیں تھے۔ ایک اور موقع پر نیوزی لینڈ کے کپتان جیریمی کونی سے پاکستانی اسپنرز کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اچانک امپائرنگ پر اعتراضات شروع کر دیے اور یہاں تک کہا کہ ان کی ٹیم دورہ ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ایسے لمحات کمنٹری کو صرف کھیل کی رپورٹ نہیں رہنے دیتے تھے بلکہ اسے خود ایک یادگار نشریاتی تجربہ بنا دیتے تھے۔

افتخار احمد کی اپنی ایک الگ پہچان تھی۔ ان کے جوشیلے انداز اور بلند آواز نے کئی جملوں کو شائقین کی یادوں کا حصہ بنا دیا، جن میں ’’It's up in the air‘‘ بھی شامل تھا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ گیند زمین سے چند انچ اوپر سفر کر رہی ہوتی مگر افتخار احمد کا جوش اسے کسی بڑے فضائی شاٹ کا رنگ دے دیتا۔ شاید یہی بے ساختگی ان کی مقبولیت کی ایک وجہ تھی۔ ان کی کمنٹری میں تکنیکی معلومات کے ساتھ وہ انسانی ردعمل بھی موجود تھا جو سننے والے کو محسوس کراتا تھا کہ کمنٹیٹر خود بھی اسی لمحے میں موجود ہے۔

آج کرکٹ کمنٹری ریڈیو سے نکل کر ہائی ڈیفینیشن ٹیلی وژن، اسٹریمنگ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک پہنچ چکی ہے۔ ناظر کے سامنے ری پلے، اسکور گرافکس، متعدد کیمرہ اینگلز، فوری اعداد و شمار اور تجزیے موجود ہیں، لیکن اچھی کمنٹری کی بنیادی ضرورت اب بھی وہی ہے: کھیل کو سمجھنا اور اسے ایسی زبان میں بیان کرنا کہ دیکھنے یا سننے والا خود کو مقابلے کے قریب محسوس کرے۔ پاکستان میں عمر قریشی، جمشید مارکر، چشتی مجاہد، افتخار احمد اور منیر حسین جیسے کمنٹیٹرز نے اسی فن کو اپنے اپنے انداز میں آگے بڑھایا۔ آج ان میں سے کئی آوازیں میچوں میں سنائی نہیں دیتیں، مگر پاکستانی کرکٹ کی اجتماعی یادداشت میں وہ اب بھی موجود ہیں۔ کیونکہ بعض اوقات تاریخ صرف اس لیے یاد نہیں رہتی کہ میدان میں کیا ہوا تھا، بلکہ اس آواز کی وجہ سے بھی یاد رہتی ہے جس نے وہ لمحہ ہم تک پہنچایا تھا۔