پاکستان میں پانی کے بحران پر گفتگو عموماً دستیابی اور ذخائر تک محدود رہتی ہے، مگر پانی کے معیار میں مسلسل گراوٹ بھی اتنا ہی بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ زرعی سرگرمیاں، کیمیائی کھادوں اور زرعی ادویات کا بے تحاشا استعمال نہ صرف زیرِ زمین پانی بلکہ خوراک کے نظام کو بھی متاثر کر رہا ہے۔


پاکستان کو طویل عرصے سے پانی کی کمی کا سامنا ہے، لیکن اب یہ مسئلہ صرف پانی کی مقدار تک محدود نہیں رہا۔ ملک میں دریاؤں، نہروں اور زیرِ زمین پانی کے معیار میں مسلسل خرابی ایک ایسا بحران بن چکی ہے جس کے اثرات ماحول، زراعت، صحتِ عامہ اور معیشت تک پھیل رہے ہیں۔

پانی کی آلودگی پر ہونے والی بحث کا زیادہ تر مرکز صنعتی فضلہ اور شہروں سے نکلنے والا غیر صاف شدہ سیوریج رہا ہے۔ یہ آلودہ پانی خطرناک کیمیائی مادوں، بھاری دھاتوں اور بیماری پھیلانے والے جراثیم کے ساتھ آبی ذخائر میں شامل ہوجاتا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں یہی آلودگی زمین میں جذب ہوکر زیرِ زمین پانی کو بھی متاثر کرتی ہے۔

زرعی شعبہ اس بحران میں دوہرا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک طرف کسان آلودہ پانی سے فصلیں اگانے پر مجبور ہیں، دوسری جانب بعض زرعی طریقۂ کار خود پانی کی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

آلودہ پانی میں موجود سیسہ، آرسینک اور کیڈمیم جیسی بھاری دھاتیں پودوں کی جڑوں کے ذریعے جذب ہوکر اناج، سبزیوں اور پھلوں تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس طرح یہ مضر مادے خوراک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں اور طویل مدت میں صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

زرعی علاقوں میں پانی کے معیار کا ایک اہم مسئلہ نائٹریٹ کی بڑھتی ہوئی مقدار ہے۔ نائٹریٹ نائٹروجن کی ایسی شکل ہے جو پانی میں آسانی سے حل ہوجاتی ہے اور اس کا بنیادی ذریعہ نائٹروجن والی کھادیں اور مویشیوں کا فضلہ ہیں۔

پاکستان میں زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے کسان اکثر یوریا سمیت نائٹروجن پر مشتمل کھادیں ضرورت سے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق فصلوں کے لیے استعمال ہونے والی مجموعی غذائیت میں نائٹروجن کا حصہ تقریباً 78 فیصد ہے، مگر استعمال ہونے والی نائٹروجن کا صرف 30 سے 40 فیصد حصہ ہی فصلیں جذب کرپاتی ہیں۔ باقی نائٹروجن زمین میں جذب ہوکر زیرِ زمین پانی تک پہنچ سکتی ہے، جہاں یہ زیادہ تر نائٹریٹ کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پینے کے پانی میں نائٹریٹ کی محفوظ حد 50 ملی گرام فی لیٹر ہے، لیکن پاکستان کے بعض نیم شہری اور زرعی علاقوں میں اس کی مقدار 100 ملی گرام فی لیٹر سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ زیادہ نائٹریٹ والا پانی طویل مدت میں صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے، جبکہ کم گہرائی والے کنوؤں اور ہاتھ سے چلنے والے پمپوں کا پانی خاص طور پر خطرے سے دوچار ہوسکتا ہے۔

پانی کی آلودگی کا ایک اور اہم ذریعہ کیڑے مار، جڑی بوٹی مار اور پھپھوندی کش ادویات کا غیر محتاط استعمال ہے۔ مربوط انسدادِ حشرات یا Integrated Pest Management (IPM) جیسے طریقوں کا محدود استعمال بہت سے کاشتکاروں کو روایتی کیمیائی ادویات پر انحصار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

بارش یا آبپاشی کے دوران ان ادویات کا ایک حصہ بہہ کر نہروں، دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر میں شامل ہوسکتا ہے، جبکہ کچھ مقدار زمین میں جذب ہوکر زیرِ زمین پانی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر ان علاقوں میں زیادہ سنگین ہوسکتا ہے جہاں کپاس کی کاشت زیادہ ہوتی ہے، زمین میں نامیاتی مادہ کم ہے اور جدید زرعی سہولتوں تک رسائی محدود ہے۔

آبپاشی کے روایتی طریقے بھی اس مسئلے کو بڑھا سکتے ہیں۔ پاکستان میں اب بھی زرعی رقبے کا بڑا حصہ فلڈ اریگیشن یعنی کھیتوں کو پانی سے بھر کر سیراب کرنے کے طریقے پر انحصار کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف پانی ضائع ہوتا ہے بلکہ نمکیات، کھادیں اور دیگر کیمیائی اجزا بھی بہہ کر آبی ذخائر تک پہنچ سکتے ہیں۔

دوسری جانب زیرِ زمین پانی کی مسلسل نکاسی سے پانی کی سطح نیچے جارہی ہے۔ بعض علاقوں میں اس کے نتیجے میں پانی میں نمکیات کی مقدار بڑھ رہی ہے اور معیار مزید متاثر ہورہا ہے۔

اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف صاف پانی کی فراہمی کافی نہیں ہوگی۔ آلودگی کے بنیادی ذرائع کو روکنا بھی ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق متوازن کھاد کے استعمال سے متعلق کسانوں میں آگاہی، مٹی کے تجزیے کی حوصلہ افزائی اور مربوط انسدادِ حشرات جیسے طریقوں کا فروغ اس سلسلے میں اہم اقدامات ہوسکتے ہیں۔

اسی طرح کیڑوں کے خلاف زیادہ مزاحمت رکھنے والی فصلوں کی اقسام اپنانے، کم پانی استعمال کرنے والے آبپاشی نظام کو فروغ دینے اور ان ٹیکنالوجیز کی مقامی سطح پر تیاری بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ جدید طریقے زیادہ کسانوں کی پہنچ میں آسکیں۔

پاکستان کے لیے پانی کا بحران اب صرف ذخائر بڑھانے یا قلت پر قابو پانے کا مسئلہ نہیں رہا۔ دستیاب پانی کے معیار کو محفوظ بنانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر زرعی آلودگی پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو اس کے اثرات خوراک کے تحفظ، انسانی صحت، ماحول اور سرکاری صحت کے اخراجات پر مزید گہرے ہوسکتے ہیں۔

اس لیے پانی کی دستیابی بڑھانے کے ساتھ ایسی پالیسیوں کی بھی ضرورت ہے جو آلودگی کو اس کے منبع پر ہی روکنے پر توجہ دیں۔ پاکستان کے آبی بحران کا حل صرف زیادہ پانی حاصل کرنا نہیں، بلکہ موجود پانی کو صاف اور قابلِ استعمال رکھنا بھی ہے۔