ایک سال قبل ٹوکیو اولمپکس میں میڈل کی دوڑ سے محروم رہنے کے بعد قوم کے دل جیتنے والے میاں چنوں کے 25 سالہ ارشد ندیم نے بالآخر برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں سونا جیت کر وہ کارنامہ انجام دیا جس کی تشنہ کامی پاکستان کو گزشتہ 56 برسوں سے تھی بغیر کسی غیر ملکی کوچ کے اور کہنی کی شدید چوٹ کے ساتھ میدان میں اترنے والے اس اتھلیٹ کی ہمت کے سامنے تمام مشکلات ہتھیا ڈالنے پر مجبور ہو گئیں۔ فائنل مقابلے کے پینلٹی میٹ راؤنڈ میں گریناڈا کے اینڈرسن پیٹرز کی 88.64 میٹر کی تھرو کا جواب ارشد ندیم نے 90.18 میٹر کی تاریخی اور ریکارڈ شکن تھرو سے دیا۔ اس فتح کے ساتھ ہی ارشد ندیم 90 میٹر سے زائد فاصلے پر نیزہ پھینکنے والے ایشیا کے صرف دوسرے اتھلیٹ بن گئے، جبکہ انہوں نے 1998ء میں جنوبی افریقہ کے ماریئس کوربیٹ کا 88.75 میٹر کا کامن ویلتھ گیمز ریکارڈ بھی توڑ دیا۔

پاکستان نے اتھلیٹکس میں آخری بار 1966ء میں کامن ویلتھ گیمز کا تمغہ جیتا تھا، جبکہ جیولن تھرو کی تاریخ میں پاکستان کو پہلی بار سونے کا تمغہ ملا ہے۔ اس سے قبل 1954ء کے ابتدائی مقابلوں میں محمد نواز اور 1958ء میں جلال خان نے چاندی کے تمغے حاصل کیے تھے۔ برمنگھم میں پاکستان کا یہ دوسرا گولڈ میڈل تھا، جس سے قبل نوح دستگیر بٹ نے ویٹ لفٹنگ کے +105 کلوگرام کے مقابلے میں نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے پہلا سونا جیتا تھا۔

کرکٹ کے جنون سے جیولن تھرو تک کا سفر

پنجاب کے زرعی خطے میاں چنوں کے ایک محنت کش کے گھر جنم لینے والے 1.87 میٹر لمبے ارشد ندیم کے لیے کھیل کی دنیا میں جگہ بنانا کبھی آسان نہ تھا۔ پانچ بھائیوں میں تیسرے نمبر پر موجود ارشد کی ابتدائی دلچسپی کرکٹ سے تھی اور وہ سکول کے دنوں میں ٹیپ بال کرکٹ کے ڈسٹرکٹ لیول کے مقابلوں میں ایک آل راؤنڈر کے طور پر کھیل رہے تھے۔ تاہم ساتویں جماعت میں ان کی زندگی کا رخ اس وقت بدلا جب اتھلیٹکس کے ایک مقابلے کے دوران کوچ رشید احمد ثاقی کی نظر ان پر پڑی۔ رشید ثاقی نے ایک خط کے ذریعے ارشد کو اپنے پاس بلایا اور ان کی تربیت کا آغاز کیا۔

مالی وسائل اور رابطوں کی کمی کی وجہ سے کرکٹ میں پیشہ ورانہ سطح پر آگے بڑھنا مشکل تھا۔ ارشد نے اپنے بڑے بھائیوں سے مشورہ کیا، جو ڈویژنل سطح کے اتھلیٹ تھے، اور اپنے سکول کے پی ٹی اساتذہ اجمل اور ظفر کی مدد سے کرکٹ کو خیرباد کہہ کر مکمل طور پر اتھلیٹکس کی دنیا میں قدم رکھ دیا۔ ابتدائی طور پر انہوں نے شاٹ پُٹ، ڈسکس تھرو اور جیولن تینوں میں قسمت آزمائی، لیکن بالآخر تمام تر توجہ صرف جیولن تھرو پر مرکوز کر دی۔ پنجاب یوتھ فیسٹیول اور انٹر بورڈ مقابلوں میں یکے بعد دیگرے گولڈ میڈل جیتنے کے بعد ملکی سطح کے اداروں کی نظریں اس ابھرتے ہوئے اتھلیٹ پر جم گئیں۔

ناکامی کی پیشگوئی سے قومی چیمپئن بننے تک

2015ء میں واپڈا کے ٹرائلز کے دوران ارشد نے 56 میٹر کی تھرو کی، جس پر سلیکٹرز نے انہیں یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ اتھلیٹ کبھی 60 میٹر سے آگے نہیں جا سکتا۔ تاہم وہاں موجود کوچ فیض الحسین بخاری نے ان کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور انہیں ٹریننگ کیمپ میں شامل کر لیا۔ محض ایک ماہ کے اندر ارشد نے انٹر ڈیپارٹمنٹل چیمپئن شپ میں 69 میٹر تھرو پھینک کر سونا جیتا، جس کے بعد فیض بخاری ان کے مستقل کوچ بن گئے۔ بعد ازاں قومی چیمپئن شپ کے فائنل راؤنڈ میں ارشد نے پہلی بار 70 میٹر کی حد پار کی اور صرف 18 سال کی عمر میں قومی چیمپئن بن کر 2016ء کے ساؤتھ ایشین گیمز کے لیے قومی سکواڈ میں جگہ بنا لی۔

ہندوستان کے شہر گوہاٹی میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز 2016ء میں ارشد کا پہلا بین الاقوامی مقابلہ تھا جہاں ان کی پہلی ملاقات بھارت کے نیرج چوپڑا سے ہوئی۔ انہوں نے 78.33 میٹر کا نیا قومی ریکارڈ بناتے ہوئے برانز میڈل جیتا۔ اس کے بعد ویتنام میں ایشین جونیئر اور آذربائیجان میں اسلامک سولیڈارٹی گیمز میں مزید دو کانسی کے تمغے حاصل کیے، جبکہ 2018ء کے جکارتہ ایشین گیمز میں 80.75 میٹر کی تھرو کے ساتھ اپنے ہی قومی ریکارڈ کو مزید بہتر بنایا۔

سال 2019ء ارشد کے کیریئر کا اہم ترین موڑ ثابت ہوا۔ کاٹھمنڈو ساؤتھ ایشین گیمز میں انہوں نے 86.29 میٹر کی تاریخی تھرو پھینک کر سونا جیتا اور نیرج چوپڑا کا 2016ء کا گیمز ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ اس شاندار کارکردگی کے بعد اپریل 2021ء میں ایران کے امام رضا کپ میں 86.38 میٹر کی تھرو سے اپنا پرسنل بیسٹ قائم کیا اور دہائیوں بعد اولمپکس کے لیے براہِ راست کوالیفائی کرنے والے پہلے پاکستانی اتھلیٹ بنے، جہاں انہوں نے پانچویں پوزیشن حاصل کی تھی۔ اوریگون ورلڈ چیمپئن شپ میں بھی پانچویں پوزیشن حاصل کرنے والے اس اتھلیٹ نے اب برمنگھم میں تاریخ رقم کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جذبہ سچا ہو تو وسائل کی کمی اور جسمانی تکلیف بھی کامیابی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔