علاقائی
[DEV-FRONTEND-DATASET] Temporary Pakistan subcategory for local frontend design testing.
مزید خبریں

کچے کے ڈاکوؤں کا 'ڈیجیٹل راج': ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پر ہیرو کا روپ، زمین پر خوف اور اغوا کا سلسلہ
پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے سرحدی کچے کے علاقوں میں سرگرم ڈاکوؤں نے اب اپنے روایتی طریقہ واردات کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کو بھی ہتھیار بنا لیا ہے۔ 10 ملین روپے کے انعام اور 28 مقدمات میں مطلوب شاہد لنڈ بلوچ جیسے مجرمان ٹک ٹاک، فیس بک اور یوٹیوب پر خود کو مظلوم اور ہیرو کے طور پر پیش کر کے ہزاروں فالوورز سمیٹ رہے ہیں۔ دوسری جانب ہنی ٹریپ، ڈکیتی اور تاوان کے لیے اغوا جیسے جرائم نے مقامی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ سیکیورٹی اداروں کے لیے دشوار گزار جغرافیہ کے ساتھ ساتھ ان ڈاکوؤں کا ڈیجیٹل وجود ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے۔

بلوچستان کا درینہ مسئلہ: فوجی طاقت، معاشی محرومیاں اور ریاستی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ
موسیٰ خیل میں شہریوں کے المناک قتل عام کے بعد بلوچستان کے سیاسی اور سیکیورٹی بحران پر ایک بار پھر بحث چھڑ چکی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں سے جاری اس شورش کا آغاز جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں فوجی طاقت کے استعمال سے ہوا تھا، جس کے اثرات آج بھی پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں صرف بلوچ ہی نہیں بلکہ پختون، ہزارہ، پنجابی اور سرائیکی بھی آباد ہیں، جبکہ خود بلوچ معاشرہ مکران سے لے کر بگٹی اور مری علاقوں تک متنوع سیاسی و سماجی شناخت رکھتا ہے۔ گوادر میں ماہی گیروں کی معاشی بے دخلی، سی پیک پر تحفظات، لاپتا افراد اور پرامن بلوچ نوجوانوں کو دیوار سے لگانے کے اقدامات نے اس قضیے کو مزید الجھا دیا ہے۔

گلگت بلتستان کی سیاست اور آئینی ابہام: وفاقی احکامات کے درمیان حقوق کی تلاطم خیز تلاش
گلگت بلتستان کے عوام نے آزادی کے بعد پاکستان سے الحاق کا راستہ اس امید کے ساتھ چنا تھا کہ انہیں ملک کے آئینی اور سیاسی دھارے میں مکمل نمائندگی مل سکے گی۔ تاہم پاکستان کی تین بڑی وفاقی جماعتوں — پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف — نے اس خطے کو ہمیشہ اسلام آباد کی سیاسی ضرورت، گرانٹس اور وفاقی اثر و رسوخ کے زاویے سے دیکھا۔ الیکشن کے دنوں میں عبوری صوبے اور آئینی اصلاحات کے وعدے تو کیے جاتے ہیں، لیکن اقتدار ملتے ہی حقیقی اختیارات مقامی اسمبلی کے بجائے بیوروکریسی اور وفاقی انتظامیہ کے پاس ہی رہتے ہیں۔ تاہم خطے کی تعلیم یافتہ اور باخبر نئی نسل اب اس غیر یقینی صورتِ حال کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔

پاک افغان تجارت میں بڑا بریک ڈاون: 53 فیصد کمی اور سرحد پار معیشت کا خاموش بحران
اسلام آباد میں بیٹھ کر جب پاک افغان تجارت کی اعداد و شمار کی روشنی میں جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ محض چند ارب ڈالر کا اتار چڑھاؤ دکھائی دیتا ہے، لیکن طورخم، چمن اور لنڈی کوتل کے شہریوں کے لیے یہ نفع نقصان نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے ابتدائی چھ ماہ میں دوطرفہ تجارت 53 فیصد کم ہو کر 594 ملین ڈالر رہ گئی ہے، جبکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا حجم تاریخی سطح تک گر چکا ہے۔ اس تالہ بندی کے اثرات صرف سرحد تک محدود نہیں رہے بلکہ پنجاب کے کاشتکاروں سے لے کر چھوٹے کاروباریوں تک کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کر چکے ہیں۔

بلوچستان میں منفی درجہ حرارت اور 'لاندھی' کا سحر: شدید سردی میں روایتی خشک گوشت کی طلب میں ریکارڈ اضافہ
بلوچستان میں رواں موسمِ سرما کے دوران پڑنے والی غیر معمولی اور شدید سردی نے جہاں عام زندگی کو مفلوج کیا، وہیں پشتون ثقافت کی سوغات ’لاندھی‘ کی مقبولیت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ ضلع پشین کے یارو بازار میں ان دنوں خشک گوشت کے خریداروں کا تانتھا بندھا ہے، جہاں مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ سندھ اور پنجاب سے آئے لوگ بھی اس روایتی اور مقوی غذا کو حاصل کرنے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ کوئٹہ اور ملحقہ علاقوں میں پارہ مائنس 7.5 ڈگری تک گرنے سے لاندھی کی طلب میں دس گنا اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا کی بدولت اب لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بھی اس کا کاروبار چمک اٹھا ہے۔

پاکستان افغان سرحد پر لگی باڑ: کٹھن راستوں اور بندشوں میں پسے کوچی خانہ بدوشوں کی داستان
پاکستان اور افغانستان کے درمیان صدیوں سے موسموں کی تبدیلی کے ساتھ ہجرت کرنے والے لاکھوں کوچی خانہ بدوش سرحدی باڑ اور انتظامی سخت یوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سرحد پار کرنے کی قانونی اجازت نہ ملنے کے باعث انہیں انجان اور انتہائی دشوار گزار پہاڑی راستوں سے گزرنا پڑ رہا ہے، جس سے ان کے مال مویشی ہلاک ہو رہے ہیں اور سفر کی تکالیف میں اضافہ ہو چکا ہے۔ پاکستانی شناختی کارڈز رکھنے کے باوجود اپنے آباؤ اجداد کی چراگاہوں اور سرمائی ٹھکانوں تک پہنچنے میں ناکامی نے اس قدیم قبائلی زندگی اور ان کے ذریعہ معاش کو گہرے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
مزید تازہ خبریں
بلوچستان کا قدیم کاریز نظام: روایتی آبی حکمت، تباہی کا خدشہ اور بحالی کا امکانبلوچستان میں پانی کا روایتی زیرِ زمین نظام ’کاریز‘ محض آبپاشی کا ذریعہ نہیں بلکہ صحرائی زندگی، مقامی ثقافت اور اجتماعی بھائی چارے کی بنیاد رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور بے دریغ ٹیوب ویلوں کے استعمال نے اس تاریخی نظام کو خشک کر کے دیہی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم، آذربائیجان کے علاقے نخچیوان میں کیمونسٹ دور کے بند کاریزوں کی کامياب بحالی نے ثابت کیا ہے کہ اگر درست حکمتِ عملی اور مقامی آبادی کو شامل کیا جائے تو یہ قدیم نظام دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا اور افغانستان کے جغرافیائی و معاشی پس منظر میں کاریز کی تحفظ کی جدوجہد پر ایک تحقیقی نظر۔
جنوبی وزیرستان میں ترقی اور سیکیورٹی کے دو رخ: نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل ہنر اور خواتین کے لیے روزگار کا نیا راستہقبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں معاشی خودمختاری کے فروغ کے لیے جائیکا اور خیبر پختونخوا حکومت نے مقامی بلدیاتی اداروں کے ساتھ مل کر نیا تکنیکی پروگرام فعال کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو ای کامرس، فری لانسنگ اور آن لائن کاروبار کی تربیت دے کر بین الاقوامی ڈیجیٹل مارکیٹ سے جوڑنا ہے۔ تربیت مکمل کرنے پر مردوں کو لیپ ٹاپس اور خواتین کو گھریلو صنعت قائم کرنے کے لیے سلائی مشینیں فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ باوقار روزگار حاصل کر سکیں۔ دوسری جانب، خطے میں سیکیورٹی چیلنجز بھی برقرار ہیں، جہاں پولیس اہلکار زاہد اللہ کی شہادت ظاہر کرتی ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے امن و امان کی صورتحال کا استحکام کتنا ضروری ہے۔
آزاد کشمیر میں 64 فیصد نوجوان آبادی کے لیے ہنر اور روزگار کا چیلنج: محض ڈگری یا عملی مہارت؟آزاد کشمیر میں انسانی وسائل کے موثر استعمال اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے مظفرآباد میں دو روزہ یوتھ لیڈرشپ ورکشاپ اور جاب فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی 64 فیصد نوجوان آبادی میں صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ درست رہنمائی اور جدید ہنر کی عدم دستیابی اصل رکاوٹ ہے۔ اس موقع پر قائم کیے گئے جاب فیسٹیول میں مختلف سرکاری محکموں، مسلح افواج اور تعلیمی کنسلٹنٹس نے اسٹالز لگائے۔ حکومت نے آزاد کشمیر میں فری لانسنگ اور ڈیجیٹل روزگار کے لیے انٹرنیٹ سروسز کی بہتری کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔
پشاور میں نوجوانوں کے لیے نئے آئی ٹی تربیتی مرکز کا افتتاح: 'بنو قابل' پروگرام کے تحت 10 ہزار سے زائد طلبہ پہلے ہی مستفیدخیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مرکز اسلامی سردار گڑھی کے مقام پر الخدمت فاؤنڈیشن اور جماعت اسلامی کے تعاون سے 'بنو قابل' آئی ٹی ٹریننگ سینٹر کا افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاح الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی صدر پروفیسر حافظ الرحمان اور امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا عبدالواسی نے کیا۔ تقریب کے دوران بتایا گیا کہ الخدمت صوبے بھر میں 85 کیمپسز کے ذریعے اب تک 10 ہزار سے زائد نوجوانوں کو فری لانسنگ اور سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کی مفت تربیت فراہم کر چکی ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو خود انحصار بنانا اور ملکی معیشت میں ان کا حصہ بڑھانا ہے۔

