لاہور میں شہریوں کو بلیک میل کر کے بھتہ بٹورنے والے 'ہنی ٹریپ' گینگ کے خلاف پولیس نے ایک اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے منظم گروہ کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ شہریوں کی حفاظت کے ذمہ دار ادارے کا اپنا ہی ایک اہلکار اس سارے نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ نکلا۔ یہ گروہ نوجوان لڑکیوں کے ذریعے شہریوں کو جھانسہ دے کر الگ تھلگ مقامات پر بلاتا، جہاں انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی ویڈیوز بنا کر بھتہ وصول کیا جاتا تھا-

دودھ فروش کو جھانسہ اور تشدد

متاثرہ شخص شیخوپورہ کا رہائشی منظور احمد ہے جو گھروں میں دودھ فراہم کر کے اپنا روزگار کماتا ہے۔ 17 جون کو منظور احمد کو ایک نامعلوم لڑکی کی فون کال موصول ہوئی جس نے شاہدرہ کے علاقے برکت ٹاؤن میں اپنے گھر پر دودھ پہنچانے کی درخواست کی۔ دودھ فروش نے ابتدائی طور پر انکار کیا لیکن لڑکی کے مسلسل اصرار پر وہ اس کی بھیجی گئی لوکیشن پر پہنچ گیا۔ جیسے ہی منظور احمد گھر کے بالائی حصے میں گیا، لڑکی نے دروازہ بند کر دیا۔

کچھ ہی دیر میں ایک پولیس اہلکار سمیت دو نامعلوم افراد اندر داخل ہوئے اور دودھ فروش پر لڑکی کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کر دیا۔ ان افراد نے منظور احمد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی دھمکیاں دیں اور اس کی موجودگی کی ویڈیو بھی ریکارڈ کر لی۔ ملزمان نے منظور احمد سے 1 لاکھ 8 ہزار روپے کی وہ رقم بھی چھین لی جو اس نے دن بھر اپنے گاہکوں سے اکٹھی کی تھی۔ اس کے بعد ملزمان نے مزید رقم کا مطالبہ کیا اور پولیس یا کسی اور کو بتانے پر نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے اسے اس شرط پر چھوڑ دیا کہ وہ جلد باقی رقم کا بندوبست کرے گا۔

محکماتی انکوائری اور ماضی کے واقعات

اگلے ہی دن جب لڑکی نے پیسے مانگنے کے لیے دوبارہ رابطہ کیا تو منظور احمد نے معاملے کی اطلاع پولیس کو دے دی۔ ایس پی سٹی ڈویژن بلال احمد نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے بغیر کسی رعایت کے انکوائری کا حکم دیا۔ تحقیقات میں ثابت ہوا کہ شاہدرہ ٹاؤن کا نائب محرر منظر اس گینگ سے رابطے میں تھا اور اسی نے بھتہ وصولی کا یہ منصوبہ بنایا تھا۔ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ملزم اہلکار کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے اور کیس انویسٹی گیشن کے سپرد کر دیا گیا ہے، جبکہ نامزد لڑکی اور دیگر ملزمان نے عدالت سے ضمانت حاصل کر لی ہے۔

لاہور میں پولیس اہلکاروں کی سرپرستی میں ہنی ٹریپ گینگ چلائے جانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے کچھ ماہ قبل کوٹ لکھپت کے علاقے میں بھی ایک ایسا ہی گروہ بے نقاب ہوا تھا جہاں چند پولیس اہلکار لڑکیوں کی مدد سے شہریوں کو ورغلا کر بلیک میل کرتے تھے۔ اس کے علاوہ گزشتہ برس مشہور ڈرامہ نگار خلیل الرحمن قمر کو بھی بحریہ ٹاؤن لاہور میں اسی انداز میں ایک لڑکی کے ذریعے بلا کر اغوا کیا گیا تھا اور ان کی نامناسب ویڈیوز بنا کر بھتہ مانگا گیا تھا، جس کے ملزمان کو بعد میں عدالت سے سزائیں سنائی گئی تھیں۔