پاکستان میں جب بھی حکمرانی کے بحران اور پبلک سروس ڈیلیوری کی ابتر صورتحال پر بات ہوتی ہے تو سارا فوکس بیوروکریسی اور سول سروس کی اصلاحات پر جا ٹھہرتا ہے۔ ہر نئی حکومت میرٹ پر مبنی بھرتیوں، افسران کی تربیت اور کارکردگی کی جانچ کے دعوے تو کرتی ہے، لیکن دہائیاں گزرنے کے بعد بھی عام شہری تک بنیادی سہولیات کی فراہمی ایک خواب ہی ہے۔ اس مسلسل ناکامی کا اصل سبب یہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ طاقت کے مراکز کو اسلام آباد یا صوبائی دارالحکومتوں تک محدود رکھا اور اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کیا کہ مقامی حکومتوں کے مضبوط نظام کے بغیر کوئی بھی انتظامی اصلاح کامیاب نہیں ہو سکتی۔

بلدیاتی ادارے کسی بھی جمہوری نظام کی نرسری اور عوامی مسائل کا سب سے تیز حل فراہم کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں تعلیمی اور صحتی امور مقامی اداروں کے سپرد کیے جاتے ہیں، لیکن پاکستان میں مرکزی اور صوبائی حکومتیں نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کو طاقت کی تقسیم کے بجائے ایک خطرہ سمجھتی رہی ہیں۔

نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی اور پاکستانی تاریخ

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب بھی مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کی سنجیدہ کوشش کی گئی، وہ غیر جمہوری ادوار میں ہوئی۔ جنرل ایوب خان اور بالخصوص جنرل پرویز مشرف کا 'ڈیولوشن آف پاور پلان 2000ء' اور 'لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001ء' اس کی واضح مثالیں ہیں۔ مشرف دور میں ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر تین سطحی ڈھانچہ قائم کیا گیا، اور 'سٹیزن کمیونٹی بورڈز' (سی سی بی) اور مصالحتی انجمنوں کے ذریعے عوامی شراکت داری اور مقامی تنازعات کے حل کو ادارہ جاتی شکل دی گئی۔ اس نظام میں پہلی بار بیوروکریسی کو مقامی سطح پر منتخب نمائندوں کے ماتحت کیا گیا۔

تاہم، آئینی تحفظ نہ ہونے کے باعث 2008ء کے بعد آنے والی جمہوری حکومتوں نے اس نظام کو ختم کر دیا اور بروقت بلدیاتی انتخابات نہ کروا کر صوبائی حکومتوں نے اختیارات اور فنڈز کی نچلی سطح پر منتقلی کی شدید مزاحمت کی۔ اس کے باوجود اس تجربے نے ثابت کیا کہ جب اضلاع کو ترقیاتی منصوبوں کی ملکیت دی گئی تو عوام کی نچلی سطح پر شمولیت اور سروسز تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی۔

بیوروکریسی کا جمود اور عالمی ماڈلز کے اسباق

موجودہ سول سروس کا ڈھانچہ اس قدر مرکوز ہے کہ بیوروکریٹس کو مختلف وزارتوں اور صوبوں میں جلدی جلدی تبدیل کیا جاتا رہتا ہے۔ اس کے باعث افسران میں کسی مخصوص شعبے کی مہارت پیدا ہوتی ہے نہ ہی ان میں مقامی آبادی کے سامنے جوابدہی کا احساس بیدار ہوتا ہے۔ افسر شاہی اکثر ایک ایسے سیاسی خلا میں کام کرتی ہے جہاں وہ عام شہریوں کی ضروریات سے کٹی ہوتی ہے۔ اگر مقامی اداروں کو فعال کیا جائے تو وہ نہ صرف بنیادی سروسز اور روزگار فراہم کر سکتے ہیں بلکہ کمیونٹی کو متحرک کر کے انتہا پسندی جیسے پیچیدہ مسائل کا تدارک بھی کر سکتے ہیں۔

عالمی تجربات سے ثابت ہوتا ہے کہ قومی ترقی کا سفر ہمیشہ بلدیاتی سطح سے شروع ہوتا ہے۔ جرمنی میں تعلیم اور صحت کے امور مقامی انتظامیہ کے پاس ہیں جو شفافیت اور تیز رفتار سروسز کی ضامن ہیں۔ برازیل میں بجٹ سازی میں شہریوں کی براہِ راست شمولیت (پارٹیسیپیٹری بجٹنگ) نے کرپشن کا خاتمہ کیا ہے۔ اسی طرح بھارت کے 'پنچایتی راج' نظام نے باقاعدہ انتخابات اور مالیاتی اختیارات کی بدولت گراس روٹ لیول پر جمہوریت کو مضبوط کیا ہے، جہاں میونسپل سول سروس کا ایک الگ کیڈر قائم ہے۔ استونیا نے ای-گورننس کو نچلی سطح پر منتقل کر کے بیوروکریسی میں شفافیت پیدا کی، جبکہ ترکی کے شہر استنبول کی بلدیاتی قیادت کے بااختیار ہونے نے شہر کی معاشی اور عمرانی ہیئت بدل دی۔

اصلاحاتی ایجنڈا اور آئندہ کا لائجہ عمل

پاکستان میں گورننس کا بحران حل کرنے کے لیے محض سول سروس کی اوور ہالنگ کافی نہیں، بلکہ ایک دوہرے اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل کرنا ہوگا جس میں بیوروکریسی کی اصلاح کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں کو منتقلِ اختیارات لازمی ہو۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے آئین میں ایسی واضح ضمانتیں شامل کرنی ہوں گی جو بلدیاتی انتخابات کے باقاعدہ انعقاد اور مقامی اداروں کے اختیارات کا تحفظ کریں، اور سپریم کورٹ ان پر عمل درآمد یقینی بنائے۔

اس کے علاوہ، بھارت کی طرز پر ایک مخصوص 'میونسپل سول سروس کیڈر' قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بلدیاتی اداروں کو پیشہ ورانہ مہارت حاصل ہو سکے۔ مالیاتی خودمختاری کے بغیر اختیارات کا دعویٰ بے معنی رہتا ہے، لہٰذا پراپرٹی ٹیکس، مقامی فیسوں اور قومی وسائل کا معقول حصہ براہِ راست مقامی حکومتوں کو منتقل ہونا چاہیے۔ تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر انتظامی امور کو ڈیجیٹل کرنے، بجٹ سازی میں عوام کو شامل کرنے اور افسران کی ترقیاں اور مراعات مدتِ ملازمت کے بجائے سروس ڈیلیوری کی کارکردگی سے مشروط کرنے سے ایک جوابدہ اور فعال حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔