پاکستان کے نظامِ عدل میں کرپشن اب انفرادی سطح کے بجائے ایک منظم شکل اختیار کر چکی ہے، جس نے عدلیہ کی آزادی اور عام شہریوں کو انصاف کی فراہمی کے عمل کو گہرے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) اور انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس (ایف آئی ڈی ایچ) کی جانب سے جاری کردہ 32 صفحات کی مشترکہ رپورٹ 'انڈر دی بینچ: میپنگ کرپشن رسکس ان پاکستانز جسٹس سسٹم' میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عدالتی نظام میں پھیلی بدعنوانی محض ایک جرم نہیں بلکہ اس نے بنیادی انسانی حقوق اور منصفانہ سماعت کے حق کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
یہ رپورٹ وکلا، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، شعبہ تدریس سے وابستہ افراد اور ججوں کے ساتھ کیے گئے 30 تفصیلی انٹرویوز کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عدالتی نظام کی ناقص انتظامی ساخت رشوت ستانی کو فروغ دیتی ہے، جبکہ ثقافتی اور معاشرتی ترجیحات نے اقربا پروری اور پسند ناپسند کی روایت کو مضبوط کیا ہے۔ ان عوامل نے مجموعی طور پر اعلیٰ عدلیہ کی خودمختاری کو متاثر کرتے ہوئے اسے ریاستی تسلط کے زیرِ اثر لا کھڑا کیا ہے۔
آئینی ترمیمات اور عدالتی آزادی پر ضرب
تحقیقی رپورٹ میں حالیہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیمات کا خوصصی جائزہ لیا گیا ہے، جس کے مطابق ان ترمیمات نے ججوں کی تقرری کے طریقے کو بدل کر اور انہیں عہدوں سے ہٹانے کے اختیارات کو وسیع کر کے عدلیہ کی رہی سہی خودمختاری کو بھی ختم کر دیا ہے۔ رپورٹ نشاندہی کرتی ہے کہ نظامِ عدل کی اس ابتری کا سب سے بڑا اثر غریب اور کمزور طبقات، بالخصوص مذہبی اقلیتوں پر پڑتا ہے، جن کے لیے قانون کے سامنے برابری کا حق عملی طور پر ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ عدالتی کرپشن کا براہِ راست تعلق دورانِ حراست تشدد اور سزائے موت کے فیصلوں سے بھی جوڑا گیا ہے۔
ایف آئی ڈی ایچ کی سیکرٹری جنرل شاہندہ اسماعیل کا کہنا ہے کہ عدلیہ میں بدعنوانی نے بالخصوص معاشرے کے سب سے محروم طبقات کے لیے منصفانہ ٹرائل کے راستے مسدود کر دیے ہیں۔ دوسری جانب ایچ آر سی پی کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق کا ماننا ہے کہ ججوں کی مراعات بڑھانے یا عدالتوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے جیسے اقدامات سے کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ان کے مطابق اس کے لیے عدالتی خودمختاری کی بحالی اور غلط طرزِ عمل کی بنیاد بننے والے عوامل کا ریشہ دوانی سے تدارک ضروری ہے۔
اصلاحاتی سفارشات اور عالمی مطالبات
رپورٹ میں عدالتی نظام کی بہتری کے لیے کئی بنیادی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ جن میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیمات کی فوری منسوخی، کیسز کی تقسیم کے لیے شفاف اور قواعد پر مبنی نظام کا قیام، اور تمام سطحوں کے ججوں کے لیے اپنے اثاثے عوامی سطح پر ظاہر کرنے کی شقیں شامل ہیں۔ مزید برآں، عوام الناس کی دلچسپی کے حامل سپریم کورٹ کے مقدمات کی براہِ راست نشریات، ججوں کے خلاف شکایات کی تحقیقات کے لیے واضح وقت کی حد، اور سیٹی بجانے والوں (وکٹم یا وسل بلورز) کے تحفظ کے لیے وفاقی قانون سازی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں حکومتِ پاکستان سے الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) جیسے اظہارِ رائے کی آزادی کو محدود کرنے والے قوانین کو ختم کرنے، اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کردار کو قانون کے دائرے میں لانے کی سفارش کی گئی ہے۔ عالمی سطح پر، ایف آئی ڈی ایچ اور ایچ آر سی پی نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ جی ایس پی پلس کی نگرانی کے عمل میں پاکستان کے عدالتی نظام میں کرپشن کے معاملے کو شامل کرے، جبکہ آئی ایم ایف سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے مالیاتی پروگراموں میں عدالتی حاکمیت اور شفافیت کی شرائط کو یکجا کرے۔





تبصرے