پاکستان کی پارلیمنٹ نے 26ویں آئینی ترمیمی بل 2024 کی منظوری دی ہے، جس میں حکومت اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کے ارکان کی جانب سے ایوان میں پیش کی جانے والی کچھ تازہ ترمیمات سمیت کل 27 شقیں شامل ہیں۔ اگرچہ اس ترمیم میں کچھ دیگر انتظامی امور بھی شامل ہیں، لیکن اس کا بنیادی ڈھانچہ عدالتی اصلاحات کے گرد گھومتا ہے۔ اس قانون سازی کے ذریعے سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری اور چیف جسٹس آف پاکستان کے انتخاب کے عمل میں پارلیمنٹ کے کردار کو نمایاں وسعت دی گئی ہے۔

چیف جسٹس کی نامزدگی اور جوڈیشل کمیشن کی نئی ساخت

آئین کے آرٹیکل 175A میں کی جانے والی تبدیلیوں کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کی ازسرِنو تشکیل کی گئی ہے۔ نئے فریم ورک کے تحت کمیشن میں پارلیمنٹ کے چار ارکان شامل ہوں گے، جن میں دو ایوانِ زیریں (قومی اسمبلی) اور دو ایوانِ بالا (سینیٹ) سے لیے جائیں گے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن سے دو دو ارکان کی نمائندگی ہوگی۔ اس سے قبل جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کے پانچ جج (بشمول چیف جسٹس بطور چیئرمین)، اٹارنی جنرل، وفاقی وزیرِ قانون، ایک سابق چیف جسٹس اور پاکستان بار کونسل کا نامزد کردہ ایک سینئر ایڈووکیٹ شامل ہوتا تھا۔

ترمیم کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری کا روایتی طریقہ کار بدل گیا ہے۔ پہلے کی طرح سینئر ترین جج خود بخود چیف جسٹس نہیں بنے گا، بلکہ اب ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججوں کی فہرست میں سے ایک نام کا انتخاب کرے گی۔ یہ کمیٹی 12 ارکان پر مشتمل ہوگی، جن میں 8 قومی اسمبلی اور 4 سینیٹ سے ہوں گے، جن کا انتخاب دونوں ایوانوں میں پارٹیوں کی نشستوں کے تناسب سے کیا جائے گا۔ کمیٹی منتخب کردہ نام وزیرِ اعظم کو بھیجے گی، جو اسے حتمی تقرری کے لیے صدرِ مملکت کو ارسال کریں گے۔

عمومی حالات میں کمیٹی موجودہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے کم از کم 14 روز قبل نیا نام بھیجنے کی پابند ہوگی۔ تاہم، 25 اکتوبر کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی متوقع ریٹائرمنٹ کے پیشِ نظر کی جانے والی اس تبدیلی کے لیے کمیٹی کو ریٹائرمنٹ سے تین دن قبل تک نامزدگی بھیجنے کی اجازت دی گئی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 179 میں ترمیم کے ذریعے چیف جسٹس کی مدتِ ملازمت تین سال مقرر کر دی گئی ہے، بشرطیکہ وہ اس سے قبل مستعفی نہ ہوں، 65 سال کی عمر تک نہ پہنچیں یا انہیں عہدے سے نہ ہٹایا جائے۔ 65 سال کی عمر سے قبل بھی تین سالہ مدت مکمل ہونے پر چیف جسٹس ریٹائر ہو جائیں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ، ترمیم میں ہائی کورٹ کے جج کے لیے کم از کم عمر کی حد 45 سال سے گھٹا کر 40 سال کر دی گئی ہے۔ جوڈیشل کمیشن کو ججوں کی کارکردگی اور اہلیت کے جائزہ کا معیار مقرر کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے؛ اگر کسی ہائی کورٹ جج کی کارکردگی غیر تسلی بخش پائی گئی تو اسے بہتری کے لیے وقت دیا جائے گا، اور عدم بہتری کی صورت میں جج کے خلاف کارروائی کی رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجی جائے گی۔

آئینی بنچوں کا قیام اور ازخود نوٹس کے اختیارات

ترمیم کے ذریعے آئین میں آرٹیکل 191A شامل کر کے 'سپریم کورٹ کے آئینی بنچ' تشکیل دیے گئے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کی جانب سے وقت فوقتاً نامزد کیے جانے والے جج ان بنچوں کا حصہ ہوں گے اور ان میں سے سینئر ترین جج 'پریذائیڈنگ جج' کہلائے گا۔ آئینی بنچ کم از کم پانچ ججوں پر مشتمل ہوگا، جن کی نامزدگی تین رکنی کمیٹی کرے گی جس میں پریذائیڈنگ جج اور اگلے دو سینئر ترین جج شامل ہوں گے۔

آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس (سووموٹو) کا اختیار، آرٹیکل 185 کے تحت آئینی تشریح سے متعلق اپیلیں، اور صدرِ مملکت کی جانب سے مانگی جانے والی عدالتی مشاورت کے تمام معاملات اب انہی آئینی بنچوں کے دائرہ اختیار میں ہوں گے۔ ترمیم کے نفاذ کے وقت سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ایسے تمام مقدمات اور درخواستیں ان بنچوں کو منتقل ہو جائیں گی۔ اسی طرز پر آرٹیکل 202A کے تحت ہائی کورٹس میں بھی آئینی بنچوں کے قیام کی گنجائش رکھی گئی ہے، جس کے لیے صوبائی اسمبلیاں یا اسلام آباد ہائی کورٹ کے معاملے میں قومی اسمبلی قرارداد منظور کر سکتی ہے۔

دیگر آئینی تبدیلیاں

عدالتی اصلاحات کے علاوہ اس ترمیمی بل میں آرٹیکل 9A کا اضافہ کر کے صاف، صحت بخش اور پائیدار ماحول کو ہر شہری کا بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔ آرٹیکل 215 میں ترمیم کے ذریعے الیکشن کمیشن کے چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کو نئے جانشین کے عہدہ سنبھالنے تک اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

چوتھے شیڈول میں ترمیم کر کے کنٹونمنٹ بورڈز کے مقامی ٹیکسوں اور ٹول کو فیڈرل لیجسٹلیٹو لسٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ آرٹیکل 48 کے تحت وزراء اور وزرائے مملکت کو حاصل وہ تحفظ ختم کر دیا گیا ہے جس کی بنا پر ان سے کسی عدالت یا اتھارٹی میں سوال نہیں پوچھا جا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 81 کے تحت فیڈرل کانسولیڈیٹڈ فنڈ کا دائرہ کار بڑھا کر سپریم کورٹ، جوڈیشل کمیشن، سپریم جوڈیشل کونسل اور تمام قومی، صوبائی و بلدیاتی انتخابات کے اخراجات کو اس میں شامل کر دیا گیا ہے۔