سرحدی علاقوں کے باشندوں کے لیے تجارت محض تجارتی معاہدوں کا نام نہیں بلکہ یہ ان کے چولہے جلانے کا واحد ذریعہ ہے۔ پاک افغان سرحد پر گاہ بہ گاہ پیدا ہونے والی کشیدگی اور تجارتی راستوں کی بندش نے اس وقت طورخم، لنڈی کوتل، جمرود اور چمن کی مقامی معیشت کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں پالیسی سازوں کے لیے برآمدات اور درآمدات کا گھٹتا ہوا گراف شاید متبادل منڈیوں کی تلاش کا اشارہ ہو، لیکن سرحدی پٹی پر بسنے والے لاکھوں افراد کے لیے متبادل روزگار کی تلاش ایک ناممکن چیلنج بن چکی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے ابتدائی چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) میں پاک افغان دوطرفہ تجارت 1.26 ارب ڈالر سے گھٹ کر صرف 594 ملین ڈالر رہ گئی ہے۔ یعنی قلیل عرصے میں دوطرفہ تجارتی حجم میں 53 فیصد کی سنگین کمی دیکھی گئی۔ دوسری جانب افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی صورتحال اور بھی ابتر ہے؛ جو تجارت مالی سال 2022-23 میں 102,886 کنٹینرز اور 6.7 ارب ڈالر کے ریکارڈ حجم تک پہنچی تھی، وہ مالی سال 2025-26 میں محض 11,592 کنٹینرز اور 367 ملین ڈالر پر سمٹ کر رہ گئی ہے۔
سرحدی مارکیٹیں، ہنر مند اور معاشی تباہی
اس معاشی جمود کی سب سے زیادہ قیمت وہ لوگ ادا کر رہے ہیں جن کا روزگار راست طور پر سرحد سے وابستہ تھا۔ کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس، ٹرک ڈرائیور، گودام مالکان، ہوٹل، ورکشاپس اور چھوٹے دکاندار اس صورتحال سے بری طرح پس چکے ہیں۔ پشاور بازار میں قیمتی پتھروں کے تاجر رحمت اللہ کی کہانی اس بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے افغان تاجر کو تقریباً 10 لاکھ روپے کی ادائیگی کی تھی، جس کے بدلے پتھروں کی کھیپ پاکستان آنی تھی، لیکن سرحد بند ہونے کے باعث نہ مال پہنچا اور نہ رقم واپس ملی۔ اس نقصان کے باعث وہ گھر کا کرایہ تک ادا کرنے سے قاصر ہیں اور مجبوری میں اپنے دو بچوں کو سکول سے ہٹانا پڑا۔
اسی طرح لنڈی کوتل میں تین نسلوں سے قالین کا کاروبار کرنے والے لیاقت زئی کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان سے نیم تیار قالین منگوا کر ان کی فنشنگ اور پیکنگ کے بعد "میڈ ان پاکستان" کی مہر لگا کر برآمد کرتے تھے۔ ماضی میں چار ہزار کا قالین چالیس ہزار تک میں بک جاتا تھا، مگر اب سرحد کی مسلسل بندش سے ان کا کاروبار صرف 10 فیصد رہ گیا ہے۔ بازاروں میں خریدار نہ ہونے کی وجہ سے ہول سیل تاجروں کی سیلز آدھی رہ گئی ہیں، جبکہ ریستوران مالکان کے مطابق جہاں پہلے روزانہ 10 سے 12 بھیڑیں ذبح ہوتی تھیں، وہاں اب دو یا تین کا گوشت فروخت کرنا بھی دشوار ہو چکا ہے۔
پنجاب کے کسان اور بدلتی ہوئی جیو اکنامکس
تجارت کی اس بندش کے اثرات صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے۔ پنجاب کے ضلع دیپال پور میں آلو کے بڑے کاشتکار ریاض وٹو کے مطابق افغان سرحد بند ہونے سے قبل ان کی فصل پیشگی بک جاتی تھی اور یہی آلو افغانستان کے راستے ازبکستان اور ترکمانستان تک برآمد ہوتا تھا۔ لیکن تجارتی راستے مسدود ہونے پر مقامی منڈی میں آلو کی قیمت اس حد تک گر گئی کہ فصل کی لوڈنگ کا خرچہ نکالنا بھی ممکن نہ رہا۔
پاکستان کا گمان رہا ہے کہ افغانستان کے پاس تجارتی راہداری کے لیے اس کے سوا کوئی مؤثر متبادل موجود نہیں۔ لیکن اب حالات کی رخ بدل رہا ہے۔ افغانستان نے ایران، ازبکستان اور ترکمانستان کے ساتھ اپنے تجارتی راستے اور روابط تیزی سے استوار کر لیے ہیں۔ اگر یہ متبادل راستے مکمل طور پر فعال ہو جاتے ہیں تو افغان معیشت کا پاکستان پر انحصار ختم ہو جائے گا، جس کا حتمی خمیازہ سرحدی اضلاع کے ان لاکھوں شہریوں کو بھگتنا پڑے گا جن کی زندگیاں اس تجارتی شاہراہ سے جڑی ہوئی ہیں۔





تبصرے