خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا اہم آپریشن، 10 دہشت گرد ہلاکحکومت پاک ایران گیس پائپ لائن پر ٹرمپ سے ہم پر عائد پابندی ہٹانے کا کہے: راجہ ناصر عباسنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حملے کی شدید مذمت، 3 پاکستانیوں کی شہادت پر تعزیتملک بھر میں پیٹرول کی قیمت میں 1.70 روپے فی لیٹر کمی کا اعلاناسٹیٹ بینک آف پاکستان کا شرح سود میں کمی کا امکان
LIVE
Bitcoin rises above $80,000 as soft dollar, debasement fears boost momentumDocumentary NAZA on 'mass killing of Palestinian civilians' vying for Golden Lion at Venice Film Festival
تعلیم
[DEV-FRONTEND-DATASET] Temporary Pakistan subcategory for local frontend design testing.
اسلام آباد میں کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سائنس میں جدید پیش رفت کے موضوع پر تیسری بین الاقوامی کانفرنس (CAIDS-2025) کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملکی و غیر ملکی ماہرین، محققین اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ رِفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کی میزبانی اور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں، یونیورسٹی آف لکی مروت، گومل یونیورسٹی، کیوی بنوں اور ملائیشیا کی ملٹی میڈیا یونیورسٹی کے اشتراک سے ہونے والی اس کانفرنس میں اے آئی کے اخلاقی استعمال، ڈیٹا پرائیویسی اور سوشل میڈیا پر پھیلاؤ پانے والی کثیر لسانی غلط معلومات کے تدارک کے لیے جدید الگورتھمز کے استعمال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
آزاد کشمیر میں انسانی وسائل کے موثر استعمال اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے مظفرآباد میں دو روزہ یوتھ لیڈرشپ ورکشاپ اور جاب فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی 64 فیصد نوجوان آبادی میں صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ درست رہنمائی اور جدید ہنر کی عدم دستیابی اصل رکاوٹ ہے۔ اس موقع پر قائم کیے گئے جاب فیسٹیول میں مختلف سرکاری محکموں، مسلح افواج اور تعلیمی کنسلٹنٹس نے اسٹالز لگائے۔ حکومت نے آزاد کشمیر میں فری لانسنگ اور ڈیجیٹل روزگار کے لیے انٹرنیٹ سروسز کی بہتری کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔
پاکستان کے ابتدائی تعلیمی نظام میں اگرچہ داخلوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، لیکن سیکھنے کا معیار مخدوش صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تیسری جماعت کے محض چار سے بارہ فیصد بچے ہی انگریزی متن کو رواں پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس زوال کی بڑی وجہ تدریسی زبان کا ابہام ہے؛ پنجاب کے نجی انگریزی میڈیم اساتذہ پر کیے گئے برٹش کونسل کے سروے میں 94 فیصد اساتذہ خود انگریزی بولنے سے قاصر پائے گئے۔ ملک میں جہاں 1 فیصد سے بھی کم بچوں کی مادری زبان انگریزی ہے، وہاں مادری زبان کے بجائے نا مانوس زبان میں بنیادی تدریس بچوں کے فہم پر بوجھ بن جاتی ہے۔ 2010 کے بعد تعلیمی بجٹ میں سالانہ 17.5 فیصد اضافے کے باوجود نظام میں ادارہ جاتی خامیوں کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پا رہے۔