مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی ٹیکنالوجی اب صرف سائنسی لیبارٹریوں یا تدریسی شعبوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ صحت، حکمرانی، مواصلات اور معیشت کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ اس تکنیکی پیش رفت کو ملکی ترجیحات سے جوڑنے کے لیے اسلام آباد میں 20 سے 22 مئی 2025 کے دوران 'ریسنٹ ایڈوانسز ان کمپیوٹنگ، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اینڈ ڈیٹا سائنس' (CAIDS-2025) کی تیسری بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کا بنیادی مقصد تحقیقی کام کو محض مقالوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی مسائل کے حل کی طرف موڑنا تھا۔
صنعت، جامعات اور حکومتی پالیسی سازی میں رابطہ
اس تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی نشست میں رِفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد اور پلاننگ کمیشن کے رکن سائنس، ٹیکنالوجی و آئی سی ٹی ڈاکٹر نجیب اللہ مروت نے بطورِ خاص شرکت کی۔ اس علمی ایونٹ کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں پاکستان کی متعدد جامعات—بشمول یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں، یونیورسٹی آف لکی مروت اور گومل یونیورسٹی کے علاوہ کیوی بنوں اور ملائیشیا کی ملٹی میڈیا یونیورسٹی (MMU) نے انتظامی شراکت داری کی۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں سائنسی تحقیق اسی وقت موثر نتائج دے سکتی ہے جب جامعات، نجی صنعت اور پالیسی ساز اداروں کے درمیان مستقل رابطہ قائم ہو۔ کانفرنس میں پیش کیے گئے منتخب تحقیقی مقالوں کو ماہرانہ تفتیش (Peer Review) کے بعد ملائیشیا کی 'ایم ایم یو پریس' کے علمی جرائد میں شائع کیا جائے گا، جو مقامی محققین کو عالمی سطح پر اپنے کام کی پذیرائی کا موقع فراہم کرے گا۔ ہائبرڈ طرزِ عمل اپنانے کے باعث دنیا بھر سے نامور اساتذہ اور محققین آن لائن ذرائع سے بھی اس مباحثے کا حصہ بنے۔
اخلاقی ذمہ داری اور سوشل میڈیا پر غلط معلومات کی روک تھام
افتتاحی خطاب کے دوران پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد نے اے آئی نظام کے استعمال میں اخلاقی اور انسانی اقدار پر خصوصی روشنی ڈالی۔ الگورتھمز میں ممکنہ تعصب، ڈیٹا کی رازداری کی خلاف ورزی اور غلط معلومات کا پھیلاؤ ایسے خطرات ہیں جن سے نمٹنے کے لیے نوجوان محققین کی اخلاقی تربیت لازمی ہے۔
اس سلسلے میں پاکستان سائنس فاؤنڈیشن (PSF) کے مسابقتی تحقیقی گرانٹ پروگرام کے تحت مالی معاونت حاصل کرنے والے ایک اہم منصوبے 'پولیٹیکل پلس' کا تعارف بھی پیش کیا گیا۔ یہ پروجیکٹ 'ایکسپلین ایبل اے آئی' (XAI) اور ڈیپ لرننگ تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کثیر لسانی غلط معلومات کی نشاندہی اور تجزیے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان جیسے متنوع اور کثیر لسانی معاشرے میں، جہاں سوشل میڈیا عوامی رائے پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے، مقامی زبانوں میں منفی مواد یا پروپیگنڈے کا تکنیکی تجزیہ ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سائنس کے میدان میں عالمی پیش رفت کی رفتار کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے لیے محض غیر ملکی ٹیکنالوجی خریدنا کافی نہیں ہوگا۔ ایسے فورمز مقامی سطح پر تحقیقی صلاحیتوں کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاھم ان اقدامات کا حقیقی فائدہ اس وقت حاصل ہوگا جب کانفرنس کی سفارشات کو حکومتی پالیسی اور صنعتی پیداوار کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔





تبصرے