پاکستان میں جب بھی معاشی مسائل پر گفتگو ہوتی ہے تو تمام تر توجہ مالی خساروں، بیرونی قرضوں کے بوجھ، افراطِ زر اور عالمی بازار کے اتار چڑھاؤ پر مرکز ہو جاتی ہے۔ اگرچہ یہ عوامل معاشی دباؤ کی اہم وجوہات ہیں، مگر مسئلے کی اصل جڑ حکمرانی کے ڈھانچے اور ادارہ جاتی نظام کی تنزلی میں پیوست ہے۔ کمزور ادارے، غیر واضح قوانین، اختیارات کی غیر متوازن تمرکز اور احتساب کے غیر موثر طریقہ کار بدعنوانی کو جنم دینے کے ساتھ ساتھ کاروبار اور سرمایہ کاری کے ماحول کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کے بارے میں جاری کردہ 'گورننس اور کرپشن ڈائگناسٹک رپورٹ' نے بھی اسی بنیادی حقیقت پر روشنی ڈالی ہے۔ اس تجزیے کی روشنی میں بدعنوانی محض چند افراد کا انفرادی عمل نہیں رہ جاتی، بلکہ یہ ایک ایسے نطام کی پیداوار بن کر سامنے آتی ہے جہاں قواعد و ضوابط پر صوابدیدی اختیارات کو ترجیح دی جاتی ہو۔

سیاسی اثرات اور کمزور ہوتے ادارے

ایک متوازن اور فعال ریاست کی بنیاد اس بات پر ہوتی ہے کہ قوانین کا اطلاق تمام شہریوں پر یکساں ہو، فیصلے طے شدہ قواعد کے تحت ہوں اور اداروں کے اندر خودکار نگرانی کا مضبوط نظام موجود ہو۔ اس کے برعکس، جب اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں، پالیسی ساز فیصلوں اور اندرونی احتساب پر سیاسی مفادات غالب آ جائیں تو اداروں کی غیر جانب داری ختم ہو جاتی ہے۔ اس بگاڑ کا اثر صرف سرکاری دفاتر تک محدود نہیں رہتا بلکہ ٹیکس کی وصولی، نجی سرمایہ کاری، اور بنیادی عوامی خدمات کا پورا نظام اس کی زد میں آ جاتا ہے۔

اس حوالے سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے قائم کیے گئے احتسابی اداروں کا کردار خاص طور پر اہم ہے۔ جب ان اداروں کو مستقل ادارہ جاتی بہتری کے بجائے سیاسی تنازعات اور تصفیوں کے لیے استعمال کیا جائے تو احتساب کا اصل مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں احتساب ایک مستقل قانونی کارروائی بننے کے بجائے مخصوص ادوار اور سیاسی مخالفین تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے، جس سے عوام اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید متزلزل ہوتا ہے۔

قانون کی بالادستی اور سرمایہ کاری کا ماحول

کسی بھی ملک میں معاشی سرگرمیوں کی ترقی کے لیے قانون کی یقینی بالادستی اور عدالتی نظام کی شفافیت بنیادی شرط ہوتی ہے۔ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار اس وقت اپنے سرمائے کو خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار ہوتے ہیں جب انہیں یہ یقین ہو کہ تجارتی تنازعات کی صورت میں انہیں ایک غیر جانب دار اور قابلِ اعتماد قانونی تحفظ میسر آئے گا۔ طویل عرصے تک لٹکتے ہوئے مقدمات، قائم کی گئی مختلف خصوصی عدالتیں اور ٹریبونلز، اور عدالتی تقرریوں پر اٹھنے والے سوالات اس اعتماد کو گہرا دھچکا پہنچاتے ہیں۔

جب سرکاری اور قانونی نظام پر کاروباری طبقے کا اعتماد ختم ہونے لگے تو فریقین قانونی راستے چھوڑ کر غیر رسمی سمجھوتوں اور ذاتی اثر و رسوخ پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشی میدان میں صرف وہی فریق کامیا ب ہوتا ہے جو زیادہ طاقتور یا اثر و رسوخ کا حامل ہو، جبکہ چھوٹے اور نئے کاروباری افراد کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

اصلاحات پر عمل درآمد کا بحران

پاکستان میں اصلاحاتی منصوبوں یا کاغذی تجاویز کی کبھی کمی نہیں رہی۔ ٹیکس انتظامیہ کی بحالی، سرکاری خریداری (پروکیورمنٹ) کے طریقہ کار، تجارتی ضوابط کی آسان کاری، آڈٹ کے نظام کو خود مختار بنانے اور مالیاتی نگرانی کو بہتر کرنے کے لیے درجنوں رپورٹس اور سفارشات پہلے سے موجود ہیں۔ بنیادی مسئلہ ان تجاویز کی عدم موجودگی کا نہیں بلکہ ان پر مستقل مزاجی کے ساتھ عمل درآمد نہ ہونا ہے۔

مثال کے طور پر، سرکاری خریداری کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا، قواعد کو عام فہم بنانا اور آڈٹ اداروں کو بااختیار بنانا ایسے اقدامات ہیں جو صوابدیدی اختیارات کے جائز و ناجائز استعمال کو روکا جا سکتا ہے۔ تاہم جب بھی ان اصلاحات کو نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، نجی مفادات اور غیر رسمی طاقت کے مراکز ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں، جس سے بہترین پالیسیاں بھی فائل بند ہو کر رہ جاتی ہیں۔

معلومات تک رسائی اور سول سوسائٹی کی نگرانی

حکمرانی میں بہتری لانے کے لیے صرف حکومت یا پارلیمان پر انحصار کافی نہیں ہوتا، بلکہ سول سوسائٹی، میڈیا، جامعات اور تحقیقی اداروں کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ان اداروں کو محض غیر فعال تماشائی بننے کے بجائے حکومتی وعدوں اور عملی اقدامات کے درمیان فرق کی نشاندہی کرنی چاہیے۔ بجٹ کی تیاری، سرکاری اخراجات، اور ترقیاتی منصوبوں کی آزادانہ نگرانی ہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے اصلاحاتی تسلسل کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

یہ نگرانی اسی وقت ممکن ہے جب شہریوں اور محققین کو معلومات تک آزادانہ رسائی (RTI) میسر ہو۔ اگر سرکاری فیصلوں، ترقیاتی فنڈز کی تقسیم اور اداروں کی کارکردگی سے متعلق معلومات کو پوشیدہ رکھا جائے تو اصلاحات کا دعویٰ بے معنی ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ترقیاتی منصوبوں کی مقامی سطح پر نگرانی میں عام شہریوں کو شامل کرنے سے بے ضابطگیوں کا فوری سدباب ممکن ہے۔

پاکستان کے معاشی استحکام کا پائیدار راستہ صرف عالمی مالیاتی اداروں سے عارضی قرض حاصل کرنے یا بجٹ خسارے کی مصنوعی پیوند کاری میں نہیں ہے۔ جب تک ادارے مضبوط نہیں ہوں گے، قوانین کا یکساں اطلاق نہیں ہوگا اور حکمرانی میں شفافیت نہیں لائی جائے گی، معاشی بحالی کے تمام دعوے عارضی ثابت ہوں گے۔