پاکستان میں بدعنوانی پر ہونے والی اکثر بحثیں محض رشوت، اختیارات کے ناجائز استعمال یا اقربا پروری کے چند واقعات تک محدود رکھی جاتی ہیں، لیکن حال ہی میں سامنے آنے والے ایک وسیع پیمانے کے سروے نے اس گہرے مسئلے کے ایک بالکل مختلف رخ کی نشاندہی کی ہے۔ 'انڈیکس آف ٹرانسپیرنسی اینڈ اکاؤنٹیبلٹی' (iTAP) کے نام سے جاری کردہ اس سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ 68 فیصد شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں ذاتی طور پر کبھی ایسی صورتحال سے نہیں گزرنا پڑا جہاں کام کے عوض رشوت کی فرمائش کی گئی ہو، مگر اس کے باوجود ان کی اکثریت سرکاری محکموں کے بدعنوان ہونے پر پختہ یقین رکھتی ہے۔

یہ نمایاں فرق ایک تلخ سچائی کو بے نقاب کرتا ہے کہ عوام کا ریاستی محکموں کے بارے میں نقطہ نظر صرف ذاتی تجربات اور تلخیوں سے ہی نہیں بنتا، بلکہ اس کے پیچھے اداروں کی برسوں پر محیط شہرت اور قائم شدہ تاثر اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب ایک بار کسی ادارے کے بارے میں عوام کا یہ رویہ پختہ ہو جائے کہ وہاں بغیر لین دین کام نہیں ہوتا، تو پھر خواہ ذاتی تجربہ نہ بھی ہو، اعتماد کی بحالی کا عمل بوجھل ہو جاتا ہے۔

اداروں کی منفی ساکھ اور عوامی غصہ

تحقیقی ادارے آئیپسوس (Ipsos) اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے اس مشترکہ جائزہ رپورٹ میں اقربا پروری اور غیر قانونی آمدن کے پھیلاؤ کے بارے میں بھی یہی رویہ ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں شامل افراد نے بدعنوانی کو ہر سطح پر پھیلا ہوا سمجھا، چاہے ان میں سے بہت سے لوگوں کو براہِ راست ایسے کسی تجربے سے واسطہ نہ پڑا ہو۔

اگر اداروں کی بات کی جائے تو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، ضلعی انتظامیہ اور عدالتوں کا شمار ان شعبوں میں ہوتا ہے جن کے بارے میں عوام کا عمومی تاثر بہت حد تک منفی پایا جاتا ہے۔ دوسری طرف کئی شہریوں کا ان محکموں کے ساتھ باقاعدہ یا روزمرہ کی بنیاد پر کوئی تعلق بھی نہیں بنتا۔ دراصل یہ صورتحال انتظامی ڈھانچے کی اس اندرونی خرابی کو ظاہر کرتی ہے جہاں سائل پہلے ہی خوف یا بدظنی کے احساس کے ساتھ قدم رکھتا ہے۔ جب شہری کسی بھی ادارے کو پہلے ہی مشکوک اور غیر شفاف تصور کریں گے تو وہاں شفافیت کے دعوے بے اثر ثابت ہوتے ہیں۔

ڈیجیٹلائزیشن اور انسانی مداخلت میں کمی

عوام کے اس بگاڑ اور بے اطمینانی کو دور کرنے کے لیے سروے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو ایک ممکنہ اور مضبوط متبادل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سرکاری سروسز اور خدمات کو سمارٹ فون ایپس اور ڈیجیٹل پورٹلز پر منتقل کرنے سے افسر شاہی کے صوابدیدی اختیارات اور بلاواسطہ انسانی مداخلت ختم ہو جاتی ہے، جس سے لین دین یا زبردستی وصولی کے راستے مسدود ہوتے ہیں۔

اس نقطہ نظر کی سب سے بڑی مثال نادرا کا خودکار شناختی نظام اور کچھ بڑے شہروں میں متعارف کرایا گیا ای چالان کا ٹریفک مینجمنٹ سسٹم ہے، جن کی عوامی درجہ بندی دیگر روایتی اداروں سے نمایاں طور پر بہتر ریکارڈ کی گئی ہے۔ جہاں کہیں جدید تکنیکی وسائل اور شفاف عمل کو اپنایا گیا، وہاں عوام کے اعتماد کا گراف خود بخود بہتر ہوتا چلا گیا۔

ریاست اور شہریوں کے درمیان پیدا ہونے والے اس عمیق خلیج کو محض نعروں یا روایتی اصلاحاتی کمیٹیوں سے پر نہیں کیا جا سکتا۔ اداروں کی بحالی کے لیے شفاف عمل درکار ہے جس میں شہری کو اپنے کام کے لیے رشوت نہ دینی پڑے اور نظام خودکار انداز میں جواب دہ ہو۔ اگر تکنیکی جدت اور بلاتفریق احتساب کو انتظامی اصلاحات کا حصہ بنایا جائے تو ریاست کے ہر ادارے کے بارے میں پائے جانے والے اس منفی تاثر کو ختم کیا جا سکتا ہے۔