پاکستان
this is test category for pakistan
مزید خبریں

ہمالیہ کے سبزہ زاروں سے رتی گلی تک: گرمی کی حبس سے نانگا پربت، دیوسائی اور وادیِ نیلم کا سحر انگیز سفر
لاہور کی تپتی گرمی اور حبس زدہ دوپہر سے فرار اختیار کر کے سلسلےِ ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں اور قدرتی جھیلوں کی طرف نکلنا کسی خواب سے کم نہیں۔ یہ سفرنامہ بالاکوٹ، بابوسر پاس اور رائے کوٹ برج سے ہوتا ہوا نانگا پربت کے دامن میں واقع فیری میڈوز تک پہنچتا ہے، جہاں قاری رحمت کی آپ بیتی اور جرمن کوہ پیماؤں کی داستانیں بکھری ہیں۔ وہاں سے استور کی تاریخی وادیوں، مینیمرگ اور رینبو لیک سے گزرتے ہوئے، دیوسائی کے پراسرار میدانوں اور بالآخر وادیِ نیلم کی خوبصورت رتی گلی جھیل تک کا سفر قدرتی مناظر، مقامی ثقافت اور سیاحتی زندگی کی جیتی جاگتی تصویر پیش کرتا ہے۔لاہور میں شدید گرمی اور حبس کا زور تھا اور آم کے درخت پر پپیہے کے جوڑے کا گھونسلا بارش کے بعد بکھر رہا تھا، جب ہمالیہ کے سرسبز میدانوں اور قدرتی جھیلوں کی صدا نے سفر پر روانہ ہونے کا اشارہ دیا۔ ہمالیہ کا یہ عظیم الشان پہاڑی سلسلہ مغرب میں افغانستان سے لے کر مشرق میں میانمار تک پھیلا ہوا ہے، جس میں ماؤنٹ ایورسٹ اور نانگا پربت سمیت 8 ہزار میٹر سے بلند کئی چوٹیاں شامل ہیں۔ بالاکوٹ پہنچے تو وادیِ کاغان میں دریائے کنہار پر دھند کی چادر تنی تھی اور لولوسر جھیل صبح کے وقت سیاحوں سے خالی ویران نظر آ رہی تھی۔ بابوسر پاس عبور کرتے ہی سردی کی شدت میں اضافہ ہوا، چلاس کی گرمی اور سڑک کی دھول سے گزر کر دوپہر کے وقت رائے کوٹ برج پہنچے جہاں سے جیپ کے ذریعے تتّو گاؤں اور پھر تین گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد فیری میڈوز کا سبزہ زار سامنے آیا۔ نانگا پربت کا سایہ اور فیری میڈوز کا قاری 8,126 میٹر بلند نانگا پربت کے سامنے رات کے اندھیرے میں فیری میڈوز کاجل جیسا سیاہ دکھائی دے رہا تھا۔ یہاں فیری میڈوز کاٹیجز کے مالک قاری رحمت سے ملاقات ہوئی، جنہوں نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز بیان کیے۔ وہ ماضی میں ایک مدرسے میں 1,200 روپے ماہانہ پر پڑھاتے تھے، مگر مہمان نوازی کے اخراجات کی وجہ سے ان کے پاس کچھ نہ بچتا۔ نوکری چھوڑنے کے بعد ایک سال بے روزگار رہے، پھر 1992ء میں گلگت میں ایک شخص کے مشورے پر 800 روپے کی رقم کے ساتھ فیری میڈوز کی شاملاٹ زمین پر پتھر رکھ کر جگہ کی نشان دہی کی اور جنگل کی لکڑی سے ہوٹل بنایا۔ شروع کے پانچ سال تو کوئی مقامی سیاح نہ آیا لیکن آج ان کا ہوٹل ہر سیزن میں مکمل بک رہتا ہے۔ اسی دامن میں 1953ء میں آسٹریا کے کوہ پیما ہرمن بُہل نے پہلی بار نانگا پربت سر کیا تھا، جبکہ اس سے قبل یہ سرکش پہاڑ 31 کوہ پیماؤں کی جانیں لے چکا تھا۔ بُہل نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ آخری چڑھائی کے دوران انہیں محسوس ہوا کہ کوئی نادیدہ وجود ان کے پیچھے ہے اور رسی اپنے آپ ٹوٹ گئی تھی۔ اس پہاڑ نے جرمن کوہ پیما رائن ہولڈ میسنر کے بھائی سمیت کئی مہم جوؤں کو اپنے آغوش میں سلا رکھا ہے۔ مینیمرگ کے کھلتے پھول اور دیوسائی کی پراسرار خاموشی فیری میڈوز سے رخصت ہو کر شاہراہِ ریشم کے راستے استور کا سفر شروع ہوا۔ 120,000 کی آبادی پر مشتمل ضلع استور چشموں، ندی نالوں اور جھیلوں کی سرزمین ہے۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ فارس سے آنے والے غازی مکپون نے سکردو کے شاہی خاندان میں شادی کی تھی اور ان کی اولاد نے سکردو، استور، روندو اور کھرمُنگ پر طویل عرصے حکومت کی، جس کے بعد یہ علاقہ ڈوگرا راج کے زیرِ نگیں چلا گیا۔ استور کے بازار سے جیپ تبدیل کر کے چلم چوکی میں اندراج کروایا اور مینیمرگ کی طرف بڑھے، جہاں لکڑی کے مکانات، جستی چھتیں اور رنگ برنگے جنگلی پھول سیاحوں کا استقبال کرتے ہیں۔ یہاں سے ڈومیل کی رینبو لیک پہنچے تو مارموٹ (پہاڑی گلہری) کی سیٹیوں نے فضا میں موسیقی گھول دی۔ اس کے بعد سفر دیوسائی کے وسیع و عریض میدانوں اور شیوسر جھیل کی طرف مڑا۔ دیوسائی کا لفظ ’دیو‘ یعنی دیو قامت اور ’سائی‘ یعنی سائے کا مجموعہ ہے۔ شدید سردی اور منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے والے درجہ حرارت کی وجہ سے یہاں مستقل رہائش ناممکن ہے۔ یہ خاموش میدان بھورے ریچھ، سرخ لومڑی اور سنہری عقاب کا مسکن ہے۔ پنجاب کے میدانی علاقوں سے آنے والے چرواہے اپنے مویشیوں کے ساتھ انہی میدانوں سے گزر کر سکردو اور استور جاتے ہیں اور سفر کے دوران فوت ہو جانے والے چرواہوں کی قبریں انہی ویرانوں میں بکھری پڑی ہیں۔ کرن سیکٹر کی للکار اور رتی گلی کا نیلا پانی سلسلہِ ہمالیہ کا گلگت بلتستان کا حصہ ختم ہوا تو کشمیر کی سب سے بڑی جھیل 'رتی گلی' کا سفر شروع ہوا۔ مظفرآباد شہر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف یومِ سیاہ کی وجہ سے مکمل بند اور ویران تھا۔ وادیِ نیلم کے کرن سیکٹر کی ملٹری چیک پوسٹ پر فوجی اہلکار نے دو دن قبل ہونے والی فائرنگ اور چار شہادتوں کا حوالہ دیتے ہوئے آگے جانے سے روکا، لیکن جنونِ سفر کے سامنے رکاوٹیں نہ ٹھہر سکیں۔ دوڑیاں سے سنگلاخ راستے پر ڈھائی گھنٹے جیپ کے سفر کے بعد رتی گلی کا بیس کیمپ آیا، جو خیموں کا ایک شہر بن چکا تھا۔ وہاں سے ڈھائی کلومیٹر کی عمودی اور کٹھن چڑھائی کے بعد جب رتی گلی جھیل کا گہرا نیلا پانی اور شام کی سنہری شعاعیں سامنے آئیں تو تمام تھکن کافور ہو گئی۔ اس نیلی جھیل کے کنارے سبز مخملی گھاس پر سجدہ ریز ہو کر خالقِ حقیقی کا شکر ادا کیا۔ لاہور واپسی پر جب کھڑکی کھولی تو آم کا درخت اداس تھا اور پرندوں کا جوڑا جا چکا تھا، مگر ایک سیاح کے لیے سفر کی یادیں اور نئے راستوں کی تلاش ہی اصل اثاثہ ہوتی ہے۔

برف میں ڈھکی جھیل سیف الملوک: ناران سے ملکہ پربت کے دامن تک ایک سیاح کا سحر انگیز سفر
وادیِ کاغان کا شمار پاکستان کے سب سے دلکش قدرتی خطوں میں ہوتا ہے، جہاں دریائے کنہار کے ساتھ ساتھ پھیلی وادی، شوگران، ناران اور جھیل سیف الملوک سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی رہتی ہیں۔ موسمِ بہار اور سرما کے اختتام پر جب ناران سے جھیل سیف الملوک کا جیپ ٹریک شدید برف باری کے باعث بند ہوتا ہے، تو 4,173 میٹر تک بلند ان پہاڑی سلسلوں کا سفر کٹھن اور دشوار گزار ہو جاتا ہے۔ یہ تحریر پنجاب کے میدانی علاقوں اور ہزارہ ڈویژن سے ہوتے ہوئے ناران، للوسر، لولا زار اور برف سے ڈھکی سیف الملوک جھیل تک کے ایک منفرد سیاحتی سفر، مقامی ثقافت اور قدرتی تنوع کا احاطہ کرتی ہے۔

دیوسائی کی سحر انگیز وسعتیں: 'دیوؤں کی سرزمین' اور شیووسر جھیل کا جغرافیائی و انسانی منظرنامہ
سطحِ سمندر سے 4 ہزار میٹر سے زائد بلندی پر واقع دیوسائی کا قومی پارک ہندوکش اور ہمالیہ کے سنگم پر 3 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ایک منفرد خطہ ہے۔ 'دیو' اور 'سائی' یعنی دیوؤں کے سائے سے منسوب یہ سطحِ مرتفع سال کے 8 ماہ برف سے ڈھکی رہتی ہے اور یہاں کوئی درخت موجود نہیں ہے۔ یہ علاقہ ہمالین براؤن بیئر، سرخ لومڑیوں اور نایاب پرندوں کا قدرتی مسکن ہے۔ سکردو سے سدپارہ کے راستے شیووسر جھیل تک پھیلا یہ راستہ جہاں قاتل پہاڑ نانگا پربت کے نظارے پیش کرتا ہے، وہیں چلم اور استور کے راستے میں پہاڑی باشندوں کی زندگی کے تلخ حقائق سے بھی پردہ اٹھاتا ہے۔

کراچی سے گوادر: مکران کوسٹل ہائی وے اور بلوچستان کی سحر انگیز ساحلی پٹی کا سفر
پاکستان کی جنوبی ساحلی پٹی قدرتی مناظر، نایاب جغرافیائی تنوع اور معاشی امکانات کا ایک انوکھا مرکب ہے۔ کراچی کے تاریخی ساحلوں سے شروع ہو کر بلوچستان کے شہر گوادر تک پھیلا یہ ساحلی راستہ مکران کوسٹل ہائی وے (این-10) کے ذریعے مختلف جغرافیائی شاہکاروں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ گدانی میں ناکارہ بحری جہازوں کے قبرستان سے لے کر 300 فٹ بلند چندر گپ کے مٹی کے آتش فشاں، 1,650 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہنگول نیشنل پارک، اور سُپٹ بندر کا نایاب ساحل جہاں رات کو نیلی روشنائیاں (بائیو لیومینسینس) چمکتی ہیں، اس سفر کا اہم حصہ ہیں۔ یہ تحریر پاکستان کے اس حسین مگر کم معروف ساحلی منظرنامے کی عکاسی کرتی ہے۔

وادیِ بروغل کی کرومبر جھیل: ہندوکش کے آغوش میں واقع پاکستان کا نایاب قدرتی شاہکار
پاکستان کے دور افتادہ شمالی علاقے چترال کی وادیِ بروغل میں واقع کرومبر جھیل سطحِ سمندر سے 4,300 میٹر کی بلندی پر موجود قدرتی خوبصورتی کا ایک شاہکار ہے۔ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کی سرحد پر واقع یہ جھیل دنیا کی بلند ترین متحرک جھیلوں میں شمار ہوتی ہے، لیکن یہاں تک پہنچنے کا راستہ لواری ٹنل، ماستوج، اور وادیِ یارخون سے ہوتے ہوئے دشوار گزار پتھریلی سڑکوں اور کلومیٹر طویل پیدل ٹریکنگ پر مشتمل ہے۔ وادیِ بروغل کی مقامی واخی برادری کی ثقافت، یاک کی پرورش اور شدید سردیوں سے قبل کی نقل مکانی اس خطے کو جغرافیائی کے ساتھ ساتھ معاشی اور ثقافتی لحاظ سے بھی منفرد بناتی ہے۔

بریانی اور نہاری سے آگے: وادیِ سوات میں گندھارا تہذیب اور قدیم ذائقوں کی تلاش
پاکستان کا غذائی منظرنامہ اکثر بریانی، کڑاہی اور نہاری جیسے چند معروف پکوانوں تک محدود دکھائی دیتا ہے، لیکن ملک کے مختلف خطوں کی مقامی خوراک کے پیچھے تاریخ، زراعت اور ثقافت کی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔ حال ہی میں شیف اسد مونگا، اینتھروپولوجسٹ ایمان حبیب، آرٹسٹ اریشہ خواجہ اور فوٹوگرافر نور العین علی نے وادیِ سوات کا دورہ کر کے 'وائلڈ گرینز اینڈ سیکرڈ ہرڈز' نامی جریدہ تیار کیا ہے۔ اس تحقیقی سفر کے دوران گندھارا تہذیب کے بدھ راہبوں کے ذریعے تبت سے آنے والے 'دمبرا' مصالحے سے لے کر انگوروں کی کاشت اور پختونوں کی روایتی مہمان نوازی 'میلمستیا' کے ایسے پہلو سامنے آئے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ سوات کا ثقافتی ورثہ صرف آثارِ قدیمہ میں نہیں بلکہ وہاں کے کچن اور فصلوں میں بھی سانس لے رہا ہے۔
مزید تازہ خبریں
تقسیم کے باوجود زندہ سندھی ذائقے: پلا مچھی، سائی بھاجی اور نایاب پکوانوں کی کہانیسندھی پکوان اپنی منفرد لذت، مقامی سبزیوں اور جڑی بوٹیوں کے استعمال کے باعث ایک خاص ثقافتی پہچان رکھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ پاکستان اور بھارت کے مین اسٹریم فوڈ کلچر میں وہ مقام حاصل نہ کر سکے جو دیگر علاقائی کھانوں کو ملا۔ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان، بھارت اور دیارِ غیر میں مقیم سندھی برادری نے اپنے گھریلو کچن کے ذریعے ان روایتی ذائقوں کو زندہ رکھا ہے۔ سائی بھاجی اور دال پکوان سے لے کر سکھر کے زندہ پیر سے منسوب 'پلا مچھی' تک، سندھی کھانا اپنے اندر ہجرت، تاریخ اور روحانی روایات کا ایک منفرد باب سمیٹے ہوئے ہے۔
شاہی مطبخ سے پشاور کی گلیوں تک: اصلی کابلی پلاؤ کا تاریخی سفر اور 12 مصالحوں سے جڑا ذائقہخیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور اپنی مخصوص ثقافت اور کھانوں کی وجہ سے منفرد شناخت رکھتا ہے، جہاں کارخانو مارکیٹ میں الیکٹرانکس اور برتنوں کے ساتھ ساتھ کابلی پلاؤ کی طعام گاہیں بھی مرکزِ نگاہ ہیں۔ افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے بعد اگرچہ پشاور میں 'اصلی بابا ولی کابلی پلاؤ' کے نام سے کئی ریستوران قائم ہو چکے ہیں، لیکن اصل اور روایتی ذائقہ چند ہی جگہوں پر میسر ہے۔ ایرانی شاہی باورچی خانوں سے کابل اور پھر مغل دور میں برصغیر پہنچنے والے اس پلاؤ کی تیاری میں رات دو بجے سے شروع ہونے والی چھ گھنٹے کی ہلکی آنچ، ہشت نگری کے بچھڑے کا گوشت، اور افغانستان سے منگوایا گیا 12 قدرتی اجزا پر مشتمل مخصوص مصالحہ بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
تلواروں پر بھنے گوشت سے پختون خوا کی سڑکوں تک: چپلی کباب کی تاریخی داستان اور روایتی ترکیبچپلی کباب محض ایک لذیذ ڈش نہیں بلکہ خیبر پختونخوا اور مشرقی افغانستان کی ثقافتی اور روایتی پہچان کا اہم حصہ ہے۔ تلواروں پر گوشت بھوننے والے قدیم ترک اور ایرانی سپاہیوں کی روایات سے لے کر پختون خطے کے مخصوص انداز تک، کبابوں کا سفر صدیوں پر محیط ہے۔ پشتو زبان کے لفظ 'چپریخ' یعنی چپلٹے سے نکلنے والا لفظ 'چپلی' اس کباب کی مخصوص ساخت کو ظاہر کرتا ہے۔ انار دانے، ثبوتے دھنیے اور گندم کے آٹے کے متوازن آمیزے سے تیار ہونے والا یہ بیف کباب پورے برصغیر میں بے حد مقبول ہے۔ اس مضمون میں چپلی کباب کے تاریخی پس منظر کے ساتھ ساتھ اسے گھر میں روایتی ذائقے کے ساتھ تیار کرنے کی مکمل ترکیب بھی شامل کی گئی ہے۔
شاہی مطبخ سے کراچی کی گلیوں تک: نہاری کا تاریخی سفر اور روایتی تیاری کا طریقہنہاری صرف ایک لذیذ ڈش نہیں بلکہ برصغیر کی ثقافتی اور معاشی تاریخ کا ایک منفرد باب ہے۔ اٹھارویں صدی میں زوال پذیر مغلیہ سلطنت کے دور میں دہلی اور لکھنؤ کے شاہی مطبخ سے جنم لینے والی یہ ڈش حکمت اور طبِ مشرق سے بھی جڑی ہوئی ہے، جسے شدید سردیوں میں نزلہ اور زکام سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں یہ نوابوں کے ناشتے سے ہوتی ہوئی برصغیر کی تعمیر میں مصروف مزدوروں کی توانائی کا بنیادی ذریعہ بنی۔ کراچی کی صابری نہاری سے لے کر پرانی دہلی کی تاریخی گلیوں تک، نہاری پکانے اور کھانے کی روایت آج بھی اتنی ہی شاندار ہے۔ اس مضمون میں نہاری کے تاریخی پس منظر کے ساتھ اسے گھر میں روایتی انداز سے تیار کرنے کی مکمل ترکیب بھی پیش کی گئی ہے۔
تعزیراتِ ہند سے 1986ء کی ترمیم تک: توہینِ مذہب کے قوانین کا تاریخی ارتقا اور عالمی منظرنامہپاکستان میں 1947ء سے 1985ء کے دوران توہینِ مذہب کے قانون کے تحت صرف 14 مقدمات درج ہوئے تھے، جبکہ 1986ء میں سزائے موت کی شق شامل کیے جانے کے بعد سے اب تک 1,500 سے زائد افراد پر یہ الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کی 2017ء کی ایک جائزہ رپورٹ میں 71 ممالک کے قوانین کا تقابلی جائزہ لیا گیا، جس میں ایران اور پاکستان کے قوانین کو ان کے سخت اطلاق اور سوءِ استعمال کے خدشات کی بنیاد پر فہرست میں سب سے اوپر رکھا گیا۔ نوآبادیاتی دور میں برطانوی حکومت نے 1860ء میں تعزیراتِ ہند کے تحت جو قانون نافذ کیا تھا، اس میں سزائے موت شامل نہیں تھی۔ اس قانون کی یورپی جڑیں اور بعد ازاں پاکستان میں سزائے موت کی شق شامل کیے جانے کا عمل ایک طویل قانونی اور سیاسی تاریخ رکھتا ہے۔
مذہب اور اقتدار کا بندھن: جب عقیدے کو اصلاح کے بجائے اطاعت کا ذریعہ بنا دیا جائےجدید سیاسی فکر میں کارل مارکس کا یہ قول کہ "مذہب عوام کی افیون ہے" اکثر غلط فہمی کا شکار رہتا ہے۔ مارکس کا مقصد مذہب کی تحقیر کے بجائے یہ خبردار کرنا تھا کہ کس طرح جابرانہ نظام میں عقیدے کو ایک مسکن (سیڈیٹیو) کے طور پر برتا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس سوچ کی جھلک دکھائی دیتی ہے، جہاں مذہبی جذبات اور نعروں کو معاشرتی و معاشی ناانصافیوں کے خلاف آواز دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ غربت کو تقدیر کا ناگزیر فیصلہ بتانا، عقل اور نقل کے توازن کو ختم کرنا، اجتہاد کے دروازے بند کرنا اور "اسلام خطرے میں ہے" کے نعرے کو ذات اور اقتدار کی ڈھال بنانا ایسے حائل عوامل ہیں جو نوجوان نسل کو فکر سے دور کر رہے ہیں۔
پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا بدلتا روپ: من گھڑت الزامات، قانون کا استعمال اور اکثریت کا بڑھتا خوفپاکستانی معاشرے میں مذہبی عدم برداشت اور بڑھتے ہوئے خوف نے سماجی تانے بانے کو شدید متاثر کیا ہے۔ شدت پسند گروہوں نے اپنے طریقہ کار میں تبدیلی لاتے ہوئے ہجوم کو بھڑکانے کے بعد قانونی اور انتظامی راہداریوں کے ذریعے ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کا طریقہ اپنا لیا ہے۔ اگست 2023ء میں پی ڈی ایم حکومت کے آخری دنوں میں محض ایک دن کے اندر 48 بل پاس کیے گئے، جن میں مذہبی قوانین میں ترمیم بھی شامل تھی۔ تاہم، ان قوانین کی سختی کا اثر اب خود اکثریت تک پھیلنے لگا ہے، جہاں چترال میں بل پیش کرنے والے رکنِ اسمبلی کا قریبی ساتھی ہی اسی ترمیم کی زد میں آ گیا۔ ہائی کورٹ کی جانب سے بھی ایف آئی اے اور بعض عناصر کے درمیان گٹھ جوڑ کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
تعزیراتِ ہند سے تعزیراتِ پاکستان تک: توہینِ مذہب کے قوانین کا ارتقا اور سیاسی و سماجی اثراتپاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین اور ان کے عمومی اطلاق کا موضوع دہائیوں سے سیاسی اور سماجی مباحث کا مرکز رہا ہے۔ 1860ء کے برطانوی نوآبادیاتی دور کے تعزیراتِ ہند سے شروع ہونے والا یہ قانونی سفر 1927ء میں شق 295-A اور پھر 1980ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے دور کی ترمیمات، بشمول 1986ء کی شق 295-C پر منتج ہوا۔ 1990ء میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے بعد اس شق کے تحت سزائے موت کو واحد اور لازمی سزا قرار دیا گیا۔ 2017ء کے الیکشن ایکٹ تنازع اور فیض آباد دھرنے کے واقعات نے یہ واضح کیا کہ مذہبی جذبات اور قانونی شقیں ملک کے سیاسی و انتظامی نظام کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔
تین دہائیوں میں کیسز کی تسلسل سے آمد اور سیاسی استعمال: توہین کے قوانین کی سختیاں اور بڑھتے سوالاتپاکستان میں توہین سے متعلق قوانین اور ان کے اطلاق کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔ سینٹر فار سوشل جسٹس (CSJ) کے اعداد و شمار کے مطابق 1980ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں تعزیراتِ پاکستان کی شق 295 کی توسیع کے بعد سے مقدمات میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سال 2023ء تک ہزاروں افراد پر الزامات عائد کیے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے جبکہ اقلیتی برادریاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ایک طرف جہاں ان قوانین کو ذاتی و سیاسی مخاصمتوں میں استعمال کرنے کے خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں، وہیں دوسری جانب پارلیمان نے سزاؤں میں مزید اضافے کا بل پاس کیا ہے، جس پر متعدد حلقوں کی جانب سے قانونی اور انسانی حقوق کے تحفظات اٹھائے جا رہے ہیں۔

