پاکستان
this is test category for pakistan
مزید خبریں

مذہب اور اقتدار کا بندھن: جب عقیدے کو اصلاح کے بجائے اطاعت کا ذریعہ بنا دیا جائے
جدید سیاسی فکر میں کارل مارکس کا یہ قول کہ "مذہب عوام کی افیون ہے" اکثر غلط فہمی کا شکار رہتا ہے۔ مارکس کا مقصد مذہب کی تحقیر کے بجائے یہ خبردار کرنا تھا کہ کس طرح جابرانہ نظام میں عقیدے کو ایک مسکن (سیڈیٹیو) کے طور پر برتا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس سوچ کی جھلک دکھائی دیتی ہے، جہاں مذہبی جذبات اور نعروں کو معاشرتی و معاشی ناانصافیوں کے خلاف آواز دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ غربت کو تقدیر کا ناگزیر فیصلہ بتانا، عقل اور نقل کے توازن کو ختم کرنا، اجتہاد کے دروازے بند کرنا اور "اسلام خطرے میں ہے" کے نعرے کو ذات اور اقتدار کی ڈھال بنانا ایسے حائل عوامل ہیں جو نوجوان نسل کو فکر سے دور کر رہے ہیں۔

پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا بدلتا روپ: من گھڑت الزامات، قانون کا استعمال اور اکثریت کا بڑھتا خوف
پاکستانی معاشرے میں مذہبی عدم برداشت اور بڑھتے ہوئے خوف نے سماجی تانے بانے کو شدید متاثر کیا ہے۔ شدت پسند گروہوں نے اپنے طریقہ کار میں تبدیلی لاتے ہوئے ہجوم کو بھڑکانے کے بعد قانونی اور انتظامی راہداریوں کے ذریعے ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کا طریقہ اپنا لیا ہے۔ اگست 2023ء میں پی ڈی ایم حکومت کے آخری دنوں میں محض ایک دن کے اندر 48 بل پاس کیے گئے، جن میں مذہبی قوانین میں ترمیم بھی شامل تھی۔ تاہم، ان قوانین کی سختی کا اثر اب خود اکثریت تک پھیلنے لگا ہے، جہاں چترال میں بل پیش کرنے والے رکنِ اسمبلی کا قریبی ساتھی ہی اسی ترمیم کی زد میں آ گیا۔ ہائی کورٹ کی جانب سے بھی ایف آئی اے اور بعض عناصر کے درمیان گٹھ جوڑ کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

تعزیراتِ ہند سے تعزیراتِ پاکستان تک: توہینِ مذہب کے قوانین کا ارتقا اور سیاسی و سماجی اثرات
پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین اور ان کے عمومی اطلاق کا موضوع دہائیوں سے سیاسی اور سماجی مباحث کا مرکز رہا ہے۔ 1860ء کے برطانوی نوآبادیاتی دور کے تعزیراتِ ہند سے شروع ہونے والا یہ قانونی سفر 1927ء میں شق 295-A اور پھر 1980ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے دور کی ترمیمات، بشمول 1986ء کی شق 295-C پر منتج ہوا۔ 1990ء میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے بعد اس شق کے تحت سزائے موت کو واحد اور لازمی سزا قرار دیا گیا۔ 2017ء کے الیکشن ایکٹ تنازع اور فیض آباد دھرنے کے واقعات نے یہ واضح کیا کہ مذہبی جذبات اور قانونی شقیں ملک کے سیاسی و انتظامی نظام کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔

تین دہائیوں میں کیسز کی تسلسل سے آمد اور سیاسی استعمال: توہین کے قوانین کی سختیاں اور بڑھتے سوالات
پاکستان میں توہین سے متعلق قوانین اور ان کے اطلاق کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔ سینٹر فار سوشل جسٹس (CSJ) کے اعداد و شمار کے مطابق 1980ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں تعزیراتِ پاکستان کی شق 295 کی توسیع کے بعد سے مقدمات میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سال 2023ء تک ہزاروں افراد پر الزامات عائد کیے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے جبکہ اقلیتی برادریاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ایک طرف جہاں ان قوانین کو ذاتی و سیاسی مخاصمتوں میں استعمال کرنے کے خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں، وہیں دوسری جانب پارلیمان نے سزاؤں میں مزید اضافے کا بل پاس کیا ہے، جس پر متعدد حلقوں کی جانب سے قانونی اور انسانی حقوق کے تحفظات اٹھائے جا رہے ہیں۔
کرک مندر پر حملے سے تاریخی واقعات تک: ذاتی تنازعات کو مذہبی رنگ دینے کا رجحان اور اقلیتوں کی بے بسی
خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں واقع شری پرمہنس جی مہاراج کے آستانے پر ہجوم کا حملہ اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کی ایک بڑی وجہ نجی تنازعات ہیں۔ دہائیوں کی قانونی جدوجہد اور 2015 میں سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد بحال ہونے والے اس مندر کو ایک توسیع پسندانہ ٹھیکے کے جھگڑے پر اشتعال انگیز نعروں کے ذریعے نذرِ آتش کر دیا گیا۔ آسیہ بی بی کیس، بادامی باغ لاہور اور جھنگ میں پولیس اور وکلاء کے تصادم جیسے واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ نجی مخاصمتوں کا حساب برابر کرنے کے لیے مذہب کو اکثر ایک آسان اور مہلک ہتھیار کے طور پر برتا جاتا ہے۔

پاکستان میں صحت کا بحران سنگین: روزانہ 675 نوزائیدہ بچے جان کی بازی ہارنے لگے، پی ایم اے کا ہیلتھ ایمرجنسی کا مطالبہ
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے ملک میں صحت کی زبوں حالی پر 'ہیلتھ آف دی نیشن 2026' رپورٹ جاری کرتے ہوئے قومی سطح پر ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں روزانہ 675 نوزائیدہ بچے اور 27 مائیں قابلِ علاج بیماریوں سے دم توڑ دیتی ہیں، جبکہ آلودہ پانی 40 فیصد سالانہ اموات کی وجہ بن رہا ہے۔ اس کے علاوہ، ایچ آئی وی کے کیسز میں 200 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور انسولین سمیت 80 ضروری ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ پی ایم اے نے صحت کا بجٹ جی ڈی پی کے کم از کم 3 فیصد تک بڑھانے، ادویات کی قیمتیں منجمد کرنے اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو قومی سلامتی کا معاملہ قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید تازہ خبریں
پاکستان میں ذیابیطس کے 30 سے 40 فیصد مریض ڈپریشن کا شکار: انڈس ہسپتال کے سیمینار میں طبی ماہرین کی تاکیدپاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی بڑی تعداد ذہنی مسائل اور اعصابی تناؤ کا شکار ہو رہی ہے، جبکہ ملک میں نفسیاتی معالجین کی شدید کمی حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ کراچی میں انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے تحت منعقدہ نشست میں طبی ماہرین نے انکشاف کیا کہ ذیابیطس سے متاثرہ افراد عام آبادی کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ ذیابیطس اور دیگر دائمی بیماریوں کی دیکھ بھال میں ذہنی صحت کو لازمی جزو کے طور پر شامل کیا جائے۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف یارک کے اشتراک سے شروع کیے گئے ایک تحقیقی پروگرام 'ڈایا ڈیم' کے تحت غیر ماہر طبی عملے کے ذریعے کونسلنگ تھراپی کے ذریعے مریضوں کے علاج میں نمایاں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔
موسمیاتی تباہ کاریوں کا وہ ان دیکھا پہلو جو خاموشی سے انسان کی نفسیاتی صحت کو نگل رہا ہےموسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے نتیجے میں ہونے والے معاشی نقصانات اور جسمانی بیماریوں پر تو بات کی جاتی ہے، لیکن اس کے باعث پیدا ہونے والے خاموش نفسیاتی بحران کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمٹ چینج (آئی پی سی سی) اور عالمی ادارہ صحت کی رپورٹیں تصدیق کرتی ہیں کہ سیلاب، قحط اور شدید گرمی انسانی ذہن پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ پاکستان میں 2010 اور 2022 کے ہولناک سیلابوں سے متاثر ہونے والے کروڑوں افراد تاحال نفسیاتی صدمات اور شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ ملک میں ذہنی صحت کے معالجین اور علاج گاہوں کی شدید قلت کے باعث یہ صورتحال ایک خاموش لیکن سنگین المیے کا روپ دھار چکی ہے۔
زہریلی ہوا اور پھیلتی بیماریاں: پاکستان میں صاف ستھری فضا کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات کیوں ضروری ہیں؟پاکستان میں ایک عام شخص روزانہ 20 ہزار سے زائد بار سانس لیتا ہے، لیکن کراچی، لاہور، فیصل آباد، حیدرآباد اور پشاور جیسے شہروں میں فضا میں موجود نظر نہ آنے والے زہریلے ذرات شہریوں کی صحت کو خاموشی سے تباہ کر رہے ہیں۔ فضائی آلودگی اور سردیوں کی سموگ اب محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین قومی صحت اور معاشی بحران بن چکی ہے۔ گاڑیوں کے زہریلے دھوئیں، صنعتی اخراج، اینٹوں کے بھٹوں اور کچرا جلانے کی وجہ سے ہوا میں خطرناک ذرات کی مقدار عالمی ادارہ صحت اور قومی معیارات سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایئر کوالٹی مانیٹرنگ، ٹرانسپورٹ میں اصلاحات اور کچرے کی تدفین کے جدید نظام کا ہنگامی قیام ناگزیر ہے۔
ٹک ٹاک تحائف اور لائیو سٹریمنگ: سوشل میڈیا کا وہ پوشیدہ راستہ جسے غیر قانونی سرمائے کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہےسوشل میڈیا پلیٹ فارمز خصوصاً ٹک ٹاک کا 'لائیو گفٹنگ' فیچر جہاں ایک طرف مواد تخلیق کرنے والوں کی آمدن کا ذریعہ بن رہا ہے، وہیں دوسری جانب یہ غیر قانونی رقم کو سفید کرنے اور مالیاتی ضوابط سے بچنے کی ایک غیر محسوس راہ فراہم کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں اربوں ڈالر کا یہ ڈیجیٹل تحائف کا نظام کسی روایتی بینکنگ کنٹرول کے بغیر کام کرتا ہے، جہاں چھوٹی چھوٹی رقموں کی شکل میں لاکھوں روپے ایک سے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں 50 ملین سے زائد سوشل میڈیا صارفین موجود ہیں، اینٹی منی لانڈرنگ کے پرانے قوانین اور پلیٹ فارمز کے مالیاتی ادارے نہ تسلیم کیے جانے کی وجہ سے اس 'مائیکرو لانڈرنگ' کا تدارک ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
فیصل آباد: بیرون ملک ملازمت کے نام پر لڑکیوں کو ورغلانے والا انسانی اسمگلنگ گینگ بے نقاب، مرکزی ملزم گرفتارایف آئی اے فیصل آباد زون نے تاندلیانوالہ میں ایک کارروائی کے دوران بیرون ملک پرکشش ملازمتوں کے بہانے پاکستانی لڑکیوں کو انسانی تسکر کا شکار بنانے والے منظم گینگ کے مرکزی ملزم اورنگزیب رانجھا کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گروہ لڑکیوں کو دبئی پہنچا کر ان کے پاسپورٹ اور سفری دستاویزات ضبط کر لیتا تھا اور انہیں زبردستی غیر قانونی کاموں پر مجبور کرتا تھا۔ آپریشن کے دوران متاثرہ لڑکیوں کے پاسپورٹ اور ڈیجیٹل شواہد برآمد کر کے ملزم کے خلاف پاسپورٹ ایکٹ اور پریوینشن آف ہیومن ٹریفکنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ پاکستان اور دبئی میں موجود دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
لاہور میں 'ہنی ٹریپ' گینگ بے نقاب: پولیس اہلکار ہی ماسٹر مائنڈ نکلا، دودھ فروش سے بھتہ وصولی پر مقدمہ درجلاہور کے علاقے شاہدرہ ٹاؤن میں پولیس نے 'ہنی ٹریپ' کے ذریعے شہریوں کو اغوا، بلیک میل اور بھتہ خوری میں ملوث ایک منظم گینگ کا پردہ چاک کر دیا ہے، جس کا سرغنہ خود ایک پولیس اہلکار منظر نکلے۔ اس گروہ نے شیخوپورہ کے ایک محنت کش دودھ فروش منظور احمد کو لڑکی کے ذریعے جھانسہ دے کر بلایا، تشدد کا نشانہ بنایا اور اس سے گاہکوں سے اکٹھی کی گئی 1 لاکھ 8 ہزار روپے کی رقم چھین لی۔ ایس پی سٹی ڈویژن بلال احمد کی ہدایت پر انکوائری کے بعد ملزم نائیک محرر کو گرفتار کر کے مقدمہ انویسٹی گیشن کے سپرد کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی ضمانت ہو چکی ہے۔
مظفر گڑھ میں ڈارک ویب کے ذریعے بچوں کے استحصال کا بین الاقوامی نیٹ ورک بے نقاب، 10 بچے بازیابمظفر گڑھ میں ایک فرضی گیمنگ کلب کی آڑ میں بچوں کے جنسی استحصال اور ان کی ویڈیوز ڈارک ویب پر فروخت کرنے والے بین الاقوامی نیٹ ورک کو سیکیورٹی اداروں نے ناکام بنا دیا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے امریکی ادارے این سی ایم ای سی کی فراہم کردہ معلومات پر پانچ گھنٹے طویل آپریشن کے بعد 10 بچوں کو بازیاب کروا کر دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ جرمن شہری سمیت چار دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ اس نیٹ ورک نے 6 سے 10 سال کی عمر کے نادار بچوں کو رقم کا لالچ دے کر بلیک میل کیا۔ واقعے کے بعد پنجاب کابینہ نے پہلی باقاعدہ 'چائلڈ پروٹیکشن پالیسی' کی منظوری دے دی ہے۔
کچے کے ڈاکوؤں کا 'ڈیجیٹل راج': ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پر ہیرو کا روپ، زمین پر خوف اور اغوا کا سلسلہپنجاب، سندھ اور بلوچستان کے سرحدی کچے کے علاقوں میں سرگرم ڈاکوؤں نے اب اپنے روایتی طریقہ واردات کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کو بھی ہتھیار بنا لیا ہے۔ 10 ملین روپے کے انعام اور 28 مقدمات میں مطلوب شاہد لنڈ بلوچ جیسے مجرمان ٹک ٹاک، فیس بک اور یوٹیوب پر خود کو مظلوم اور ہیرو کے طور پر پیش کر کے ہزاروں فالوورز سمیٹ رہے ہیں۔ دوسری جانب ہنی ٹریپ، ڈکیتی اور تاوان کے لیے اغوا جیسے جرائم نے مقامی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ سیکیورٹی اداروں کے لیے دشوار گزار جغرافیہ کے ساتھ ساتھ ان ڈاکوؤں کا ڈیجیٹل وجود ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے۔
مقامی حکومتوں کی بااختیاری کے بغیر بیوروکریسی میں اصلاحات ناممکن کیوں؟پاکستان میں انتظامی اصلاحات اور بیوروکریسی کی بہتری کے لیے دہائیوں سے مسلسل دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم عوام تک بنیادی سہولیات کی فراہمی کا بحران جوں کا توں ہے۔ اس ناکامی کی بنیادی وجہ طاقت اور اختیارات کا مرکز میں جمع رہنا ہے۔ جب تک مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ، مالیاتی خودمختاری اور انتظامی اختیارات فراہم نہیں کیے جاتے، تب تک سول سروس میں کسی بھی نوعیت کی اصلاحات نچلی سطح پر مثبت تبدیلی نہیں لا سکتیں۔ ایوب خان اور پرویز مشرف کے ادوار کی مقامی حکومتوں کی مثالوں سے لے کر بھارت، برازیل اور جرمنی کے عالمی ماڈلز تک، تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پائیدار حکمرانی کا راستہ صرف بلدیاتی اداروں کی بحالی اور مظبوطی سے ہو کر گزرتا ہے۔

