لاہور میں شدید گرمی اور حبس کا زور تھا اور آم کے درخت پر پپیہے کے جوڑے کا گھونسلا بارش کے بعد بکھر رہا تھا، جب ہمالیہ کے سرسبز میدانوں اور قدرتی جھیلوں کی صدا نے سفر پر روانہ ہونے کا اشارہ دیا۔ ہمالیہ کا یہ عظیم الشان پہاڑی سلسلہ مغرب میں افغانستان سے لے کر مشرق میں میانمار تک پھیلا ہوا ہے، جس میں ماؤنٹ ایورسٹ اور نانگا پربت سمیت 8 ہزار میٹر سے بلند کئی چوٹیاں شامل ہیں۔ بالاکوٹ پہنچے تو وادیِ کاغان میں دریائے کنہار پر دھند کی چادر تنی تھی اور لولوسر جھیل صبح کے وقت سیاحوں سے خالی ویران نظر آ رہی تھی۔ بابوسر پاس عبور کرتے ہی سردی کی شدت میں اضافہ ہوا، چلاس کی گرمی اور سڑک کی دھول سے گزر کر دوپہر کے وقت رائے کوٹ برج پہنچے جہاں سے جیپ کے ذریعے تتّو گاؤں اور پھر تین گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد فیری میڈوز کا سبزہ زار سامنے آیا۔
نانگا پربت کا سایہ اور فیری میڈوز کا قاری
8,126 میٹر بلند نانگا پربت کے سامنے رات کے اندھیرے میں فیری میڈوز کاجل جیسا سیاہ دکھائی دے رہا تھا۔ یہاں فیری میڈوز کاٹیجز کے مالک قاری رحمت سے ملاقات ہوئی، جنہوں نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز بیان کیے۔ وہ ماضی میں ایک مدرسے میں 1,200 روپے ماہانہ پر پڑھاتے تھے، مگر مہمان نوازی کے اخراجات کی وجہ سے ان کے پاس کچھ نہ بچتا۔ نوکری چھوڑنے کے بعد ایک سال بے روزگار رہے، پھر 1992ء میں گلگت میں ایک شخص کے مشورے پر 800 روپے کی رقم کے ساتھ فیری میڈوز کی شاملاٹ زمین پر پتھر رکھ کر جگہ کی نشان دہی کی اور جنگل کی لکڑی سے ہوٹل بنایا۔ شروع کے پانچ سال تو کوئی مقامی سیاح نہ آیا لیکن آج ان کا ہوٹل ہر سیزن میں مکمل بک رہتا ہے۔
اسی دامن میں 1953ء میں آسٹریا کے کوہ پیما ہرمن بُہل نے پہلی بار نانگا پربت سر کیا تھا، جبکہ اس سے قبل یہ سرکش پہاڑ 31 کوہ پیماؤں کی جانیں لے چکا تھا۔ بُہل نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ آخری چڑھائی کے دوران انہیں محسوس ہوا کہ کوئی نادیدہ وجود ان کے پیچھے ہے اور رسی اپنے آپ ٹوٹ گئی تھی۔ اس پہاڑ نے جرمن کوہ پیما رائن ہولڈ میسنر کے بھائی سمیت کئی مہم جوؤں کو اپنے آغوش میں سلا رکھا ہے۔
مینیمرگ کے کھلتے پھول اور دیوسائی کی پراسرار خاموشی
فیری میڈوز سے رخصت ہو کر شاہراہِ ریشم کے راستے استور کا سفر شروع ہوا۔ 120,000 کی آبادی پر مشتمل ضلع استور چشموں، ندی نالوں اور جھیلوں کی سرزمین ہے۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ فارس سے آنے والے غازی مکپون نے سکردو کے شاہی خاندان میں شادی کی تھی اور ان کی اولاد نے سکردو، استور، روندو اور کھرمُنگ پر طویل عرصے حکومت کی، جس کے بعد یہ علاقہ ڈوگرا راج کے زیرِ نگیں چلا گیا۔ استور کے بازار سے جیپ تبدیل کر کے چلم چوکی میں اندراج کروایا اور مینیمرگ کی طرف بڑھے، جہاں لکڑی کے مکانات، جستی چھتیں اور رنگ برنگے جنگلی پھول سیاحوں کا استقبال کرتے ہیں۔ یہاں سے ڈومیل کی رینبو لیک پہنچے تو مارموٹ (پہاڑی گلہری) کی سیٹیوں نے فضا میں موسیقی گھول دی۔
اس کے بعد سفر دیوسائی کے وسیع و عریض میدانوں اور شیوسر جھیل کی طرف مڑا۔ دیوسائی کا لفظ ’دیو‘ یعنی دیو قامت اور ’سائی‘ یعنی سائے کا مجموعہ ہے۔ شدید سردی اور منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے والے درجہ حرارت کی وجہ سے یہاں مستقل رہائش ناممکن ہے۔ یہ خاموش میدان بھورے ریچھ، سرخ لومڑی اور سنہری عقاب کا مسکن ہے۔ پنجاب کے میدانی علاقوں سے آنے والے چرواہے اپنے مویشیوں کے ساتھ انہی میدانوں سے گزر کر سکردو اور استور جاتے ہیں اور سفر کے دوران فوت ہو جانے والے چرواہوں کی قبریں انہی ویرانوں میں بکھری پڑی ہیں۔
کرن سیکٹر کی للکار اور رتی گلی کا نیلا پانی
سلسلہِ ہمالیہ کا گلگت بلتستان کا حصہ ختم ہوا تو کشمیر کی سب سے بڑی جھیل 'رتی گلی' کا سفر شروع ہوا۔ مظفرآباد شہر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف یومِ سیاہ کی وجہ سے مکمل بند اور ویران تھا۔ وادیِ نیلم کے کرن سیکٹر کی ملٹری چیک پوسٹ پر فوجی اہلکار نے دو دن قبل ہونے والی فائرنگ اور چار شہادتوں کا حوالہ دیتے ہوئے آگے جانے سے روکا، لیکن جنونِ سفر کے سامنے رکاوٹیں نہ ٹھہر سکیں۔
دوڑیاں سے سنگلاخ راستے پر ڈھائی گھنٹے جیپ کے سفر کے بعد رتی گلی کا بیس کیمپ آیا، جو خیموں کا ایک شہر بن چکا تھا۔ وہاں سے ڈھائی کلومیٹر کی عمودی اور کٹھن چڑھائی کے بعد جب رتی گلی جھیل کا گہرا نیلا پانی اور شام کی سنہری شعاعیں سامنے آئیں تو تمام تھکن کافور ہو گئی۔ اس نیلی جھیل کے کنارے سبز مخملی گھاس پر سجدہ ریز ہو کر خالقِ حقیقی کا شکر ادا کیا۔ لاہور واپسی پر جب کھڑکی کھولی تو آم کا درخت اداس تھا اور پرندوں کا جوڑا جا چکا تھا، مگر ایک سیاح کے لیے سفر کی یادیں اور نئے راستوں کی تلاش ہی اصل اثاثہ ہوتی ہے۔





تبصرے