دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے محض کاروباری ڈھانچے ہی نہیں بلکہ حکومتوں کے کام کرنے کے روایتی طریقوں کو بھی تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ تکنیکی دوڑ کے اس جدید دور میں پاکستان ایک ایسے اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں کم وسائل کے باوجود جدید ٹیکنالوجی کا بروقت استعمال ملک کی معاشی اور انتظامی صورتحال میں بہتری کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان آبادی ہے، جہاں ملک کی اوسط عمر تقریباً 22 سال ریکارڈ کی گئی ہے۔ آن لائن تعلیمی ذرائع اور جامعات میں مشین لرننگ کے بدلتے نصاب کے باعث نوجوانوں میں ڈیجیٹل صلاحیتیں بیدار ہو رہی ہیں۔ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور خاص طور پر جرمنی کی درمیانے اور چھوٹے درجے کی کاروباری فرمیں پاکستان کی اس افرادی قوت اور آپریشنل لاگت میں بچت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے تحقیق اور ترقی (R&D) میں شراکت داری کی خواہاں ہیں۔ ایک وسیع مقامی مارکیٹ کی موجودگی بیرونِ ملک کمپنیوں کو اپنے نئے اے آئی ماڈلز کی آزمائش کے لیے بھی سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔
حکمرانی میں بہتری اور بنیادی شعبوں میں امکانات
پاکستان میں طویل عرصے سے سست روی، کاغذ پر مبنی بیوروکریسی اور پیچیدہ دفتری کارروائیوں کو عوامی سروسز کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی الگورتھمز انتظامی کارروائیوں میں انسانی مداخلت کو محدود کر کے شفافیت اور رفتار دونوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
صحت، تعلیم اور زراعت کے شعبوں میں اس کے دور رس نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، دور دراز دیہی علاقوں میں ماہر ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کے بحران کو اے آئی سے لیس تشخیصی ٹیکنالوجی کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے، جبکہ زرعی شعبے میں فصلوں کی حالت کا درست تجزیہ پیداوار بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈیجیٹل تقسیم اور پالیسی سازی کے چیلنجز
ان تمام تر مثبت امکانات کے باوجود، یہ تاثر درست نہیں کہ ٹیکنالوجی کا فائدہ خود بخود تمام طبقات تک پہنچ جائے گا۔ پاکستان میں شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان انٹرنیٹ کی رسائی اور معیاری تعلیم کا گہرا تفاوت موجود ہے۔ اگر اس ڈیجیٹل تقسیم کو وقت پر پر نہ کیا گیا تو اے آئی کی ثمرات محض چند بڑے شہروں یا مخصوص طبقات تک محدود رہیں گے۔ علاوہ ازیں، شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کی حفاظت، رازداری اور اخلاقی ضوابط کے بغیر اس جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نئے خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے اصل امتحان محض بین الاقوامی سطح پر تیار شدہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا نہیں، بلکہ اسے اپنے مقامی مسائل کے حل کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اس مقصد کے لیے جامعات، سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے درمیان مربوط تعاون، بنیادی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور نوجوانوں کو محض صارف بنانے کے بجائے جدید حل تخلیق کرنے کی صلاحیت فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ عالمی اے آئی معیشت میں پاکستان کا مقام اس بات پر منحصر ہوگا کہ ریاست تکنیکی ترقی کو اپنی پالیسی سازی کی ترجیح کس حد تک بناتی ہے۔





تبصرے