عالمی سطح پر ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور ایندھن کے متبادل ذرائع کی طرف منتقل ہونے کے رجحان نے لیتھیم کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں، سمارٹ فونز، لیپ ٹاپس اور گرین انرجی اسٹوریج میں بنیادی عنصر کی حیثیت رکھنے والی لیتھیم آئن بیٹریاں کم وزن ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے اور بار بار چارج ہونے کی بہترین صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی عالمی پس منظر کے باعث پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں تانبے اور سونے کے بعد اب لیتھیم کے ذخائر کی تلاش پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
جیولوجیکل سرویز اور محکمہ مائنز اینڈ منرلز بلوچستان کے مطابق صوبے کے مغربی اضلاع بالخصوص چاغی، واشک، نوشکی اور ایران کی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں لیتھیم کی موجودگی کی نشان دہی ہوئی ہے۔ ان تمام علاقوں میں سب سے زیادہ اہم 'ہامونِ ماشکیل' کو سمجھا جا رہا ہے، جو چاغی اور واشک کے اضلاع پر محیط ایک وسیع نمکیاتی میدان ہے اور جہاں لیتھیم سے بھرپور نمکیاتی پانی (brine) کے قوی امکانات موجود ہیں۔
محکمہ مائنز کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں سلوشن ائینز کی دریافت کے بعد مقامی اور چینی کمپنیوں کو ایکسپلوریشن (تلاش) کے لائسنس جاری کر دیے گئے ہیں۔ تاہم فی الوقت لیبارٹریز میں دریافت شدہ نمونوں کے معیار کی جانچ کی جا رہی ہے اور ابھی تک سرکاری طور پر ان ذخائر کی حتمی مقدار (ٹن یا ملین ٹن میں) متعین نہیں کی گئی، نہ ہی باقاعدہ پیداواری عمل کا آغاز ہوا ہے۔
اس کے علاوہ، بلوچستان کے دیگر اضلاع جیسے واشک، پشین، قلعہ عبداللہ، برشور اور ژوب تک ایک اور اہم کیمیائی عنصر 'انٹی منی' (Antimony) کے بھی بڑے ذخائر ملے ہیں جن کے لیے مقامی کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔ قانون کے مطابق چھوٹے پیمانے کی مائننگ کمپنیوں کے لیے مقامی افراد کی شراکت داری لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ بڑی اور غیر ملکی کمپنیوں کو اس شرط سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
ڈرلنگ سائٹ کا واقعہ اور عسکریت پسندوں کے مطالبات
لیتھیم کی اس ممکنہ دریافت کے ساتھ ہی علاقے میں سیکورٹی چیلنجز بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ گذشتہ دنوں کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ماشکیل کے علاقے میں لیتھیم کی تلاش کے ایک پروجیکٹ کی سائٹ کا کنٹرول حاصل کرنے اور وہاں موجود چار ڈرلنگ مشینوں سمیت پانچ گاڑیوں کو نظرِ آتش کرنے کا دعویٰ کیا۔ تنظیم کے مطابق کارروائی کے دوران زیرِ حراست لیے گئے کمپنی کے اہلکاروں کو سخت تنبیہ کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔
بی ایل اے نے اپنے بیانات میں لیتھیم کو اکیسویں صدی کی تکنیکی اور معاشی دوڑ میں ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت اس سٹریٹیجک اثاثے کو غیر ملکی کمپنیوں کے ہاتھوں نیلام کر رہی ہے۔ تنظیم کے ترجمان جیئند بلوچ نے عالمی اور علاقائی کان کنی کمپنیوں اور سرمائہ کاروں کو تنبیہ کی کہ وہ بلوچستان میں کسی قسم کے معاہدوں سے باز رہیں۔
حکومتی ردِعمل اور قدرتی وسائل کی حفاظت کا عزم
دوسری جانب حکومتی اور سیکیورٹی حکام نے کالعدم تنظیم کے دعووں کو مکمل طور پر گمراہ کن اور حقیقت سے بعید قرار دیا ہے۔ معاونِ وزیرِ داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بی ایل اے کا یہ بیانیہ کہ صوبے میں معدنیات نکالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، محض بے بنیاد پروپیگنڈا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم اپنے عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں اور نقصانات کو چھپانے کے لیے اس قسم کے بیانات کے ذریعے بوکھلاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے، جبکہ بلوچستان کے عوام ایسی انتہا پسندانہ پالیسیوں کو مسترد کر چکے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور سیکیورٹی فورسز بلوچستان کے تمام قدرتی وسائل اور وہاں کام کرنے والے اداروں کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر سنجیدہ ہیں، اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری اور خصوصی سیکیورٹی اقدامات یقینی بنائے جا رہے ہیں۔





تبصرے