مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی عالمی کمپنی اینتھروپک نے اپنی اب تک کی سب سے تفصیلی تھریٹ انٹیلیجنس رپورٹ جاری کی ہے، جس میں یہ چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ کس طرح مختلف گروہوں اور تکنیکی ماہرین نے کمپنی کے پیش کردہ اے آئی ماڈل 'کلاڈ' اور کوڈنگ معاون 'کلاڈ کوڈ' کو مہلک ہتھیاروں کی ڈیزائننگ، گائیڈنس سسٹمز، اور بین الاقوامی سیاسی اثرورسوخ کی مہمات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ اینتھروپک کا کہنا ہے کہ اس کی سکیورٹی ٹیموں نے ان تمام سرگرمیوں کا بروقت سراغ لگا کر متعلقہ اکاؤنٹس کو بند کر دیا ہے اور حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں اپنے فلٹرز اور حفاظتی نظام کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ وضاحت میں بتایا گیا ہے کہ نومبر 2025 میں اشائع ہونے والی سابقہ رپورٹ کے بعد سے تھریٹ انٹیلیجنس ٹیموں نے چھ انتہائی پیچیدہ کیسز کا گہرا تجزیہ کیا، جن کا مقصد جدید تکنیکی ہتھیاروں کے سافٹ ویئر، ڈرون سسٹمز اور انٹیلیجنس کی جمع آوری میں کلاڈ سے فائدے حاصل کرنا تھا۔ ان کیسز میں سے تین کا تعلق چین، دو کا روس اور ایک کا یمن سے تھا۔ ان کارروائیوں میں ملوث افراد کلاڈ کوڈ جیسے ماہر پروگرامنگ اسسٹنٹ کو مختلف سیشنز میں تقسیم کر کے اور اپنا اصل مقصد چھپا کر استعمال کر رہے تھے تاکہ سکیورٹی الرٹس کو دھوکہ دیا جا سکے۔
روایتی ہتھیار، گائیڈڈ میزائل اور خودکار ڈرون سوارم
اینتھروپک کی رپورٹ میں پہلی بار ان انکشافات کو شامل کیا گیا ہے جن میں روایتی اور جدید ترین عسکری ہارڈویئر کے لیے اے آئی کی مدد لی جا رہی تھی۔ یمن کے شمالی علاقے میں سرگرم ایک گروہ نے گائیڈڈ راکٹ اور میزائل پروگرام کے لیے گائیڈنس، نیویگیشن اور کنٹرول (GNC) سافٹ ویئر کی تیاری کے لیے انسانی انجینئرز کی جگہ کلاڈ کوڈ کا سہارا لیا۔ اگرچہ اینتھروپک کے حفاظتی فائر والز نے متعدد درخواستوں کو بلاک کیا، لیکن اس گروہ نے ایک گائیڈڈ راکٹ کا تجرباتی فائر بھی کیا جو ناکام رہا۔ بعد ازاں اس ناکامی کی تکنیکی وجوہات اور خامیوں کی نشاندہی کے لیے دوبارہ کلاڈ کے ذریعے ہی ڈیبگنگ کی کوشش کی گئی۔
روس کے حوالے سے سامنے آنے والے کیس میں ایک فری لانس ماہرین کی ٹیم شامل تھی جو 'DronDoc' یا 'Serafim' کے نام سے خودکار فرسٹ پرسن ویو (FPV) کامیکازی ڈرونز کا ایک ایسا نیٹ ورک یا 'سوارم' تیار کر رہی تھی جو بغیر کسی انسانی مداخلت کے کام کر سکے۔ اس گروہ نے کلاڈ کوڈ کو ڈرونز کے آپسی رابطے، مشترکہ ڈیجیٹل میموری، ہدف کی شناخت اور چپس کی پروگرامنگ کے لیے استعمال کیا۔ خوفناک بات یہ تھی کہ اس سسٹم میں انسانی ہدف کو بھی خودکار طریقے سے شناخت کر کے اس پر حملے کی اجازت شامل کی گئی تھی۔ اس ٹیم نے یوکرین جنگ کی ویڈیوز سے کمپیوٹر وژن ماڈل کو تربیت دی، اور یوکرین کے ڈونیتسک علاقے کی ایک جگہ کو فرضی حملے کا ہدف بنا کر تجربات کیے۔ جغرافیائی پابندیوں سے بچنے کے لیے ان عناصر نے کمرشل ورچوئل پرائیویٹ سرورز (VPS) کا استعمال کیا تھا، تاہم مئی 2026 میں باقاعدہ کام کا آغاز کرنے والے اس منصوبے کے تمام 9 اکاؤنٹس کو اینتھروپک نے کارروائی کرتے ہوئے بند کر دیا۔
چین اور امارات سے منسلک اثرورسوخ کے مہمات
چین سے منسلک ایک گروہ نے زیرِ آب جنگی نظام کے تحت اینٹی ٹارپیڈو فائر کنٹرول سسٹم کے لیے کلاڈ کی مدد حاصل کی۔ ان عناصر نے 200 سے زائد صفحات پر مشتمل تکنیکی تجویز، چینی زبان میں بریفنگز اور فائر کنٹرول سافٹ ویئر کی منطق تیار کروائی تاکہ پیپلز لبریشن آرمی نیوی کے لیے منصوبے کی منظوری کا عمل تیز کیا جا سکے۔ وہ کلاڈ کو ایک سخت گیر ماہر کا کردار دے کر اپنے ڈیزائن کی خامیاں دور کرتے رہے، اور روایتی انسانی ریویو کے طویل عمل کو انتہائی مختصر کر دیا۔
سفارتی اور سیاسی محاذ پر اینتھروپک نے متحدہ عرب امارات کے سرکاری عہدیداروں سے اعلیٰ درجے کے اعتماد کے ساتھ منسلک ایک منظم مہم کو بے نقاب کیا۔ 'ڈیڈ شاٹ' نامی ایک اے آئی پرسنلٹی کے ذریعے چلنے والے اس آپریشن میں اخوان المسلمون، سوڈان تنازع، اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62ویں اجلاس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔ اس مہم میں سوئٹزرلینڈ کی ایک حقیقی این جی او کے نام سے ملتی جلتی جعلی تنظیم بنائی گئی، 300 سے زائد جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا نیٹ ورک چلایا گیا، اور یورپی پارلیمنٹ کے 18 ارکان کے علاوہ سوڈان میں اماراتی کردار پر تنقید کرنے والے اقوام متحدہ کے نمائندوں کی تفصیلی پروفائلنگ فائلوں کو کلاڈ کی مدد سے مرتب کیا گیا۔
اینتھروپک کا کہنا ہے کہ ان تمام کیسز سے حاصل ہونے والے تجربات کی روشنی میں نئے الگورتھم اور کلاسیفائرز تیار کر لیے گئے ہیں جو ہتھیاروں کی ساخت، بم بنانے، سمیولیشن اور جعلی بیانیے گھڑنے سے متعلق مواد کا فوری سراغ لگا لیتے ہیں۔ کمپنی نے ان میں سے اہم معلومات عالمی سکیورٹی اداروں اور دیگر اے آئی کمپنیوں کے ساتھ بھی شیئر کی ہیں تاکہ ابھرتے ہوئے خطرات کا مجموعی طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔





تبصرے