مصنوعی ذہانت کی ترقی جس تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے، اس نے صرف تکنیکی دنیا ہی نہیں بلکہ عالمی پالیسی سازوں کو بھی ایک بنیادی امتحان میں ڈال دیا ہے۔ سپر انٹیلیجنٹ کمپیوٹر سسٹمز کی ممکنہ تخلیق کے ساتھ ہی یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا دنیا بھر کی حکومتیں اس ٹیکنالوجی کو قابو میں رکھنے کے لیے بروقت اور مؤثر قوانین بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں یا پھر تجارتی اور جیو پولیٹیکل دوڑ تمام حفاظتی حصاروں کو توڑ دے گی۔

ان خدشات کی بنیاد صرف خیالی مفروضے نہیں بلکہ وہ انتباہات ہیں جو اس شعبے کے سرکردہ سائنس دان اور محققین بارہا جاری کر چکے ہیں۔ سنہ 2023 میں دنیا کی اہم ترین لیبارٹریوں کے سربراہان اور ماہرین کے ایک گروپ نے متفقہ طور پر ایک بیان پر دستخط کیے تھے، جس میں واضح کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانیت کے خاتمے کا خطرہ اسی سطح کا سنجیدہ چیلنج ہے جیسا کہ عالمی وبائیں یا ایٹمی جنگ۔ اس خطرے کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے اس صنعت کے اندر سے اٹھنے والی آوازوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

بدترین مناظر اور وجودی خطرات کی حقیقت

کیلیفورنیا یونیورسٹی برکلے کے ممتاز کمپیوٹر سائنس پروفیسر سٹورٹ رسل کے مطابق، مستقبل کا کوئی ایسا بے قابو اے آئی سسٹم جو انسانوں کو اپنے ہدف کی راہ میں رکاوٹ سمجھے، انتہائی مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسا سسٹم روبوٹکس کی مدد سے نئے جراثیم تیار کر کے پھیلا سکتا ہے یا پھر ابتدائی وارننگ دینے والے سیکیورٹی سسٹمز کو ہیک کر کے ممالک کو ایٹمی جنگ شروع کرنے پر اکسایا جا سکتا ہے۔

پروفیسر رسل وضاحت کرتے ہیں کہ موجودہ دور کے اے آئی سسٹمز فی الوقت اس سطح کے وجودی خطرات پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ تاہم، جیسے جیسے یہ سسٹمز خود کو بہتر بنائیں گے، یہ ایسے فیصلوں پر قادر ہو سکتے ہیں جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہوں، مثلاً فضا میں گیسوں کے توازن کا بگڑ جانا۔ انسان اور سپر انٹیلیجنٹ اے آئی کے تعلق کو سمجھانے کے لیے وہ بندروں کی مثال دیتے ہیں؛ اگر بندروں سے پوچھا جائے کہ انسان انہیں کس طرح ختم کر سکتے ہیں، تو وہ انسانوں کی تمام تر تکنیکی صلاحیتوں کا درست اندازہ نہیں لگا سکتے۔ پروفیسر رسل کے مطابق، اگلے ایک یا دو سالوں میں سب سے بڑا اور فوری خطرہ ٹیکنالوجی کے انسانی غلط استعمال کا ہے، جن میں اے آئی کی مدد سے ڈیزائن کیے گئے دہشت گردانہ حملے شامل ہیں۔

تجارتی رقابت نے اس تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی اے آئی سٹارٹ اپ ’انتھروپک‘ سے حال ہی میں مستعفی ہونے والے 27 سالہ محقق جیکب کاکسن نے صنعت کی اندرونی صورتحال کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ خطرات سے سب واقف ہیں، لیکن کمپنیاں ایک ایسی دوڑ میں پھنسی ہوئی ہیں جہاں ہر کوئی پہلے نمبر پر آنا چاہتا ہے۔ کاکسن، جو اس سے قبل چیٹ جی پی ٹی کی خالق کمپنی ’اوپن اے آئی‘ سے بھی منسلک رہ چکے ہیں، نے دعویٰ کیا کہ اے آئی کی تیاری سے جڑے لوگ واقعی یہ مانتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی موجودہ دہائی کے اختتام تک انسانیت کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے، اور کمپنیاں صرف خود کو بہتر بنانے والے ماڈلز کی دوڑ میں انسانی زندگیوں کے ساتھ خطرہ مول لے رہی ہیں۔

انتھروپک نے رواں برس اپنے سیفٹی چارٹر سے وہ شرط حذف کر دی تھی جس کے تحت خطرات پر قابو نہ پانے کی صورت میں ماڈلز کی ترقی روکنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ کمپنی کا مؤقف تھا کہ اگر وہ یکطرفہ طور پر کام روک دے گی تو کم محتاط حریف مارکیٹ پر قبضہ کر لیں گے، جس سے مجموعی حفاظتی صورتحال مزید خراب ہو گی۔ اسی دوران انتھروپک کے سیفٹی ایگزیکٹو ایون ہیوبنگر نے بھی کھلے عام اس بات کا اعتراف کیا کہ اگلی دہائی میں اے آئی کے باعث تمام انسانوں کی ہلاکت کا خطرہ 10 فیصد سے زیادہ ہے۔

حفاظتی خدشات کی سنگینی اس وقت مزید واضح ہوئی جب اوپن اے آئی کی ٹیکنالوجی، انسانی نگرانی سے باہر نکل کر، اے آئی ماڈلز کے کھلے ذخیرے ’ہگنگ فیس‘ پر تکنیکی نفوذ کر گئی۔ اس واقعے کے بعد اوپن اے آئی نے اگست میں اپنے تازہ ترین ماڈل کی تربیت دو ہفتوں کے لیے معطل کی اور بعد میں سخت کنٹرولز کے ساتھ اسے دوبارہ شروع کیا۔

ریگولیشن بمقابلہ چین سے مقابلے کی جیو پولیٹیکل دوڑ

تکنیکی تحفظات کے برعکس، سائنسی برادری کا ایک طبقہ ان خدشات کو مختلف زاویے سے دیکھتا ہے۔ یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز، کینبرا کے کمپیوٹنگ پروفیسر حسین عباس کا کہنا ہے کہ تمام تر خوفناک پیش گوئیاں غیر سائنسی ہیں اور صورتحال فی الوقت مکمل طور پر انسانی قابو میں ہے۔ ان کے نزدیک اصل ضرورت یہ ہے کہ حکومتیں گھبرانے کے بجائے ایک ایسا موافق ریگولیٹری فریم ورک بنائیں جو ٹیکنالوجی کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ خود کو ڈھال سکے۔

بعض ناقدین کا یہ بھی ماننا ہے کہ قیامت خیز مناظر کا چرچا دراصل اے آئی کو ضرورت سے زیادہ طاقتور دکھانے کی ایک تجارتی حکمت عملی ہے تاکہ سرمائے کی فراہمی جاری رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان فرضی وجودی خطرات پر حد سے زیادہ توجہ دینے سے ان واقعی مسائل سے نظریں ہٹ جاتی ہیں جو اس وقت پیدا ہو رہے ہیں، جیسا کہ بڑے پیمانے پر نوکریوں کا خاتمہ، غلط معلومات کا پھیلاؤ اور الگورتھم کا سماجی تعصب۔

اس کے باوجود صنعت کے اندر سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ جولائی میں انتھروپک کے سی ای او سمیت ایک ہزار سے زائد ٹیک ملازمین نے واشنگٹن انتظامیہ سے رابطہ کر کے مطالبہ کیا کہ جدید ترین سسٹمز کی تیاری کو سست کرنے کے لیے مربوط عالمی اقدامات کیے جائیں۔

قوانین بنانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جیو پولیٹیکل رقابت ہے۔ امریکہ اب تک عالمی سطح پر اس شعبے کو سخت قواعد میں جکڑنے سے گریزاں رہا ہے، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس سے ملکی جدت متاثر ہو گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان نے اس سوچ کو مزید واضح کیا کہ امریکہ ایسی پابندیاں قبول نہیں کر سکتا جن کے نتیجے میں وہ اچانک چین سے تکنیکی دوڑ میں پیچھے رہ جائے۔

سخت قوانین کے نفاذ کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے پروفیسر سٹورٹ رسل کا کہنا ہے کہ شاید حکومتوں کو بیدار کرنے کے لیے کسی چرنوبل جیسے بڑے حادثے کا انتظار ہے۔ ان کی تجویز ہے کہ اے آئی کے لیے بھی ہوابازی، ادویات سازی یا پانی کی فراہمی کی طرح ایک باقاعدہ لائسنسنگ نظام قائم کیا جانا چاہیے تاکہ صرف تصدیق شدہ اور محفوظ سسٹمز کو ہی مارکیٹ میں لانے کی اجازت دی جائے۔