سات برس قبل جب فیصل آباد کی رہائشی عرینہ نے اپنے والد کے ساتھ پہلی بار موٹر سائیکل سیکھنا شروع کی تو ایک موڑ پر توازن بگڑنے کی وجہ سے وہ سڑک پر جا گریں۔ خوف اور جھجھک کے زیرِ اثر انہوں نے والد سے صاف کہہ دیا کہ وہ اب یہ نہیں سیکھنا چاہتیں۔ مگر والد کے ایک جملے نے ان کی سوچ بدل دی: "جو کام شروع کرو، اسے پورا کرو۔"

آج سات سال گزرنے کے بعد عرینہ نہ صرف خود الیکٹرک سکوٹی پر کالج، یونیورسٹی اور نوکری پر آسانی سے آمد و رفت کرتی ہیں بلکہ انہوں نے اپنی چھوٹی بہن سمیت متعدد دیگر لڑکیوں کو بھی سواری سکھائی ہے۔ عرینہ بتاتی ہیں کہ جب انہوں نے شروعات کی تھی تو سڑکوں پر کوئی ایک آدھ خاتون ہی بائیک چلاتی نظر آتی تھی، مگر اب یہ منظر بالکل بدل چکا ہے اور درجنوں لڑکیاں روزانہ سکوٹی پر اپنے سفر پر نکلتی ہیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں یہ تبدیلی صرف ایک حادثاتی رجحان نہیں بلکہ ایک گہرے معاشی اور سماجی انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔ موٹر سائیکل ڈیٹا ریسرچ کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ مہینوں میں الیکٹرک سکوٹیز کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماضی میں الیکٹرک سکوٹرز پاکستان میں باآسانی دستیاب نہیں تھے اور انہیں بیرونِ ملک سے برآمد کرنا پڑتا تھا، مگر اب مقامی مارکیٹ میں تقریباً 47 مختلف برانڈز کی الیکٹرک سکوٹیز فروخت ہو رہی ہیں۔

اس رجحان کو فروغ دینے میں حکومتِ پاکستان کی قومی حکمتِ عملی 'پاکستان ایکسلریٹڈ وہیکل الیکٹریفیکیشن' (PAVE) پالیسی کا بنیادی کردار ہے۔ اس پالیسی کا مقصد کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ ملک میں برقی گاڑیوں کی طرف منتقلی کو تیز کرنا تھا۔ اس سکیم کے تحت الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور آٹو رکشوں کی خریداری پر 20 فیصد تک سبسڈی دی گئی، جبکہ باقی رقم کی ادائیگی کے لیے بلا سود فنانسنگ کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ اس اقدام سے نہ صرف مینوفیکچررز کی حوصلہ افزائی ہوئی بلکہ عام صارف کے لیے بھی الیکٹرک سواری خریدنا ممکن ہو گیا۔

پیٹرول کے خرچ سے نجات اور معاشی خود مختاری

ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے دور میں الیکٹرک سکوٹی خواتین کے لیے ایک معاشی ڈھال ثابت ہو رہی ہے۔ لاہور کی رہائشی رابعہ کے مطابق انہیں ان کے شوہر نے سکوٹی چلانا سکھائی کیونکہ بیٹے کے سکول کے لیے وینڈر یا رکشہ خاصا مہنگا اور غیر یقینی پڑتا تھا۔

سکوٹی کی آمد نے رابعہ کو نہ صرف بچے کو لانے اور لے جانے کی سہولت دی بلکہ انہوں نے بچوں کے کپڑوں کے برانڈ کا اپنا ذاتی کاروبار بھی شروع کر دیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ دکانوں کے چکر لگانے سے لے کر گھر کے سودا سلف تک، وہ ہر کام کے لیے سکوٹی استعمال کرتی ہیں۔ زیادہ تر خواتین کا کہنا ہے کہ چونکہ سکوٹی کو بجلی سے چارج کیا جاتا ہے اور اب اکثر گھروں میں سولر سسٹم موجود ہیں، اس لیے یہ سواری ان کے لیے عملاً مفت ثابت ہوتی ہے۔

کالج اور سکول جانے والی طالبات آمنہ اور عائشہ کے لیے یہ سواری ان کی تعلیمی زندگی میں آسانی لائی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ کالج میں دیگر لڑکیوں کو سکوٹی پر آتے دیکھ کر ان کا اپنا اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔

فیصل آباد کی ایک کم عمر طالبہ عائشہ کی کہانی اس خودمختاری کا ایک اور رخ دکھاتی ہے۔ ان کے گھر میں کوئی مرد موجود نہیں ہے اور وہ اپنی والدہ اور تین بڑی بہنوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ پہلے ان کی والدہ کو گھر کے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے محلے کے بچوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ عائشہ نے جب الیکٹرک سکوٹی خریدی تو اب وہ گھر کے تمام بیرونی کاموں کے ساتھ ساتھ اپنے سکول بھی خود جاتی ہیں۔

سڑکوں پر رویے اور عوامی جگہوں کی بحالی

جہاں الیکٹرک سکوٹی نے خواتین کی زندگیوں میں آسانی پیدا کی ہے، وہیں سڑکوں پر انہیں اب بھی گوناگوں چیلنجز کا سامنا ہے۔ لاہور کی رہائشی آصفہ کے مطابق سڑک پر چلتے ہوئے اکثر مرد بائیک سوار خواتین کو مڑ کر ضرور دیکھتے ہیں اور بعض اوقات یہ کوشش کی جاتی ہے کہ کوئی لڑکی ان سے آگے نہ نکلے۔

سڑکوں پر ڈرائیونگ سے متعلق سماجی رویوں پر بات کرتے ہوئے ہمنا کہتی ہیں کہ اکثر سوسائٹی میں یہ الزام عائد کر دیا جاتا ہے کہ عورتیں گاڑی یا سکوٹی خراب چلاتی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اشاروں پر سب سے زیادہ بے صبری کا مظاہرہ مرد ڈرائیور کرتے ہیں جو اکثر ریڈ سگنل کے باوجود موٹر سائیکلوں کو فٹ پاتھ پر چڑھا دیتے ہیں۔

اسی طرح عائشہ بتاتی ہیں کہ دورانِ سفر بعض اوقات منچلے ان کا پیچھا کرتے ہیں یا نامناسب جملے کستے ہیں، لیکن ان کے ساتھ ساتھ بعض بزرگ اور اچھے لوگ حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں اور "شاباش بیٹا" کہہ کر ان کی ہمت بڑھاتے ہیں۔

سڑکوں کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی ان خواتین کو اکثر ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس حوالے سے فرح کا کہنا ہے کہ جب بھی خواتین کی سواری کی ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی ہیں تو لوگ ویمن امپاورمنٹ پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کے مطابق جس معاشرے میں عورت پر پابندیاں ہوں، وہاں سڑکوں پر آزادانہ اور محفوظ سفر کی اجازت ملنا ہی سب سے بڑی بااختیاری ہے۔

ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے پنجاب کے مختلف شہروں میں خواتین سکوٹی سوار متحد ہو رہی ہیں۔ وہ باقاعدگی سے ٹریفک پولیس کے طے کردہ روٹس پر ریلیاں نکالتی ہیں اور میٹ اینڈ گریٹ پروگرامز منعقد کرتی ہیں۔ ان ریلیوں کے منتظمین کا ماننا ہے کہ ایسی سرگرمیاں نئی بائیک چلانے والی لڑکیوں کا حوصلہ بڑھاتی ہیں اور انہیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ سڑکیں جتنی مردوں کی ہیں، اتنی ہی خواتین کی بھی ہیں۔