قیامِ پاکستان کے وقت گلگت بلتستان کے غیور عوام نے ڈوگرہ راج کے خلاف خود جدوجہد کر کے اس خطے کو آزاد کرایا اور اپنی مرضی سے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔ آزاد کشمیر کے برعکس، جہاں مقامی سطح کی سیاسی جماعتوں کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا، گلگت بلتستان کے لوگوں نے قومی دھارے کی مرکزی سیاسی جماعتوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ان کی توقع یہ تھی کہ اس الحاق سے آئینی شمولیت اور بااختیار مقامی حکومت کی راہ ہموار ہوگی، لیکن وقت کے ساتھ یہ سیاسی تجربہ وفاقی جماعتوں کی ترجیحات اور انتخابی مفادات تک محدود ہو کر رہ گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف نے مختلف ادوار میں گلگت بلتستان پر حکومت کی، لیکن کسی بھی جماعت نے اس کے آئینی حیثیت کے معاملے کو نظریاتی یکسوئی کے ساتھ حل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ انتخابات کے نزدیک آتے ہی تمام جماعتیں صوبائی حیثیت، خود مختاری اور اصلاحات کے دلفریب وعدے کرتی ہیں، لیکن اسلام آباد میں اقتدار سنبھالتے ہی یہ بیانیے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ اس آئینی ابہام کو برقرار رکھنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس سے مرکزی انتظامیہ کو بغیر کسی مکمل آئینی ذمہ داری کے، خطے کے بنیادی امور اور وسائل پر مکمل اختیار حاصل رہتا ہے۔

وفاقی احکامات، وعدے اور اختیارات کی کشمکش

پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں 2009ء کا 'گلگت بلتستان بااختیار و خودمختاری آرڈر' جاری کیا گیا، جس نے نمائندہ اداروں کی بنیاد تو رکھی لیکن حتمی فیصلے کرنے کی صلاحیت اسلام آباد کے پاس ہی رہی۔ اس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر تو توجہ دی، لیکن آئینی طور پر عوام کو بااختیار بنانے سے گریزان رہی۔ سرتاج عزیز کمیٹی کی رپورٹ نے، جس میں گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق دینے کی سفارش کی گئی تھی اور جس نے بعد میں 2019ء کے سپریم کورٹ کے اہم فیصلے کی بنیاد رکھی، مسلم لیگ (ن) کو شش و پنج میں ڈال دیا۔ چنانچہ 2018ء کے صدارتی آرڈر میں نہ صرف ان سفارشات کی روح کو متاثر کیا گیا بلکہ 2009ء کے آرڈر کے تحت دیے گئے بعض اختیارات بھی واپس لے لیے گئے۔

بعد ازاں، پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے سے قبل عبوری صوبے کے حوالے سے بڑی توقعات وابستہ کیں، لیکن جب آئینی پیش رفت کا وقت آیا تو حکومت نے بنیادی طور پر اسی محتاط اور محدود 2018ء کے فریم ورک کو ہی جاری رکھنے پر اکتفا کیا۔ ان تمام وفاقی جماعتوں کا بنیادی مقصد وفاقی اثر و رسوخ قائم رکھنا، مقامی اشرافیہ کے ذریعے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا اور آئینی تصفیے کو التوا میں رکھنا رہا ہے۔

مقامی سیاست کی تقسیم اور بیوروکریٹک کنٹرول

اس طرزِ حکمرانی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وفاقی سیاست کی دھڑے بندی اس پہاڑی اور سماجی طور پر حساس خطے میں منتقل ہو چکی ہے۔ مقامی قیادت اکثر عوامی جدوجہد کے بجائے اسلام آباد کے سیاسی مراکز اور وفاقی مراعات کے ذریعے ابھرتی ہے۔ الیکشن محض ریاستی مراعات اور سڑکوں، ٹھیکوں یا تبادلوں کے حصول کا ذریعہ بن چکے ہیں، جبکہ آئینی حقوق، مالیاتی خودمختاری اور طویل المدتی ترقی جیسے اہم موضوعات پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔

مزید برآں، الیکشن جیتنے کے لیے وفاقی جماعتوں نے علاقائی اور فریقانہ تقسیم کا سہارا بھی لیا، جس سے ایک مشترکہ مقامی سیاسی مؤقف کی تشکیل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی اور اقتدار کے کھیل نے ایک ایسا نظام قائم کر دیا ہے جہاں عوام ووٹ دے کر حکومت تو بناتے ہیں لیکن حتمی فیصلے اور تقرریاں غیر واضح بیوروکریٹک عمل کا حصہ بنی رہتی ہیں۔

نوجوان نسل کی بیداری اور نیا سیاسی شعور

اس تمام تر سیاسی جمود کے باوجود گلگت بلتستان میں ایک خاموش مگر نمایاں تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ خطے کی نئی نسل جو پہلے سے زیادہ تعلیم یافتہ، آلاتِ مواصلات سے آراستہ اور سیاسی طور پر بیدار ہے، اس نمائشی اور بے اختیار نظام کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہ نسل صرف علامتی نمائندگی کے بجائے مکمل آئینی حقوق اور فیصلہ سازی میں حقیقی شرکت کی خواہش مند ہے۔

کسی بھی خطے کو مستقل ابہام اور بیرونی کنٹرول پر نہیں چلایا جا سکتا۔ اگر اب بھی گلگت بلتستان کو آئینی طور پر پاکستان کا باقاعدہ حصہ بنانے اور وہاں کے اداروں کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانے میں تاخیر کی گئی، تو یہ جمود جلد ہی ایک منظم اور توانا سیاسی مطالبے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔