مظفر گڑھ کے ایک نام نہاد گیمنگ کلب میں تفریح کے بہانے بچوں کو بلا کر ان کے استحصال اور ویڈیو ریکارڈنگ کے ایک سنگین معاملے کا انکشاف ہوا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران ڈارک ویب پر بچوں کی نازیبا ویڈیوز فروخت کرنے والے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کو مسمار کرتے ہوئے 10 بچوں کو بازیاب کرا لیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور ڈی جی این سی سی آئی اے ڈاکٹر وقار الدین سید نے اس بین الاقوامی گینگ کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفاصیل جاری کیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی امریکہ میں قائم نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلائٹڈ چلڈرن (این سی ایم ای سی) کی خفیہ معلومات پر کی گئی۔ پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے اس آپریشن کے دوران محمد جنید اور محمد عرفان نامی دو ملزمان کو موقع سے گرفتار کیا گیا، جنہیں مقامی عدالت نے 11 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ تاہم اس نیٹ ورک کا مرکزی سرغنہ ایک جرمن شہری رائنز اینڈریاس بتایا جاتا ہے جس کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کی مدد لی جا رہی ہے، جبکہ چک نمبر 143/ایم ایل کے تین مقامی رہائشیوں عدنان، عرفان اور اسماعیل کو اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے۔
گیمنگ کلب کی آڑ میں سٹوڈیو اور ڈارک ویب کا استعمال
تحقیقات کے مطابق اس نیٹ ورک نے مظفر گڑھ میں ایک فرضی گیمنگ مرکز بنا رکھا تھا جہاں سٹوڈیو کوالٹی کے کیمرے اور لائیو سٹریمنگ کی جدید سہولیات نصب کی گئی تھیں۔ ملزمان غریب اور مستحق خاندانوں کے 6 سے 10 برس کے بچوں کو ابتدا میں چھوٹی رقم کا لالچ دے کر بلاتے اور بعد میں انہیں بلیک میل کر کے غیر قانونی افعال پر مجبور کرتے۔ ان بچوں کی تیار کردہ ویڈیوز ڈارک ویب پر 100 سے 500 ڈالر فی ویڈیو کے حساب سے فروخت کی جاتی تھیں، جبکہ اس مواد کی ابتدائی منتقلی کے لیے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام جیسی انکرپٹڈ ایپس کا سہارا بھی لیا جاتا رہا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس نیٹ ورک سے کم از کم 50 بچوں کے متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے اور تحقیقات کے دوران بعض بچوں کے اہل خانہ کی جانب سے بھی سہولت کاری کے شواہد ملے ہیں جن کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کر دی گئی ہے۔ گرفتار ملزمان سے برآمد ہونے والے دو موبائل فونز سے سو کے قریب ویڈیوز اور دیگر شواہد حاصل کیے گئے ہیں۔ ڈی جی این سی سی آئی اے نے اس کامیابی کو پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا بڑا اور منظم بریک تھرو قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی کارروائی اور پنجاب کی نئی پالیسی
دستیاب ریکارڈ کے مطابق جرمن شہری رائنز اینڈریاس رواں سال 7 اپریل کو پاکستان آیا تھا اور 28 اپریل کو واپسی سے قبل ملزم جنید کی رہائش گاہ اور ملتان کے ایک ہوٹل میں مقیم رہا۔ پاکستانی حکام اس وقت جرمن انتظامیہ اور انٹرپول کے ساتھ مل کر اس کی گرفتاری کے لیے متحرک ہیں۔ دوسری جانب بازیاب کرائے گئے 10 بچوں میں سے 6 کو بحالی کے عمل کے لیے چائلڈ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
اس واقعے کے فوری بعد پنجاب کابینہ نے صوبے کی پہلی باقاعدہ 'چائلڈ پروٹیکشن پالیسی' کی منظوری دے دی ہے، جسے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو (سی پی ڈبلیو بی) نے یونیسف پاکستان کی فنی معاونت سے تیار کیا ہے۔ سی پی ڈبلیو بی کی چیئرپرسن سارہ احمد کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کی منظوری سے بچوں کے خلاف تشدد، استحصال اور غفلت کے خاتمے میں مدد ملے گی اور معاشرے میں ان کے تحفظ اور حقوق کو قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ فراہم کیا جا سکے گا۔





تبصرے