پاکستان میں ایک عام انسان روزانہ 20 ہزار سے زائد بار سانس لیتا ہے، لیکن کراچی، لاہور، فیصل آباد، حیدرآباد اور پشاور جیسے بڑے شہروں میں لیا جانے والا ہر سانس اب صحت کے لیے خاموش زہر بن چکا ہے۔ فضائی آلودگی اب محض ماحولیات سے جڑا کوئی نظریاتی بحث کا موضوع نہیں رہی بلکہ ایک ایسا عذاب بن چکی ہے جو روزمرہ کی زندگی پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
عالمی جائزوں میں پاکستان کا شمار مسلسل ان ممالک میں ہوتا آ رہا ہے جہاں ہوا کی کیفیت شدید خراب ہے۔ شہروں میں خطرناک فائن پارٹیکیولیٹ میٹر (PM2.5) کی مقدار قومی ماحولیاتی معیار (NEQS) اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کی مقررہ حدوں سے اکثر اوقات کہیں اوپر چلی جاتی ہے۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی پنجاب اور سندھ کے متعدد علاقوں میں چھانے والی سموگ نہ صرف نظر کی حد کو کم کر کے ٹرانسپورٹ کے نظام کو درہم برہم کرتی ہے، بلکہ سانس اور پھیپھڑوں کے مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافے کی وجہ سے ہسپتالوں اور طبی ڈھانچے پر شدید دباؤ ڈالتی ہے۔
جسے اکثر لوگ محض 'دھند' سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، وہ اصل میں زہریلی گیسوں اور باریک ذرات کا ایک مہلک آمیزہ ہے جو خون اور پھیپھڑوں کی گہرائی تک سرایت کر جاتا ہے۔ اس آلودگی کی بنیادی وجوہات سب کے سامنے ہیں۔ پرانے انجنوں سے نکلنے والا دھواں، ایندھن کا ناقص معیار، صنعتی اخراج، اینٹوں کے بھٹے، کچرے کو کھلی جگہوں پر جلانا، تعمیراتی گرد و غبار اور فصلوں کی باقیات کو آگ لگانا فضا کو مسلسل آلودہ کر رہے ہیں۔ کراچی اور حیدرآباد جیسے تیزی سے پھیلتے شہری علاقوں میں بے ہنگم ٹریفک اور غیر منظم صنعتوں نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں کھانا پکانے کے لیے ٹھوس ایندھن کا استعمال اور کھلے عام آگ لگانے کے واقعات ہوائی معیار کو مزید متاثر کرتے ہیں۔
سندھ میں ماحولیاتی مانیٹرنگ کے شعبے کے عملی تجربات یہ بتاتے ہیں کہ فضائی آلودگی کی سنگینی کا اندازہ اس وقت تک نہیں لگایا جاتا جب تک کہ اس کے تباہ کن اثرات شہریوں کی صحت پر واضح نہ ہو جائیں۔ اعداد و شمار کی موجودگی کے باوجود عوامی آگاہی کی کمی اور مقامی سطح پر معلومات تک محدود رسائی کی وجہ سے فیصلہ سازی کے عمل میں رکاوٹیں آتی ہیں۔ سائنسی تحقیق اور اعداد و شمار کو پالیسی سازی سے جوڑنا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ماحولیاتی مانیٹرنگ کا بنیادی کام۔
صحت اور معیشت پر زہریلی ہوا کے اثرات
فضائی آلودگی کے طبی نتائج انتہائی تشویشناک ہیں۔ طویل عرصے تک آلودہ فضا میں سانس لینے سے دمہ، پھیپھڑوں کے دائمی امراض (COPD)، دل کی بیماریوں، فالج اور وقت سے پہلے موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ان حالات کا سب سے زیادہ شکار بچے اور بزرگ افراد بنتے ہیں۔ آلودگی کی شدت کے دنوں میں ہسپتالوں کی ایمرجنسیز میں سانس کی تکلیف کے مریضوں کا ہجوم بڑھ جاتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف صحت تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ماحولیاتی تبدیلی اور قومی ترقی سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ 'بلیک کاربن' جیسے آلودہ عناصر جہاں بیماریاں پھیلا رہے ہیں، وہیں یہ ماحولیاتی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بھی بنتے ہیں۔ معاشی اعتبار سے دیکھا جائے تو طبی اخراجات، کاریگروں اور مزدوروں کی بیمار ہونے سے پیداوری صلاحیت میں کمی، سکولوں سے بچوں کی غیر حاضری اور قدرتی ماحول کو پہنچنے والا نقصان ملکی معیشت پر بھاری بوجھ ڈال رہے ہیں۔ صاف ہوا کی فراہمی کوئی تعیش نہیں بلکہ پائیدار معاشی ترقی کی بنیادی شرط ہے۔
اصلاحات کا روڈ میپ اور فوری اقدامات
حالیہ کچھ عرصے میں ماحولیاتی اداروں، تحقیقاتی مراکز اور سول سوسائٹی نے مانیٹرنگ کی بہتری اور صاف ستھری ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، لیکن قوانین پر عمل درآمد کی کمی، اداروں میں باہمی ربط کا فقدان اور پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونے کے باعث نتائج محدود رہے ہیں۔ پالیسیوں کو عملی شکل دینے کے لیے مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے اور احتساب کے نظام کی ضرورت ہے۔
اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک منظم حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ہوا کے معیار کی نگرانی (ایئر کوالٹی مانیٹرنگ) کے نیٹ ورک کو وسعت دینا ہو گی تاکہ درست ڈیٹا پالیسی سازی کے کام آ سکے۔ دوسرے مرحلے میں، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں اصلاحات، معیاری ایندھن کا استعمال، الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ تیسرا قدم صنعتوں سے نکلنے والے دھوئیں پر سخت پابندی اور گرین ٹیکنالوجی اپنانے والی صنعتوں کو مراعات دینا ہے۔
چوتھا اور اہم ترین قدم کچرا تلف کرنے کے نظام کی درستگی ہے۔ بلدیاتی کچرے کو کھلی جگہوں پر جلانے کا عمل ایک ایسا زہریلا عمل ہے جسے فوری طور پر روکا جا سکتا ہے۔ کچرے کی مناسب جمع آوری، ری سائیکلنگ اور محفوظ تدفین کے نظام میں سرمایہ کاری سے جہاں آلودگی میں کمی آئے گی، وہیں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
عوامی آگاہی اس ساری تبدیلی کی بنیاد ہے۔ شہریوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ ان کے روزمرہ کے فیصلے فضا کے معیار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ کچرا نہ جلانے سے لے کر پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال اور شجرکاری مہمات تک، ہر انفرادی اور اجتماعی قدم کی اہمیت ہے۔ پاکستان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم آج اپنی فضا کو صاف بنانے کے لیے کیا فیصلے کرتے ہیں، کیونکہ صاف ہوا ہر شہری کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔





تبصرے