دنیا میں شمسی اور ہوائی بجلی کی تنصیب تیزی سے بڑھ رہی ہے، مگر کئی ممالک کے بجلی کے نظام اس اضافی پیداوار کو جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ چین، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان میں قابلِ تجدید توانائی کا ایک بڑا حصہ گرڈ کی محدود صلاحیت کے باعث استعمال نہیں ہوپارہا، جس نے توانائی کی منتقلی کے سامنے ایک نیا سوال کھڑا کردیا ہے۔
دنیا بھر میں شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ یہ تبدیلی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور کوئلے، تیل اور گیس پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کا اہم حصہ ہے۔ لیکن صاف توانائی کی اس تیز رفتار توسیع نے اب بجلی کے نظام کے لیے ایک نیا مسئلہ پیدا کردیا ہے: کئی جگہوں پر بجلی بنانے کی صلاحیت گرڈ کی اسے استعمال کرنے کی صلاحیت سے آگے نکل رہی ہے۔
ایسی صورت میں سورج سے بجلی بن رہی ہوتی ہے، ہوا کے ٹربائن چل رہے ہوتے ہیں، لیکن بجلی کا نیٹ ورک اس اضافی پیداوار کو صارفین تک پہنچانے سے قاصر ہوتا ہے۔ نتیجتاً کچھ بجلی پیدا ہی نہیں کی جاتی یا گرڈ اسے قبول نہیں کرتا۔ توانائی کے شعبے میں اسے Curtailment کہا جاتا ہے، یعنی دستیاب بجلی کو گرڈ کی مجبوری کے باعث روک دینا۔
چین اس مسئلے کی سب سے بڑی مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ گلوبل انرجی مانیٹر اور سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کے تخمینے کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے دوران چین نے تقریباً 360 ٹیرا واٹ گھنٹے صاف بجلی استعمال سے باہر رکھی۔ یہ مقدار میکسیکو کی تقریباً ایک سال کی بجلی کی ضرورت کے برابر بتائی گئی ہے۔ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں یہ اضافہ تقریباً 49 فیصد تھا۔
تاہم چین کے سرکاری اعداد و شمار اس سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن کے مطابق سال کے پہلے چھ ماہ میں شمسی بجلی کی تقریباً 8.6 فیصد اور ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کی 9.1 فیصد پیداوار گرڈ میں استعمال نہیں ہوسکی۔ مختلف اعداد و شمار اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ قابلِ تجدید بجلی کے ضیاع کی درست پیمائش خود ایک پیچیدہ معاملہ بنتی جارہی ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ بجلی پیدا نہیں ہورہی، بلکہ یہ ہے کہ اسے وہاں تک پہنچانے کے لیے مناسب نظام موجود نہیں۔ چین میں شمسی اور ہوائی بجلی کے بڑے منصوبے اکثر ایسے علاقوں میں قائم ہیں جہاں زمین اور قدرتی وسائل وافر ہیں، جبکہ بجلی کی بڑی طلب ملک کے دوسرے حصوں میں ہے۔ اگر ٹرانسمیشن لائنیں اتنی بڑی مقدار میں بجلی ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک نہ لے جاسکیں تو اضافی پیداوار کا فائدہ محدود ہوجاتا ہے۔
اس کے ساتھ بجلی کے روایتی نظام کی اپنی مشکلات بھی ہیں۔ گرڈ کو بعض اوقات کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کو بھی فعال رکھنا پڑتا ہے تاکہ نظام مستحکم رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک ہی وقت میں سولر اور ونڈ سے ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا ہو تو گرڈ کے پاس اس اضافی بجلی کو قبول کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔
یہ مسئلہ صرف چین تک محدود نہیں۔ آسٹریلیا میں 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ہوا اور شمسی بجلی کی تقریباً 2.93 ٹیرا واٹ گھنٹے پیداوار گرڈ کی محدودیت کے باعث استعمال نہیں ہوسکی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 37 فیصد زیادہ تھی۔ جاپان میں اسی عرصے کے دوران تقریباً 2.35 ٹیرا واٹ گھنٹے قابلِ تجدید بجلی گرڈ میں شامل نہیں کی جاسکی۔ بھارت میں اپریل سے جون کے دوران تقریباً 8.13 ٹیرا واٹ گھنٹے شمسی بجلی کو گرڈ میں شامل نہیں کیا گیا، جو اس مدت کی شمسی پیداوار کا تقریباً 14 فیصد تھا۔
اس صورتحال نے صاف توانائی میں سرمایہ کاری کے لیے بھی ایک نیا سوال پیدا کردیا ہے۔ اگر کسی سولر یا ونڈ منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی کا ایک بڑا حصہ صارفین تک پہنچ ہی نہ سکے تو اس منصوبے کی معاشی کشش کم ہوجاتی ہے۔ اب کسی منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف اس بات پر نہیں کہ وہاں دھوپ کتنی ہے یا ہوا کتنی چلتی ہے، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ گرڈ اس بجلی کو کب اور کہاں استعمال کرسکتا ہے۔
اسی وجہ سے بیٹری اسٹوریج کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ Solar-plus-storage ماڈل میں سولر پینلز کے ساتھ بیٹریاں نصب کی جاتی ہیں تاکہ دن کے وقت پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو محفوظ کیا جاسکے اور ضرورت کے وقت استعمال میں لایا جاسکے۔ اس طرح گرڈ پر اضافی دباؤ بھی کم ہوتا ہے اور شام یا رات کے وقت، جب شمسی پیداوار ختم ہوجاتی ہے، ذخیرہ شدہ بجلی کام آسکتی ہے۔
چلی اس حوالے سے ایک قابلِ ذکر مثال ہے۔ وہاں 2025 میں تقریباً 4 گیگا واٹ گھنٹے بیٹری اسٹوریج شامل کیا گیا، جس سے ملک کی موجودہ اسٹوریج صلاحیت دگنی سے زیادہ ہوگئی۔ نئی بیٹریوں کا بڑا حصہ سولر پلانٹس کے ساتھ نصب کیا گیا تاکہ دن کے وقت پیدا ہونے والی اضافی بجلی ضائع ہونے کے بجائے بعد میں استعمال ہوسکے۔
لیکن صرف بیٹریاں مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ بڑے پیمانے پر قابلِ تجدید توانائی کو نظام میں شامل کرنے کے لیے نئی ٹرانسمیشن لائنیں، جدید گرڈ، بہتر بجلی ذخیرہ کرنے کے نظام اور طلب کو منظم کرنے کے طریقے بھی درکار ہوں گے۔ یعنی توانائی کی منتقلی کا اگلا مرحلہ صرف مزید سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز لگانا نہیں بلکہ پورے بجلی کے نظام کو تبدیل کرنا ہے۔
یہ معاملہ پاکستان کے لیے بھی اہم ہے۔ ملک میں شمسی توانائی تیزی سے پھیل رہی ہے اور مستقبل میں قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت بھی موجود ہے۔ لیکن اگر پیداوار میں اضافے کے ساتھ ٹرانسمیشن، اسٹوریج اور گرڈ کی صلاحیت نہ بڑھی تو سستی صاف بجلی پیدا ہونے کے باوجود اسے مکمل طور پر استعمال کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
پاکستان کے لیے سبق یہ ہے کہ شمسی انقلاب کو صرف سولر پینلز کی تعداد سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ اگر بجلی کو پیدا کرنے کے بعد منتقل اور ذخیرہ کرنے کا نظام موجود نہ ہو تو نئی پیداوار خود گرڈ کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے۔
دنیا نے بڑے پیمانے پر سولر اور ونڈ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ اس بجلی کو ضائع ہونے سے کیسے بچایا جائے۔ مستقبل کا توانائی کا نظام صرف زیادہ بجلی پیدا کرنے والا نظام نہیں ہوگا بلکہ ایسا نظام ہوگا جو ضرورت کے وقت صحیح مقدار میں بجلی پیدا کرے، اسے محفوظ رکھے اور وہاں پہنچائے جہاں اس کی ضرورت ہے۔
صاف توانائی کی کامیابی کا اگلا مرحلہ شاید یہی ہے: بجلی بنانا کافی نہیں، اسے سنبھالنا بھی آنا چاہیے۔





تبصرے