پاکستان کی سیاسی تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ غیر منتخب عناصر کے اقتدار پر قبضے اور عوام کی جمہوری مزاحمت کی ایک مسلسل داستان نظر آتی ہے۔ ملک میں جب بھی جمہوریت کو طاقت کے بل بوتے پر دبانے کی کوشش کی گئی، عوامی حمایت سے جڑی جمہوری قوتوں نے آمریت کو چیلنج کیا۔ تاہم یہ المیہ ہمیشہ برقرار رہا کہ جمہوری قوتوں کی کامیابی عارضی ثابت ہوئی اور کچھ عرصے بعد غیر آئینی طاقتوں نے دوبارہ اپنا کھویا ہوا اقتدار حاصل کر لیا۔

مارچ 1969 میں ایوب خان نے راولپنڈی جی ایچ کیو کے آڈیٹوریم میں سینئر افسران سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ کہیں نہیں جا رہے، لیکن ملک گیر عوامی احتجاج کے سامنے وہ چند دنوں کے اندر ہی اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ 1965 کے غیر مستقیم صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کی مبینہ دھاندلی کے ذریعے شکست اور اس کے بعد کے حالات نے بالخصوص مشرقی پاکستان میں شدید بے چینی پیدا کر دی تھی۔ شیخ مجیب الرحمن، جو الیکشن مہم کے دوران فاطمہ جناح کے ساتھ رہے، اس نتیجے پر پہنچے کہ جب قائد اعظم کی ہمشیرہ کو عوامی حمایت کے باوجود جیتنے نہیں دیا گیا تو مشرقی پاکستان کے حقوق کا تحفظ مروجہ اصولوں کے تحت ممکن نہیں۔ ایوب خان کے استعفے کے بعد جنرل یحییٰ خان نے مارشل لا نافذ کر دیا اور ون یونٹ کے خاتمے کے ساتھ 1970 میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔

انتخابات، 1971 کا سانحہ اور ضیا الحق کا دور

1970 کے انتخابات کو ملک کے منصفانہ ترین انتخابات میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن یہ فیصلہ خفیہ ایجنسیوں کی اس رپورٹ کی بنیاد پر کیا گیا تھا کہ کوئی بھی پارٹی اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی اور ایک کمزور مخلوط حکومت قائم ہوگی۔ نتائج اس کے برعکس نکلے۔ شیخ مجیب کی عوامی لیگ نے 300 میں سے 160 نشستیں حاصل کیں اور سات مخصوص نشستوں کے ساتھ واضح اکثریت حاصل کر لی، جبکہ ذولفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں 81 نشستیں جیتیں۔ عوامی منشور کو تسلیم نہ کرنے کے نتیجے میں بجلی کی طرح تیزی سے پھیلنے والے بحران نے بالآخر 1971 کے سانحے جنم دیا۔ شکست کے بعد یحییٰ خان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا اور ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی، آئین سازی کی اور ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا۔

1977 کے انتخابات کے بعد پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کی تحریک شروع ہوئی۔ پی این اے کے مذاکرات کار پروفیسر غفور احمد نے بعد میں انکشاف کیا کہ دونوں فریقین کے درمیان دو درجن متنازع نشستوں پر دوبارہ انتخابات کا معاہدہ طے پا چکا تھا، مگر دستخط سے قبل ہی جنرل ضیاء الحق نے شب خون مار کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ نودن میں الیکشن کرانے کا وعدہ کرنے والے ضیاء الحق، بھٹو کی عوامی مقبولیت کو دیکھ کر گھبرا گئے اور عدالت عالیہ کے ذریعے 'نظریہ ضرورت' کے تحت اپنے اقدام کو جائز قرار دلوایا۔ ججوں پر دباؤ ڈال کر ذوالفقار علی بھٹو کی عدالتی ہلاکت کو ممکن بنایا گیا، جس کا اعتراف بعد میں جسٹس نسیم حسن شاہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بھی کیا۔

ایم آر ڈی تحریک اور جدید جمہوری جدوجہد

جنرل ضیاء کے مظالم کے خلاف 1983 میں بالخصوص دیہی سندھ میں ایم آر ڈی (تحریک بحالیِ جمہوریت) کی صورت میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا۔ اس تحریک کے دباؤ میں ضیاء الحق نے 1984 میں متنازع ریفرنڈم اور 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کرائے، جبکہ آٹھویں ترمیم کے ذریعے وزرائے اعظم کو برطرف کرنے کا اختیار حاصل کر لیا۔ ضیاء الحق کی فضائی حادثے میں ہلاکت کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو 35 سال کی عمر میں مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں، لیکن ان کی حکومت اور بعد میں آنے والی نواز شریف کی حکومتوں کو یکے بعد دیگرے برطرف کیا گیا۔

1999 میں جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کے بعد بھی نو سال تک جمہوری عمل معطل رہا، مگر وکلاء تحریک اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں جمہوریت کی دوبارہ واپسی ہوئی۔ مشرف کے بعد آنے والی دو منتخب پارلیمانوں نے اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کی، جو پاکستانی جمہوریت کی پائیداری کا واضح ثبوت ہے۔ تمام تر چیلنجز، نگران سیٹ اپ اور غیر جمہوری مداخلتوں کے باوجود، پاکستان کے سیاسی سفر کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ عوامی جمہوریت کا پودا تمام تر طوفانوں کے باوجود آج بھی قائم و دائم ہے۔