پاکستان میں 18 ویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو زیادہ مالی وسائل اور انتظامی اختیارات دینے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اقتدار اور تصمیم سازی بالآخر بلدیاتی حکومتوں کے ذریعے عام شہریوں کے قریب تر ہو سکے۔ تاہم اس تاریخی قدم کے 16 برس بعد عالمی بینک کی نئی رپورٹ "اسٹرینگتھننگ فسکل فیڈرلزم ان پاکستان" یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ اگرچہ آئینی فریم ورک اپنی جگہ درست ہے، مگر اس کا عملی نفاذ انتہائی غیر مؤثر اور ادھورا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت مسلسل خسارے کا شکار ہے کیونکہ صوبوں کو مالی وسائل کی منتقلی میں اضافہ تو کر دیا گیا، لیکن نہ تو وفاقی اخراجات میں اسی تناسب سے کمی کی گئی اور نہ ہی ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب بڑھایا جا سکا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وفاق اب بھی ان شعبوں پر بھاری رقم خرچ کر رہا ہے جو صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں، جس سے نہ صرف وسائل کا دہرائو ہو رہا ہے بلکہ مالیاتی نظم و ضبط بھی متاثر ہوا ہے۔ دوسری جانب، صوبوں نے بھی اپنے ٹیکسوں کی وصولی کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ این ایف سی کے ذریعے اضافی فنڈز ملنے کے بعد صوبائی حکومتوں نے عوامی خدمات کا معیار بہتر بنانے کے بجائے یہ پیسہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور بیوروکریسی کا سائز بڑھانے پر لگا دیا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ صوبائی بجٹ کا چار پانچویں سے زائد یعنی 80 فیصد سے زیادہ حصہ جاری اخراجات میں چلا جاتا ہے، جس سے ترقیاتی کاموں کے لیے بہت کم گنجائش بچتی ہے۔
اختیارات کی منتقلی کا ناکام انتظامی ماڈل
اس تمام صورتحال کا سب سے منفی اثر بلدیاتی حکومتوں پر پڑا ہے جو مسلسل معاشی اور سیاسی طور پر کمزور ہوئی ہیں۔ صوبائی حکومتیں تو سویلین سیاسی اقتدار کے اہم مرکز کے طور پر ابھریں، لیکن ان کی تمام تر ترجیحات عوامی سروس ڈیلیوری کے بجائے سیاسی بقا تک محدود رہیں۔ صوبوں نے اپنے انتظامی ڈھانچے کو تو وسعت دی، مگر مقامی حکومتوں کو فنڈز اور اختیارات سے محروم رکھا۔ رپورٹ یہ بھی نشاندہی کرتی ہے کہ صوبوں کو فنڈز کی تقسیم اب بھی پرانے روایتی طریقوں پر ہو رہی ہے، نہ کہ موجودہ ادوار کی غربت کی شرح یا سروسز کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر۔
تاہم ان تمام خامیوں کو اختیارات کی منتقلی کے فلسفے کی ناکامی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ رپورٹ کے مطابق یہ خامیاں صوبائی سطح پر ناقص حکمرانی اور انتظامی عدم بہتری کا نتیجہ ہیں۔ عالمی بینک نے سفارش کی ہے کہ صوبوں کو اپنے مالیاتی محاصل میں خود مختاری لانا ہوگی، وفاق کو اپنے اخراجات کو محدود کرنا پڑے گا، این ایف سی فارمولے کی اصلاح اور باقاعدگی سے ایوارڈز کا انعقاد یقینی بنانا ہوگا، اور بلدیاتی اداروں کو مستقل مالیاتی فنڈز دے کر بااختیار بنانا پڑے گا۔ جب تک نچلی سطح پر جوابدہی اور بلدیاتی نظام مضبوط نہیں ہوتا، اس وقت تک مالیاتی وفاقیت کے حقیقی ثمرات پاکستانی عوام تک نہیں پہنچ سکتے۔





تبصرے