ستر کی دہائی کا کراچی ایک الگ ہی اطمینان اور رونق کا حامل تھا۔ اس دور میں بوٹل گلی اور آرام باغ کے قریب واقع 'صابری نہاری' کی خوشبو سے مہکتی فضا آج بھی پرانے کراچی والوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ نہاری کا ذائقہ محض مصالحوں کا مرکب نہیں بلکہ یہ ایک ایسا پکوان ہے جس کی تیاری میں صدیوں کی تحقیق، صبر اور مہارت شامل رہی ہے۔ نہاری کے بنانے کے انوکھے اور ٹھہرے ہوئے انداز میں ہی اس کا اصل ذائقہ چھپا ہے۔

نہاری کی تاریخ کے بارے میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ اس کا تعلق طبِ مشرق یعنی حکمت سے بھی رہا ہے۔ دہلی اور لکھنؤ کی شدید سردیوں میں اسے سینے کی جکڑن، نزلہ، زکام اور بخار سے بچاؤ کے لیے ایک طبی غذا کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا تاکہ جسم میں حرارت برقرار رہے۔ عربی زبان کے لفظ 'نہار' یعنی صبح سے نکلنے والا یہ نام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسے خاص طور پر طلوعِ آفتاب کے وقت کھایا جاتا تھا۔ اٹھارویں صدی کے آخری حصے میں، جب مغلیہ سلطنت زوال کی طرف گامزن تھی، نہاری نے یا تو پرانی دہلی میں جامع مسجد کی گلیوں میں جنم لیا یا پھر اودھ کے نوابوں کے شاہی باورچی خانوں میں اسے تیار کیا گیا۔

نوابوں کے ناشتے سے مزدوروں کی خوراک تک

ابتدائی دور میں نہاری دہلی اور لکھنؤ کے نوابوں اور امیر گھرانوں کا پرتعیش ناشتہ ہوا کرتی تھی۔ فجر کی نماز کے بعد نوابین بونگ کے گوشت اور نلی کے شوربے سے تیار کردہ نہاری کا ناشتہ کرتے اور پھر اس کے ثقیل ہونے کی وجہ سے ظہر تک سو جاتے تھے۔ تاہم جلد ہی اس پروٹین سے بھرپور غذا کی افادیت کا اندازہ ان معماروں اور مزدوروں کے حوالے سے لگایا گیا جو اس دور میں محل، حویلیاں، سڑکیں اور ریلوے لائنیں تعمیر کر رہے تھے۔ مزدوروں کو روزانہ کی اجرت کے بدلے صبح کے وقت نہاری کھلائی جانے لگی، کیونکہ اس کے اعلیٰ پروٹین اور دھیرے دھیرے خون میں شامل ہونے والی توانائی کے باعث انہیں دن بھر بھوک کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ یہ روایت آج بھی قائم ہے جہاں مزدور سخت محنت کے لیے اور خوش خوراک لوگ اختتامِ ہفتہ پر نہاری کا انتخاب کرتے ہیں۔

روایتی طور پر نہاری کو رات بھر یعنی چھ سے آٹھ گھنٹے تک ہلکی آنچ پر پکایا جاتا تھا تاکہ بونگ اور نلی کا گودا شوربے میں مکمل طور پر رچ بس جائے۔ دیگ کے ڈھکن کو آٹے کی لئی سے بند کر دیا جاتا تھا تاکہ بھاپ باہر نہ نکلے اور گوشت مصالحوں کے ساتھ مل کر نرم ہو جائے۔ نلی اور مغز کا اضافہ نہاری کے ذائقے کو مزید دوبالا کر دیتا ہے۔ پرانی دہلی کے روایتی نہاری فروشوں میں ایک منفرد روایت یہ بھی مشہور ہے کہ وہ روزانہ پکی ہوئی نہاری کا ایک پیالہ بچا کر اگلے دن کی نئی دیگ میں شامل کر دیتے ہیں، تاکہ ذائقے کا تسلسل اور تاریخی رشتہ برقرار رہے۔

گھر میں روایتی نہاری تیار کرنے کا طریقہ

اگرچہ آج کل بازار میں تیار مصالحے دستیاب ہیں، لیکن اصل اور روایتی ذائقہ گھر کے پسے ہوئے مصالحوں اور صبر آزما طریقے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ نہاری بنانے کے لیے 5 پاؤنڈ بونگ کے گوشت کو 1¼ کپ تیل میں تیز آنچ پر بھونیں، پھر اس میں نمک، 3 چائے کے چمچ گرم مصالحہ، 3 چائے کے چمچ سرخ مرچ، 4 چائے کے چمچ دھنیا پاؤڈر، 1½ کھانے کے چمچ ادرک، 1½ کھانے کے چمچ لہسن اور 1½ چائے کے چمچ ہلدی شامل کر کے اچھی طرح ملائیں۔

اس کے بعد دیگچی میں 10 گلاس پانی ڈالیں، جبکہ 6 کھانے کے چمچ سفید آٹے کو 4 گلاس پانی میں گھول کر سالن میں شامل کریں تاکہ گوشت پانی میں اچھی طرح ڈوب جائے۔ جب ابال آ جائے تو اس میں مخصوص پسا ہوا نہاری مصالحہ شامل کریں۔

اس خاص مصالحے کی تیاری کے لیے 2 عدد پیپلی، 2½ کھانے کے چمچ ثابت دھنیا، ½ چائے کا چمچ جاوتری، ½ چائے کا چمچ جائفل، 2 عدد تیز پات، 2 دارچینی کی ڈنڈیاں، 4 بڑی الائچی، 20 عدد لونگ، 10 چھوٹی الائچی، 1 چائے کا چمچ زیرہ، 1 کھانے کا چمچ کالی مرچ، 4 کھانے کے چمچ سونف اور ¼ چائے کا چمچ بادیان کو باریک پیس لیا جاتا ہے۔

یہ مصالحہ ڈالنے کے بعد آنچ ہلکی کر دیں اور نہاری کو چھ سے سات گھنٹے تک پکنے دیں۔ آخر میں دو درمیانی پیاز کو الگ سے تلی ہوئی حالت میں گولڈن براؤن کر کے نہاری میں شامل کریں اور مزید 15 سے 20 منٹ پکائیں۔ باریک کٹا ادرک، ہری مرچیں، ہرا دھنیا، لیموں اور گرم نان اس تاریخی ڈش کے لوازمات کو مکمل کرتے ہیں۔