پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں خاموشی سے ایک بڑی تبدیلی جنم لے رہی ہے، جہاں روایتی نوکریوں کی قلت کے دور میں لاکھوں نوجوان آن لائن عالمی منڈی کا رخ کر رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ترین اعداد و شمار اس رجحان کی تصدیق کرتے ہیں، جن کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے 10 ماہ کے دوران پاکستانی فری لانسرز نے 950 ملین ڈالر یعنی 95 کروڑ ڈالر سے زائد زرمبادلہ ملک میں لایا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں یہ آمدن 49 فیصد زیادہ ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل خدمات کی عالمی طلب میں پاکستانی ماہرین کا حصہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
فری لانسنگ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں کسی ایک ادارے کی مستقل ملازمت کے بجائے دنیا بھر کے گاہکوں کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ Upwork اور Fiverr سے لے کر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز نے پاکستانی نوجوانوں کے لیے عالمی منڈیوں کا راستہ کھول دیا ہے۔ پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر عمران بتادہ کے مطابق ملک میں اس شعبے سے متعلق عمومی آگاہی میں گزشتہ کچھ سالوں کے دوران زبردست اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث اب محض بڑے شہروں تک محدود رہنے کے بجائے دور دراز علاقوں کے افراد بھی آن لائن آمدن حاصل کر رہے ہیں۔
30 لاکھ کی افرادی قوت اور نئے چیلنجز
تخمینہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں فری لانسنگ کرنے والوں کی تعداد تقریباً 30 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ آن لائن کورسز، نجی تربیتی اداروں، حکومتی منصوبوں اور غیر سرکاری تنظیموں نے نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتیں سکھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس تربیت کے نتیجے میں ایسے افراد بھی معاشی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں جن کے لیے روایتی دفتروں یا کاروبار میں جگہ بنانا ممکن نہیں تھا۔ تاہم، اس بڑی تعداد کو منظم کرنا اور ان کی معاشی سرگرمیوں کو پائیدار بنانا ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔
عالمگیر ڈیجیٹل مارکیٹ میں اب صرف بنیادی کمپیوٹر یا گرافک ڈیزائننگ کی مہارتیں کافی نہیں رہیں۔ مصنوعی ذہانت (AI) کے مسلسل پھیلاؤ نے آن لائن کام کا پورا ڈھانچہ تبدیل کر دیا ہے۔ عالمی منڈی میں بقا کے لیے پاکستانی نوجوانوں کو اب اے آئی ٹولز کے ساتھ ساتھ اپنی 'سافٹ اسکلز' یعنی باہمی رابطے کی صلاحیت، وقت کی پابندی، کلائنٹ سے گفتگو اور پیشہ ورانہ رویوں کی بہتری پر توجہ دینا ہوگی، کیونکہ ان کا مقابلہ صرف مقامی سطح پر نہیں بلکہ بھارت، فلپائن اور دیگر ممالک کے ماہرین سے ہے۔
ادارہ جاتی تعاون اور بینکنگ سہولیات کی ضرورت
اس شعبے کو عارضی سہارے سے نکال کر ایک مستقل معاشی اثاثہ بنانے کے لیے فری لانسرز کو بہتر بینکاری نظام اور ادائیگی کے آسان طریقوں تک رسائی دینا بنیادی شرط ہے۔ پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے مطابق، حکومت اور بینکنگ شعبے کے باہمی تعاون سے ہی اس کمیونٹی کے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے ملک گیر سطح پر آن لائن اور باقاعدہ ورکشاپس کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ نئے رجحانات اور ادائیگی کے مسائل پر گاہکوں اور فری لانسرز کی رہنمائی کی جا سکے۔
پاکستان کے لیے 950 ملین ڈالر کی رقم اور 49 فیصد کی سالانہ نمو محض ایک اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ ملک کے پاس غیر ملکی زرمبادلہ کمانے کا ایک نیا اور تیز رفتار ذریعہ موجود ہے۔ اگر تربیتی سہولیات، بینکاری کے نظام اور پالیسی سازی پر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو یہ 30 لاکھ افراد ملکی معیشت کا سب سے مضبوط ڈیجیٹل ستون بن سکتے ہیں۔





تبصرے