پاکستان عالمی سطح پر شدید ترین آبی قلت کا سامنا کرنے والے ممالک کی فہرست میں 14 ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے، لیکن ملک کا سب سے بڑا معاشی دھارا اب بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔ 'سسٹین ایبل ایگریکلچر اِن پاکستان: کین پاکستان میٹ اِٹس فیوچر فوڈ ریکوائرمنٹس؟' کے عنوان سے جاری ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ نے ملکی زراعت کے بنیادی ڈھانچے پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 1951ء میں جہاں فی فرد سالانہ 5,260 مکعب میٹر میٹھا پانی میسر تھا، وہیں اب یہ مقدار گھٹ کر 1,000 مکعب میٹر سے بھی نیچے آ چکی ہے۔ یہ گراوٹ ظاہر کرتی ہے کہ ملک پانی کے شدید ترین دباؤ کی لکیر کو عبور کر چکا ہے۔

عموماً پاکستان میں زرعی زوال اور فصلوں کی تباہی کا تمام تر ملبہ موسمیاتی تبدیلی پر ڈال کر ذمہ داری سے جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم اس تحقیقی مطالعے سے ثابت ہوتا ہے کہ موسمیاتی شدت محض ایک جزوی وجہ ہے۔ اصل تباہی فرسودہ آبپاشی نظام، پانی کے ضیاع، مٹی کی زبوں حالی اور غیر منطقی زرعی پالیسیوں سے پھیلی ہے۔ کیمیائی کھادوں اور زرعی ادویات کا بلا ضرورت استعمال، مسلسل ایک ہی فصل اگانے کی روش اور پانی دینے کا ناقص طریقہ زمین کی فطری صلاحیت کو ختم کر رہا ہے، جس کی وجہ سے جب بھی کوئی سیلاب یا خشک سالی آتی ہے تو ہمارا زراعت کا نظام ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔

دریائے سندھ پر انحصار اور مٹی کی تباہی

پاکستان کی تقریباً 90 فیصد زراعت دریائے سندھ کے طبعی نظام اور اس سے نکلنے والے نہری جال کی مرہونِ منت ہے۔ محدود ہوتے ہوئے پانی کی صورتحال میں یہی طریقہ کار زمین پر مزید دباؤ بڑھا رہا ہے۔ ضرورت سے زیادہ آبپاشی صرف پانی کے قیمتی قطرے ہی ضائع نہیں کرتی بلکہ زمینوں کو سیم و تھور کا شکار بنا کر ماحول کے قدرتی توازن کو بھی بگاڑ دیتی ہے۔ مسلسل ایک ہی فصل کی کاشت سے زمین اپنے ضروری اجزا کھو بیٹھتی ہے اور کسان اسے سنبھالنے کے لیے مزید کیمیائی کھادیں ڈالتا ہے، یوں یہ چکر زمین کی مٹی کو مستقل طور پر بنجر بنانے کی طرف دھکیل رہا ہے۔

اس انتظامی بگاڑ کے ساتھ جب موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ملتے ہیں تو صورتحال مزید تشویشناک ہو جاتی ہے۔ غیر متوقع مون سون، بے وقت کی گرمی، طویل خشک سالی اور پیسٹ اٹیک (کیڑوں کے حملوں) نے کسان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ کسان کے لیے غیر معمولی موسم کا مطلب صرف فصل کی کم پیداوار نہیں ہوتا، بلکہ بیج، کھاد، ایندھن اور محنت کے سرمائے کا ڈوب جانا بھی ہوتا ہے۔

معاشی دھچکا اور کاغذی پالیسیوں کا داغ

زراعت صرف دیہی زندگی کا حصہ نہیں بلکہ قومی معیشت کی بنیادی رگ ہے۔ یہ شعبہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 24 فیصد کا حصہ دار ہے اور ملک کی 37 فیصد سے زیادہ افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ 24 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی غذائی ضروریات کا دارومدار بھی اسی پر ہے۔ اگر زرعی پیداوار میں یوں ہی تسلسل سے کمی آتی رہی تو اس کے اثرات براہِ راست اشیائے خوردونوش کی قیمتوں، دیہی علاقوں کی آمدنی، برآمدات کی شرح اور ملک کے معاشی استحکام پر پڑیں گے۔

رپورٹ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو نئے قوانین یا نئی پالیسیوں کے ڈھیر لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ قومی موسمیاتی تبدیلی پالیسی، قومی غذائی تحفظ پالیسی، ری چارج پاکستان پروگرام اور گرین ٹیکسانومی فریم ورک جیسے انتظامی خاکے پہلے ہی موجود ہیں۔ اصل خرابی یہ ہے کہ یہ تمام اقدامات کاغذی کارروائیوں تک محدود ہیں اور کھیت کی سطح پر نافذ نہیں ہو پاتے اور نہ ہی کسان کو ان سے کوئی عملی فائدہ پہنچ رہا ہے۔

اس صورتحال سے نکلنے کے لیے زرعی توسیعی خدمات (ایگری کلچرل ایکسٹینشن سروسز) کی بحالی انتہائی ضروری ہے۔ محض جدید ٹیکنالوجی لانا کافی نہیں بلکہ کسان کو اس کے استعمال کی تربیت دینی ہوگی۔ اس کے لیے حکومت، تحقیقی جامعات اور نجی شعبے کے درمیان اشتراک عمل کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹیاں تحقیق اور جدید طریقے سکھائیں، نجی شعبہ نئی سہولیات مارکیٹ میں لائے اور حکومت کسانوں کو آسان مالیاتی سہولیات اور موسمیاتی خطرات سے تحفظ فراہم کرے۔ جب تک پالیسی کاغذی فائلوں سے نکل کر کسان اور کھیت تک نہیں پہنچے گی، ملک کے غذائی تحفظ پر لٹکتی تلوار ہٹائی نہیں جا سکے گی۔