سندھ کی بیوروکریسی کے اہم عہدوں کے لیے منعقد ہونے والا سی سی ای 24 (CCE-24) امتحان اس وقت محض ایک نتیجے کا تنازع نہیں رہا بلکہ صوبے میں انتظامی میرٹ پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر، سیکشن آفیسر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر جیسے گریڈ 16 اور 17 کے عہدوں کے لیے 4,300 سے زائد امیدوار میدان میں اترے، مگر تحریری امتحان کی حتمی فہرست سامنے آئی تو محض 70 افراد ہی کامیاب قرار پائے۔ اس غیر معمولی شرح کامیابی کے ساتھ ہی ڈیٹیل مارکس سرٹیفکیٹس میں سامنے آنے والی تکنیکی غلطیوں نے امیدواروں کو سراپا احتجاج بنا دیا ہے۔
مارکس شیٹس کے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی کہ کرمنالوجی اور ماحولیاتی سائنس جیسے 100 نمبروں کے پرچوں کو تفصیلی مارکس سرٹیفکیٹ میں 200 نمبروں کے دو الگ پرچوں کے طور پر ظاہر کیا گیا تھا۔ اگرچہ ابتدا میں اسے کلریکل یا ٹائپنگ کی غلطی سمجھا گیا، لیکن جب متعدد مضامین میں یہی صورتحال دکھائی دی تو امیدواروں کے خدشات بڑھنا شروع ہو گئے۔ سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) نے اس پر فوری وضاحت دینے کے بجائے معاملے کے زیرِ عدالت ہونے کا موقف اپنا کر خاموشی اختیار کر لی۔
سڑکوں کا احتجاج اور 'میرٹ بحالی' کی تحریک
6 مئی کو نتائج کا اعلان ہوتے ہی سوشل میڈیا سے شروع ہونے والے اعتراضات جلدی ہی ایک منظم احتجاج کی شکل اختیار کر گئے۔ 'سندھ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی' کے زیر اہتمام حیدرآباد میں ایس پی ایس سی کے دفتر کے باہر ایک طویل احتجاجی کیمپ قائم کیا گیا، جس کے بعد 13 مئی کو ایک بڑی ریلی نکالی گئی۔ اس احتجاج کا اثر اتنا گہرا تھا کہ 14 مئی کو سندھ اسمبلی میں بھی نتائج کی شفافیت اور میرٹ کی پامالی کے خلاف باقاعدہ قرارداد جمع کرائی گئی۔
اسی روز امیدواروں نے اپنے مطالبات کو وسعت دیتے ہوئے "مومنٹ فار ریسٹوریشن آف میرٹوکریسی" (میرٹ بحالی کی تحریک) کی بنیاد رکھی۔ اس تحریک کے تحت نہ صرف سی سی ای 24 کو منسوخ کر کے ازسرنو امتحان لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، بلکہ کمیشن کی موجودہ قیادت سے استعفیٰ اور گریڈ 16 اور 17 کی تمام تر بھرتیوں کی آزادانہ تحقیقات پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس احتجاج میں نواب شاہ، گھوٹکی، قمبر، عمرکوٹ، اسلام کوٹ اور گمبٹ سے تعلق رکھنے والے نوجوان شامل ہیں، جن میں سے بعض پہلے ہی سرکاری ملازمتوں میں موجود ہیں اور نتائج کی شفافیت کے لیے اپنا کیریئر داؤ پر لگا رہے ہیں۔
ہائی کورٹ سے آئینی عدالت تک قانونی معرکہ
سڑکوں پر مظاہروں کے ساتھ ہی یہ معاملہ قانونی معرکے میں تبدیل ہو گیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے ابتدائی سماعتوں کے دوران CCE-24 کے نتائج معطل کرتے ہوئے کمیشن سے تمام امتحانی ریکارڈ طلب کر لیا اور نتائج کے تحت مزید تقرریوں پر روک لگا دی۔ عدالت نے امتحانی ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے سربمہر کرنے کے احکامات جاری کیے تاکہ عدالتی جانچ کے دوران اس میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہ رہے۔
تاہم، سندھ پبلک سروس کمیشن نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نئی قائم شدہ وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا۔ کمیشن کا موقف تھا کہ امتحانی عمل مروجہ قوانین اور شفاف ضوابط کے مطابق مکمل کیا گیا ہے۔ جولائی میں وفاقی آئینی عدالت نے ہائی کورٹ کے عبوری احکامات کو معطل کر دیا، جس کے بعد ایس پی ایس سی کو کامیاب قرار دیے گئے 70 امیدواروں کے انٹرویوز کا عمل آگے بڑھانے کی اجازت مل گئی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف سڑکوں پر بیٹھے امیدوار نتائج کو مسترد کر رہے ہیں تو دوسری طرف قانونی راستے کے تحت تقرری کے اگلے مراحل طے کیے جا رہے ہیں۔
اعتماد کا بحران اور فارنزک آڈٹ کا مطالبہ
اس پورے تنازع کی اصل جڑ صرف امتحان میں ناکامی نہیں بلکہ پبلک سروس کمیشن پر امیدواروں کے اعتماد کی کمی ہے۔ جب تک مارکنگ، انٹرویو اور امتحانی پرچوں کی تیاری کا عمل غیر جانبدار اور شفاف نظر نہیں آئے گا، بیوروکریسی میں بھرتی کے پورے نظام پر سوالات قائم رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مظاہرین کا ایک بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ کسی غیر جانبدار ادارے کے ذریعے تمام امتحانی مواد کا فارنزک آڈٹ کرایا جائے۔
فارنزک آڈٹ کی ضرورت اس لیے محسوس کی جا رہی ہے تاکہ جوابی کاپیوں، نمبروں کے اندراج اور حتمی میرٹ لسٹوں کا شفاف جائزہ لیا جا سکے۔ آزادانہ جانچ ہی اس بات کا تعین کر سکتی ہے کہ آیا امیدواروں کے تحفظات درست ہیں یا انتظامی طریقہ کار قواعد کے مطابق تھا۔ سندھ میں جہاں نجی شعبے کی محدود گنجائش کے باعث مسابقتی امتحانات ہی نوجوانوں کے لیے معاشی اور سماجی ترقی کا اہم ذریعہ ہیں، وہاں میرٹ پر اٹھنے والے سوالات محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرتی ساخت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔





تبصرے