کھیتی باڑی کا وہ روایتی حساب کتاب اب بدل چکا ہے جہاں محض زیادہ پیداوار کو ہی کسان کی خوشحالی کی ضامن سمجھا جاتا تھا۔ پاکستان میں زراعت سے وابستہ افراد کو اس وقت ایک الگ ہی معاشی حقیقت کا سامنا ہے۔ زرعی ادویات، کھاد، ایندھن اور مشینری کے اخراجات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ اگر فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو بھی جائے، تو بھی بڑھتی ہوئی لاگت کسان کا حقیقی منافع نچوڑ لیتی ہے۔ اس صورتحال میں ملک کے زرعی شعبے کو دو بڑے چیلنجز درپیش ہیں، جن میں ایک طرف موسم کی غیر یقینی صورتحال ہے تو دوسری جانب بین الاقوامی منڈیوں کے مقابلے میں پیداواری اخراجات کا عدم توازن۔
کاشت کاری کے اس دباؤ میں فاسفورس والی کھاد، خاص طور پر ڈی اے پی کی اڑتی ہوئی قیمتیں ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہیں۔ پاکستانی زمینوں میں فاسفورس کی کمی ایک جانا پہچانا حقیقت ہے، لیکن مہنگی کیمیائی کھاد ہر کسان کی پہنچ میں نہیں رہی۔ کسانوں کے لیے اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ صرف بیرونی اور مہنگے ان پٹس پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی اور کم لاگت متبادلات پر توجہ دیں۔ گوبر، نامیاتی کھاد، فصلوں کی باقیات، بایو گیس کی سلری اور جانوروں کی ہڈیوں کا پاؤڈر ایسے ذرائع ہیں جو زمین کی مٹی کی صحت بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ فاسفیٹ سے بھرپور کمپوسٹ کی تیاری بھی ایک متبادل ہو سکتا ہے جس میں راک فاسفیٹ کو گل سڑی نامیاتی کھاد کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔
پانی، بجلی اور ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات
پانی کا استعمال بھی اب کسان کے لیے ایک بڑا معاشی بوجھ بن چکا ہے۔ ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے ٹیوب ویل چلانا پہلے سے کہیں زیادہ دشوار بنا دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جون 2021 تک پنجاب میں قائم 12 لاکھ 20 ہزار کے قریب ٹیوب ویلز میں سے تقریباً 10 لاکھ 40 ہزار ڈیزل سے چل رہے تھے۔ ایسی صورتحال میں شمسی توانائی پر منتقل ہونا ڈیزل ٹیوب ویلز کے لیے ایک اہم متبادل ہو سکتا ہے۔ تاہم صرف توانائی کا ذریعہ بدلنا ہی کافی نہیں، بلکہ کھیتوں تک پانی پہنچانے کے عمل میں ضیاع کو روکنا اور پانی کے ہر یونٹ کا مؤثر استعمال یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
زمین کی تیاری بھی کسان کی جیب پر بھاری پڑتی ہے۔ ایک فصل اٹھانے کے بعد دوسری فصل اگانے کے لیے بار بار ٹریکٹر چلانا ایندھن اور وقت دونوں کا ضیاع بنتا ہے۔ بعض طریقوں جیسے زیرو ٹِلج (کم سے کم جوتائی) کے ذریعے زمین کو بار بار جوتے بغیر اگلی فصل کاشت کی جا سکتی ہے، جبکہ ریلے کراپنگ کی مدد سے پہلی فصل کی موجودگی میں ہی دوسری فصل کی بوائی ممکن ہو جاتی ہے۔ اگرچہ یہ طریقے ہر زمین اور فصل کے لیے ایک جیسے موزوں نہیں ہوتے، مگر جہاں ممکن ہو وہاں تیاری کے اخراجات میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔
کٹائی کے نقصان سے منڈی کے استحصال تک
فصل اگانے کے بعد اس کی محفوظ کٹائی ایک اور مرحلہ ہے۔ گندم اور چاول جیسی اہم فصلوں میں کٹائی کے دوران 10 فیصد تک نقصان ہو سکتا ہے، جس کی بنیادی وجہ پرانی اور خراب ہارویسٹر مشینیں ہیں۔ اس لیے مشین کرائے پر لیتے وقت اس کی کارکردگی اور سابقہ کھیتوں کی حالت جانچنا کسان کو بڑے مالی نقصان سے بچا سکتا ہے۔
اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب فصل منڈی پہنچتی ہے۔ زرعی منڈیوں میں آڑھتی نظام، مقررہ شرح سے زائد کمیشن کی وصولی اور کسانوں کی کمزور سودے بازی کا موقع کسان کے منافع کو مزید محدود کر دیتا ہے۔ ان مسائل کا ایک حل کوآپریٹو یا کمیونٹی تنظیموں کی صورت میں اجتماعی فروخت ہے، جس سے چھوٹے کسان مل کر اپنی پیداوار بیچ سکیں اور مشینری مشترکہ طور پر کرائے پر لے کر منڈی میں اپنی سودے بازی کی طاقت بڑھا سکیں۔
حکومت سے سپورٹ پرائس اور سبسیڈی کا مطالبہ پرانا ہے، لیکن عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ اور محدود قومی وسائل کے باعث مسلسل مالی امداد کی گنجائش کم ہے۔ ایسے میں زرعی منڈی، جدید تحقیق اور آبی وسائل سے متعلق ادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ ساتھ کسان کے لیے بھی اب بقا کا فارمولا یہی ہے کہ وہ کم لاگت میں بہتر اور محفوظ پیداوار حاصل کر کے اسے منظم طریقے سے منڈی تک پہنچائے۔





تبصرے