پاکستانی کھیلوں کی تاریخ پر جب بھی بات ہوتی ہے تو کرکٹ کے ورلڈ کپ، ہاکی کی عالمی حکمرانی اور اسکواش کے تاریخی غلبے کی داستانیں ہی سرفہرست نظر آتی ہیں۔ لیکن ماضی کے انہی اوراق میں ایک ایسا دور بھی پوشیدہ ہے جب ٹیبل ٹینس جیسے کھیل نے پاکستان کو ایشیا کی بڑی ٹیموں کی صف میں لا کھڑا کیا تھا۔ 1980ء کی دہائی میں جب چین، جنوبی کوریا، شمالی کوریا، جاپان اور تائیوان جیسی عالمی قوتیں اس کھیل پر قابض تھیں، تو ان کی موجودگی میں ایشیا کی ٹاپ پانچ ٹیموں میں جگہ بنانا ناممکن تصور کیا جاتا تھا۔ ایسے ماحول میں پاکستان نے 1984 اور پھر 1990 کی ایشیائی چیمپئن شپ میں چھٹی پوزیشن حاصل کی اور دونوں بار روایتی حریف بھارت کو پیچھے چھوڑا۔
اس تاریخی عروج کی بنیاد کسی معجزے پر نہیں بلکہ برسوں کی منظم حکمتِ عملی اور درست انتظامی بصیرت پر رکھی گئی تھی۔ امروہہ میں پیدا ہونے والے ایس ایم سبطین کا ٹیبل ٹینس سے تعلق محض ایک اتفاق سے قائم ہوا جب ان کے ایک شاگرد نے کراچی ٹیبل ٹینس ایسوسی ایشن کے لیے ان کا نام تجویز کیا۔ یہی اتفاق آگے چل کر انتظامی انقلاب کا باعث بنا۔ 1970ء کی دہائی کے اوائل میں پاکستان ٹیبل ٹینس فیڈریشن کے نائب صدر بننے کے بعد انہوں نے 1972 میں بیجنگ میں پہلی ایشین چیمپئن شپ کے لیے قومی وفد کی قیادت کی۔ انہوں نے نہ صرف ایشین ٹیبل ٹینس یونین کے قواعد و ضوابط کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا بلکہ عرب اور مسلم ممالک کو اس تنظیم سے جوڑنے میں بھی پیش پیش رہے۔ بعد ازاں نومبر 1977 میں فیڈریشن کے سیکریٹری منتخب ہو کر انہوں نے چار سالہ تین مسلسل ادوار تک خدمات انجام دیں اور 1990 میں خود عہدے سے الگ ہو گئے۔
پاکستانی کھلاڑیوں کو عالمی معیار پر لانے کے لیے بین الاقوامی کوچنگ کا سہارا لیا گیا۔ 1975 سے 1978 کے درمیان یاؤ چن شو سمیت دو چینی کوچز کی خدمات حاصل کی گئیں، جنہوں نے مقامی کھلاڑیوں کو جدید تکنیک اور تندہی سے تربیت دی۔ اس تربیت کا نتیجہ 1984 میں اس وقت سامنے آیا جب اسلام آباد میں ساتویں ایشین ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ کا انعقاد ہوا، جس میں 20 ممالک نے شرکت کی۔ یہ اس وقت پاکستان میں کسی بھی کھیل کا سب سے بڑا بین الاقوامی اجتماع تھا، جس کی بدولت اسلام آباد کے لیاقت جمنازیم کا افتتاح بھی عمل میں آیا۔
کراچی کے کلب اور ایک خاندان کی بے مثال سرپرستی
اس کھیل کی اصل نرسری کراچی کا مقامی کلب کلچر تھا، جہاں اسلامیہ کلب، شرف آباد کلب، سینٹ جانز، وائی ایم سی اے اور امروہہ کلب میں دن رات مقابلے ہوتے تھے۔ 1955 کی قومی چیمپئن شپ کے رنر اپ ڈاکٹر عیسیٰ محمد اور بعد میں ان کے صاحبزادے ڈاکٹر فرحان عیسیٰ جیسے لوگوں نے اس ماحول کو جلا بخشی۔
ان تمام مراکز میں سب سے نمایاں کردار اسلامیہ کلب کا تھا، جس کی بنیاد 1951 میں ایک چھوٹے سے کرائے کے کمرے میں صرف دو میزوں کے ساتھ رکھی گئی تھی۔ اس کے بانی سیکریٹری مجید خان نے اپنی پوری زندگی اس کھیل کے نام کر دی۔ سولجر بازار میں دو ایکڑ زمین حاصل کر کے 10 جنوری 1959 کو کلب کا باضابطہ افتتاح کیا گیا، جو بعد میں ایک کثیرالمقاصد انڈور جمنازیم میں ڈھل گیا اور 27 جنوری 2001 کو اس کی نئی عمارت سامنے آئی۔ اسلامیہ کلب نے ہنگری، انگلینڈ، بھارت، ایران، مصر، چیکوسلواکیہ، سنگاپور اور امریکا سے کھلاڑیوں کو بلا کر 13 بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی کی۔ مجید خان کا یہ خاندانی شغف اس حد تک بڑھا کہ ان کے 11 بچوں نے ٹیبل ٹینس کھیلی، جن میں سے تین بیٹوں عارف خان، محبوب خان اور سہیل خان نے پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا۔
اس دور میں ٹیبل ٹینس صرف انفرادی سرگرمی نہیں بلکہ خاندانی ثقافت بن چکا تھا۔ سعیدہ سلطانہ اور الطاف علی، منیرہ فکری اور رقیہ فکری، جاوید حیات اور سہیل حیات، منصرم سیف اور فرجاد سیف، شاہین لطیف اور شہنواز لطیف، اور روبینہ، سیما و نازو شکور جیسے بہن بھائیوں کی جوڑیاں قومی ٹیم کا حصہ بنیں۔
عارف خان کا عروج اور زوال پذیر نظام کی تلخ حقیقت
اسلامیہ کلب کی ہی پیدا وار عارف خان اس دور کے سب سے تابان ستارے ثابت ہوئے۔ صرف 14 سال کی عمر میں 1974 کے تہران ایشین گیمز سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے عارف خان نے 1998 تک ربع صدی تک پاکستان کا پرچم بلند رکھا۔ 1983، 1987 اور 1993 میں قومی چیمپئن بننے والے عارف خان نے 1987 کے کولکتہ اور 1989 کے اسلام آباد سیف گیمز میں سنگلز کے سونے کے تمغے جیتے، جبکہ 1989 میں نازو شکور کے ساتھ مکسڈ ڈبلز کا گولڈ بھی اپنے نام کیا۔ 1984-85 میں وہ ایشیا میں 17ویں اور دنیا میں 67ویں نمبر پر آئے، جو کسی بھی پاکستانی کی بلند ترین رینکنگ ہے۔ انہوں نے اسلام آباد ایشین چیمپئن شپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں چین کے نمبر ون کھلاڑی اور اگلے مرحلے میں 1979 کے ورلڈ چیمپئن جاپانی کھلاڑی کو ہرا کر دنیا کو حیران کر دیا۔ 1990 میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔
اسی دور کے مربوط نظام کے نتیجے میں 1979 میں جاوید چوٹانی نے ورلڈ جونیئر ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ کے سنگلز میں طلائی تمغہ جیتا، جبکہ 1988 کے سیول اولمپکس میں جب ٹیبل ٹینس کو پہلی بار شامل کیا گیا تو فرجاد سیف نے اولمپک رِنگ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
تاہم یہ عروج زیادہ عرصے قائم نہ رہ سکا۔ وقت گزرنے کے ساتھ انتظامی سرپرستی ختم ہوتی گئی، کلب کلچر مٹ گیا اور کھیلوں کی اندرونی سیاست نے اس فعال نظام کو دبا دیا۔ 17 اکتوبر 2001 کو مجید خان کے انتقال کے بعد عارف خان نے اس ورثے کو سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن بنیادی انفراسٹرکچر اور حکومتی توجہ نہ ہونے کے باعث پاکستان ایشیائی صف سے اوجھل ہوتا چلا گیا۔ ٹیبل ٹینس کا سنہری دور اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی ہیرو اتفاقاً نہیں بنتے، بلکہ ان کے پیچھے کلب، مستقل مقابلے، غیر ملکی تجربہ اور مخلص منتظمین کا ایک پورا نظام کارفرما ہوتا ہے۔





تبصرے